سپریم کورٹ نے بھی مودی سرکار کے اس قانون پر حیرت کااظہار کیا، مرکز اور کمیشن دونوں سے جواب طلب کیا
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 12:03 AM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے بھی مودی سرکار کے اس قانون پر حیرت کااظہار کیا، مرکز اور کمیشن دونوں سے جواب طلب کیا
سپریم کورٹ نے بھی مودی حکومت کے پاس کردہ اُس قانون پر سنگین آئینی تشویش کااظہار کیا ہے جس میں چیف الیکشن کمشنر اوردیگرکمشنرس کو قانونی کارروائی اور مقدموں سےتاحیات استثنیٰ فراہم کیاگیاہے۔ اس قانون کے تحت بطور الیکشن کمشنر کئے گئے کسی بھی اقدام پر سبکدوشی کے بعد بھی کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ اس کے خلاف داخل کی گئی پٹیشن کو پیر کو سماعت کیلئے منظور کرتےہوئے سپریم کورٹ نے مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ کیا صدر جمہوریہ اور گورنر تک کو نہ ملنے والی یہ رعایت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کو دی جا سکتی ہے۔ ’لوک پرہری‘ نامی این جی او کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز اور الیکشن کمیشن کو جاری کئے گئے نوٹس پر ۴؍ ہفتوں میں جواب مانگا ہے۔ یہ سماعت چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ میں ہوئی۔ این جی او نے اس طرح کی رعایت کو غلط قرار دیا ہے۔ کانگریس پارٹی بھی اس طرح کی مخالفت درج کرا چکی ہے۔
مرکز کی مودی حکومت ۲۰۲۳ء میں یہ قانون لائی تھی۔ اس قانون کے مطابق کوئی بھی عدالت سرکاری ڈیوٹی میں کئے گئے کاموں (جیسے انتخابی فیصلے، بیان-ردعمل) کیلئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کے خلاف ایف آئی آر یا مقدمہ درج نہیں کر سکتا۔ یہ تحفظ موجودہ اور سابق دونوں کمشنرس کو حاصل ہے۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ عہدہ پر رہنے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی ان پر مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔ لوک پرہری نےعرضی میںاس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عہدہ پر رہتے ہوئے کوئی غلط کام کرنے کے بعد بھی مقدمہ درج نہ ہونا ٹھیک نہیں ہے۔