Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم میں ’’نو بیگ ڈے‘‘، بالٹی سے تکیہ تک بطور متبادل

Updated: August 26, 2026, 10:02 PM IST | Mumbai

آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم میں ’’ نو بیگ ڈے‘‘ کا اہتمام کیا گیا ، جس کے تحت طلبہ نے روائتی بیگ کے بجائے بالٹی سے لے کر تکیہ کے غلاف تک بیگ کے متبادل کے طور پر استعمال کئے، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایسے کیمپس میں جہاں لیپ ٹاپ، کیس اسٹڈیز اور پریزنٹیشنز روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں، طلبہ’’ اپنے بیگ پیچھے چھوڑ کر‘‘معمول سے ہٹنے کا ایک غیرمعمولی طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔ ’’نو بیگ ڈے‘‘کا رجحان ہندوستان کی اعلیٰ تعلیم کے کیمپس میں اپنی جگہ بنا رہا ہے، جہاں آئی آئی ٹی ممبئی اور آئی آئی ایم لکھنؤ کے طلبہ نے حال ہی میں ایک عام کلاس کے دن کو تخلیقی صلاحیتوں اور رفاقت کی ایک دلچسپ مشق میں تبدیل کر دیا۔اس تصور کی سادگی یہ ہے کہ روایتی بیک بیگ اور لیپ ٹاپ بیگ ممنوع ہیں، جبکہ طلبہ اپنی اشیاء لے جانے کے لیے تقریباً کچھ بھی استعمال کر سکتے ہیں، بالٹی، دراز، چھتریاں، پریشر ککر، تکیہ کے غلاف، کپڑے کے ہینگرز اور یہاں تک کہ سائیکلیں۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۱۶۱۱ء میں تعمیر ۳۶۰؍ ٹن وزنی ہیروساکی کیسل کو ۱۸۰۰؍ منتخب افراد نے کھینچا

آئی آئی ٹی بمبئی میں، طلبہ نے اپریل میں اپنے آخری لیکچر کو نو بیگ ڈے کے طور پر منایا۔ اس موقع کی ایک ویڈیو میں طلبہ کو اپنی کلاس روم کی ضروری اشیاء لے جانے کے لیے بالٹیوں، کرسیوں، گتے کے ڈبوں، ہینگرز، چھتریوں اور یہاں تک کہ ایک سائیکل کے ساتھ آتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ سرگرمی ان کے آخری لیکچر کو ہلکے پھلکے انداز میں منانے کا بھی ایک ذریعہ بنی۔آئی آئی ایم لکھنؤ میں، پی جی پی بیچ کے سیکشن ایف کے طلبہ نے حال ہی میں طلبہ کی زیرقیادت ایک نو بیگ ڈے کا اہتمام کیا۔ بعد ازاں انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا کہ یہ کوئی سرکاری سرگرمی نہیں تھی، بلکہ طلبہ کی طرف سے کلاس، کیس اسٹڈیز، پریزنٹیشن اور ڈیڈ لائنز کے معمول سے ہٹ کر ایک قدم اٹھانے کی کوشش تھی۔ طلبہ کے لیے، یہ مشق غیرمعمولی اشیاء کے بارے میں کم اور روزمرہ کی عادت پر سوال اٹھانے کے بارے میں زیادہ تھی۔ پی جی پی کے طلبہ اشون نارائن اور شری وتسھ اگروال نے کہا، ’’بیگ طلبہ کی زندگی کا اتنا عام سا حصہ ہے کہ ہم شاذ و نادر ہی اس پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس سرگرمی کو تخلیقی صلاحیتوں کا ایک چھوٹا سا تجربہ قرار دیا۔ان دونوں نے کہا کہ اس مشق کا ایک بڑا پیغام بھی تھا: جو ایک دلچسپ تجربے کے طور پر شروع ہوا اس نے دکھایا کہ تخلیقی صلاحیت کیسے ابھر سکتی ہے جب مانوس معمولات میں خلل ڈالا جائے اور طلبہ کو روزمرہ کی اشیاء کو مختلف انداز میں دیکھنے پر مجبور کیا جائے۔ طلبہ کے استعمال کردہ متبادلوں میں دراز، چھتریاں، بالٹیاں، گتے کے ڈبے، لانڈری بیگ، تکیے کے کور، بید ٹیبلز، وہیل چیئرز اور کیتلیاں شامل تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: صرف ۲۵ء۸؍ فیصد گریجویٹس کو اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت ملتی ہے: نیتی آیوگ

اسکول اسپرٹ ایکٹیویٹی سے کیمپس کلچر تکیہ فارمٹ خود نیا نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، ’’اینیتھنگ بٹ اے بیگ ڈے‘‘ کو اکثر اسکول یا کیمپس اسپرٹ سرگرمی کے طور پر منظم کیا جاتا ہے، جو طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے لوازمات غیرروایتی اشیاء میں لے کر جائیں۔ ہندوستان میں، یہ آئیڈیا تیزی سے کالج کیمپس میں نظر آنے لگا ہے، جس میں حصہ لینے والے طلبہ کی ویڈیوز اکثر سوشل میڈیا پر مقبول ہوتی ہیں۔ اس کی ابتدائی وسیع پیمانے پر رپورٹ ہونے والی مثالوں میں سے ایک۲۰۲۳ء میں چنئی کے ویمن کرسچن کالج کی تھی، جہاں طلبہ اپنی اشیاء پریشر ککر، لانڈری کی ٹوکریوں، بالٹیوں، گتے کے ڈبوں اور تکیے کے کور میں لے کر آئے تھے۔اس کی کشش کا ایک حصہ اس کی سادگی میں ہے۔ نہ تو کسی وسیع انتظامات کی ضرورت ہے اور نہ ہی مہنگے آلات کی بس ایک اصول’’ روایتی بیگ گھر پر چھوڑ دیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK