Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال میں اچانک تباہ کن سیلاب کے بعد اتر پردیش اور بہار میں ہائی الرٹ

Updated: August 26, 2026, 7:37 PM IST | New Delhi

نیپال میں اچانک آئے تباہ کن سیلاب کے بعد اتر پردیش اور بہار میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، حکام نے زیریں علاقوں میں پانی کے بھاری بہاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں۔

Floods in Nepal threaten widespread destruction. Photo: INN
نیپال میں آئے سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کا اندیشہ ہے۔ تصویر: آئی این این

 بدھ کو نیپال کے دریائے بھوٹے کوسی میں اچانک  آنے والے تباہ کن سیلاب نے نوواکوٹ اور دھاڈنگ اضلاع کو تباہ کر دیا، جس نے ہندوستان کی ریاستوں بہار اور اتر پردیش میں الرٹ کی صورتحال پیدا کر دی، جہاں حکام نے نگرانی اور احتیاطی تدابیر میں شدت پیدا کر دی۔ دریائے بھوٹے کوسی، دریائے کوسی نظام کا ایک بالائی معاون دریا ہے، جو نیپال سے بہنے کے بعد شمالی بہار کے ضلع سپول میں داخل ہوتا ہے۔ہندوستانی حکومت نے نیپال-چین سرحد کے قریب مشتبہ گلیشیئل جھیل پھٹنے کے باعث سیلاب (GLOF) کی سرگرمیوں کے درمیان، ہندوستانی سرحد سے تقریباً ۱۶۰؍کلومیٹر دور فرکے کھولا میں نیپال کے دریائے تریشولی کی پانی کی سطح میں اچانک اضافے کی اطلاع کے بعد ایک ایڈوائزری جاری کی۔ ایڈوائزری میں کہا گیا کہ سیلاب کی لہر زیریں علاقوں میں دریائے گنڈک کی طرف بڑھنے کی توقع ہے، تاہم اس کے سفر کے دوران اس کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے۔ 

دریں اثنا، اتر پردیش اور بہار کے حکام نے زیریں علاقوں میں پانی کے بھاری بہاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ نیپال سے بہار میں کئی بڑے دریا بہتے ہیں، جن میں خاص طور پر دریائے گنڈک (جسے نارائنی بھی کہا جاتا ہے) اور دریائے کوسی شامل ہیں۔ یہ دریا ہمالیہ اور تبت سے نکلنے کے بعد ہندوستانی میدانی علاقوں میں داخل ہوتے ہیں۔سیلاب کے الرٹ کے درمیان بہار نے ایڈوائزری جاری کی ۔وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا، ’’ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی اس کی نگرانی کر رہے ہیں، اور میں بھی فوری طور پر میٹنگ کر رہا ہوں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں خود وہاں جاؤں گا۔‘‘ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا، ’’نیپال میں دریائے گنڈک کے بالائی طاس میں اچانک سیلاب اور پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کے امکان کے سبب بہار میں صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔‘‘ 

بعد ازاں انتظامیہ نے ایک ہدایت بھی جاری کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبرائے بغیر چوکنا رہیں اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ ہدایات میں کہا گیا، ’’عوام کو گھبرانا نہیں چاہیے، لیکن انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ دریائے گنڈک کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگ غیر ضروری طور پر دریا کے قریب نہ جائیں۔ کسی بھی افواہ کو نظر انداز کریں اور صرف انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری معلومات پر بھروسہ کریں۔ پانی کی سطح میں اضافے یا کسی اور انتباہ کی صورت میں، انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر فوری عمل کریں۔‘‘ بہار کے اضلاع مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن، گوپال گنج اور مظفرپور میں حکام نے تیاریوں میں اضافہ کیا، جس میں کمزور علاقوں سے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بھی شامل ہے۔بہار میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے فون پر بات کی۔ شاہ نے بہار حکومت کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF) کو بھی کسی بھی ہنگامی صورت حال کا جواب دینے کے لیے متحرک کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اتر پردیش نے نگرانی اور تیاریاں تیز کیںاتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نیپال میں سیلاب کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کمزور اضلاع کے مقامی حکام کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی۔یوگی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’نیپال کے ضلع راسووا میں دریائے بھوٹے کوسی میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہونے والا نقصان انتہائی پریشان کن ہے۔ تمام لوگوں کی حفاظت کے لیے بھگوان پشوپتی ناتھ سے دعا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ نیپال کی سرحد سے متصل علاقے کے اضلاع مہاراج گنج اور کشی نگر کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’دریائے گنڈک اور نارائنی کی پانی کی سطح میں اضافے اور اس کے اثرات سے اتر پردیش کے اضلاع مہاراج گنج اور کشی نگر میں سیلاب کے امکان کے پیش نظر، مقامی انتظامیہ کو مکمل طور پر چوکنا رہنے اور ضروری تیاریاں یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ نیپال سے اتر پردیش میں بہنے والے بڑے دریاؤں میں گھاگھرا (کرنالی)، شاردا (کالی)، گنڈک اور راپتی شامل ہیں۔نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق، سیلاب سے متاثرہ علاقے سے کم از کم۳۸۴؍ مسافر لاپتہ بتائے جاتے ہیں، جن میں۲۹۱؍ غیر ملکی اور۹۳؍ نیپالی شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق غیر ملکیوں میں۱۰۵؍ ہندوستانی شہری ہیں۔نیپالی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیلاب کا پانی سرحد کے تبت والے حصے سے آیا، جس نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا اور نیپال کے کئی دیہات بہا کر لے گئے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے نیپال کے وزیر اعلیٰ بالین شاہ سے بات کی اور تباہ کن سیلاب میں جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا۔وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا، "وزیر اعظم بالین شاہ سے بات کی اور نیپال میں سیلاب سے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ہندوستان کے عوام اس مشکل وقت میں نیپال کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہندوستان نیپال کو ہر ممکن انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہماری ٹیمیں امداد اور بچاؤکی کوششوں پر قریبی ہم آہنگی کر رہی ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK