اِس سہ ماہی میں کچھ خاص نہیں رہا ، آئندہ ۲؍ ماہ انتہائی اہم

Updated: September 30, 2020, 12:43 PM IST | Agency | Mumbai

معاشی سرگر میوں کی بحالی سے متعلق کچھ رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہےکہ اگست اورستمبرکے دوران کاروبارکے کئی کلیدی شعبوں کی سرگرمیوں میںبھی بہتر ی کے اشارے ملے ہیںجن میں آٹوسیکٹر کافی اہم ہے اوراس سیکٹر میں کاروبار بہتر اورمثبت رہا ہے، اس کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی کاروبا ری سرگرمیاں رفتار پکڑ رہی ہیں

Picture. Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا اور لاک ڈاؤن کی پابندیوں کےسبب بحران سے دوچارمعیشت کیلئےجولائی تا ستمبرکی سہ ماہی میں بھی کچھ خاص نہیں رہا ۔ا کنامک ٹائمس کے ایک سروے میں ماہرین معاشیات نے شرح نمو کےمنفی ۱۲؍فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔مالی سال ۲۰۲۱ء کیلئےحالانکہ یہ اچھا اشارہ ہےلیکن بہر حال  یہ بڑا منفی عدد ہے۔فائنانشل سروسیز گروپ’ نومورا ‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا  ہےکہ  ہندوستان میںکاروباری اور معاشی سرگرمیاں بحال ہونے کی  رفتار ماہ کے آخری ہفتےیعنی ۲۷؍ ستمبرتک۸۱ء۶؍ فیصد رہ گئی جبکہ  اس سے پہلےکے ہفتے میں یہ ۸۲ء۳؍ فیصد تھی۔ ستمبر کی معاشی سرگرمیوں پراکنامک ٹائمس نے اپنی ماہانہ رپورٹس میں جو باتیں کہی ہیں وہ  ان  اندازوں سےکافی میل کھاتی ہیں۔ ای وے بل ، ایکسپورٹس اورمال بردار ریلوے جیسے اشاریوں سے اندازہ ہوتاہےکہ ان سے متعلقہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیوںمیںماہ درماہ بہتری آئے گی ۔نجی ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھنے سے پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت بڑھی ہے۔ اگست اورستمبرکے دوران کاروبارکے کئی کلیدی شعبوں کی سرگرمیوں میں بھی بہتر ی کے اشارے ملے ہیںجن میں آٹوسیکٹر کافی اہم  ہے اوراس سیکٹر میںکاروبار بہتر اورمثبت رہا ہے۔اس شعبےمیں مستقبل میں کیا ہوتا ہے یہ توتبھی معلوم  ہوگا جب آئندہ تہوار کے سیزن میںسرگرمیاںمزیدرفتا ر پکڑیں گی ۔  آٹو سیکٹر میں کاروباری گنجائش ۴؍ لاکھ کروڑ روپے تک پ ہے۔اس سیکٹر میں دیکھا جائے توستمبرکےد وران پیسنجر گاڑیاں اورموٹرسائیکل دونوں کی فروخت میں۲۰؍ سے۲۲؍فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔تہواروں کے موقع  آٹوکمپنیوں نے اپنے پروڈکٹس ڈیلروں کے حوالے کردئیے ہیں اسلئےستمبر میں ہول سیل گاڑیوں کی تعداد ریٹیل کے مقابلے زیادہ ہوںگی ۔دیہی  علاقوں میںسرگرمیاں بڑھنے کے سبب ٹریکٹر کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کمرشیل گاڑیوںکی فروخت  اب بھی کم ہے۔ فاسٹ موونگ کنزیومر گڈس (ایف ایم سی جی ) سیکٹر میں کاروباری گنجائش ۴ء۲؍ لاکھ کروڑ تک ہے۔ رواں ماہ اس سیکٹر میں نموقدرے کم رہی۔اگست میںاس شعبے میں نمو جہاں ۵-۶؍ فیصد تھی وہیں ستمبرمیں یہ ۳-۴؍ فیصد رہ گئی ۔ موجودہ صورتحال یہ ہےکہ صارفین سستی چیزوں کے استعمال کی طر ف راغب  ہورہے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کے سبب آمدنی غیر یقینی ہے۔ پائیدارمصنوعات  (کنزیومر ڈیوریبلز)کےشعبے میں کاروباری گنجائش ۷۵؍ ہزار کروڑ روپے تک ہے۔ اس میںٹیلی ویژن ، ریفریجریٹر ، ایئر کنڈیشن  اوردیگر ا لیکٹرانک سا مان شامل ہیں۔اس شعبے میں اگست کے مقابلے ستمبر میں فروخت میں ایک سے ۲؍ فیصد ہی اضافہ ہوا ۔جبکہ جولائی کے مقابلے اگست میں کافی اضافہ درج کیا گیا تھا ۔ستمبر میں مذہبی کیلنڈر کی وجہ سے صارفین نے ٹیلی ویژن وغیرہ خریدنے کو ترجیح نہیں دی لیکن  آئندہ تہواروں کے سیزن میں اس میں۳۰؍فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
 اسمارٹ فون کے بزنس میں بھی اگست کے مقابلے ستمبر میں بہتری رہی ۔اگست میں جہاں۱۲؍ ملین اسمارٹ فون فروخت   ہوئے وہیںستمبر میںیہ تعداد ۱۳؍ملین رہی۔۱۲ء۵؍ لاکھ کروڑ کی گنجائش  والے رئیل  اسٹیٹ  شعبے میں لاک ڈاؤن کے دیگر مہینوں کے مقابلے ستمبرمیںکافی رفتار دیکھی گئی   لیکن فروخت  لاک ڈاؤن سے پہلے کےدنوں کی صرف ۶۰؍ فیصد ہی ہے۔معلومات نکالے جانے کی کارروائیاںبڑھی ہیں۔ اگرصارفین خریدنے کیلئے تیار ہیں تورئیل  اسٹیٹ  ان دنوں میں خریداروں کا ہی مارکیٹ ہے۔ ۳۷؍ ہزارکروڑکی گنجائش کے حامل فوڈ ڈیلیوری بزنس میں اگست کے مقابلے ستمبر میں۱۰؍فیصد اضافہ درج کیا گیا ۔زومیٹو کا کہنا ہےکہ ان دنوںماقبل کورونا  کے۸۵؍ فیصد سرگرمیاں جاری ہیں۔دہلی اورممبئی میں فوڈ ڈیلیوری کا کاروبار بنگلور، حیدر آباد اور چنئی سے بہتر ہےجبکہ کولکاتا ،پٹنہ اورکچھ دیگر شہروں میں کورونا سے قبل جیسا ہی کاروبار چل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK