Updated: February 27, 2026, 10:07 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے جمعہ کو مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویو (ایس آئی آر) کی نگرانی کرنے والے عدالتی افسران کے لئے الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری کردہ ٹریننگ ماڈیول پر ریاستی حکومت کے اعتراض کو ماننے سے انکار کردیا، عدالت نے کہا کہ افسران آزادنہ کام کریں گے ، تاہم عدالت نے انتخابی کمیشن کو ہدایت دی کہ ابتدائی لسٹ تیار ہونے کےبعد اسے اپلوڈ کریں۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے جمعہ کو مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویو (ایس آئی آر) کی نگرانی کرنے والے عدالتی افسران کے لئے الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری کردہ ٹریننگ ماڈیول پر ریاستی حکومت کے اعتراض کو ماننے سے انکار کردیا، عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ منطقی تضاد اور غیر شمار شدہ زمروں کے تحت آنے والے افراد کے ناموں پر دعووں اور اعتراضات کے فیصلے سے متعلق ہے۔ عدالت نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں اور کارروائی آگے بڑھنی چاہیے۔
واضح رہے کہ سینئر وکیل کپل سبل نے ریاستی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کے ذریعے یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ عدالتی افسران کو ماڈیول دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کن دستاویزات پر غور کرنا ہے اور کن دستاویزات کو زیر غور نہیں لانا ہے، جبکہ عدالت کے سابقہ حکم میں کہا گیا تھا کہ اس فریم ورک کا فیصلہ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کریں گے۔
تاہم، چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائمالیہ باغچی کی بنچ نے واضح کیا کہ عدالتی افسران آزادانہ طور پر کام کریں گے۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے کہا کہ براہ کرم اس عمل کو روکنے کے لیے معمولی بہانے نہ بنائیں، اسے مکمل ہونا چاہیے، جوڈیشل افسران کو کام کرنے دیں، وہ آزادانہ طور پر کام کریں گے۔‘‘
واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ووٹرلسٹ کی خصوصی نظر ثانی مہم میں ریٹائرڈ ججوں سمیت عدالتی افسران کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باغچی اور جسٹس وپن پنچولی کی بنچ نےاس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے درمیان تعاون کی واضح کمی ہے۔ بنچ نے اس پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کاکھیل چل رہاہے اور یہ دونوں کے درمیان اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن سے اس بات کو یقینی بنانے کو کہا کہ سپلیمنٹری ووٹر لسٹ اپ ڈیٹ ہوتے ہی اپ لوڈ کی جائیں۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال انتخاب سے قبل ریاست میں ووٹرلسٹ کی خصوصی نظر ثانی مہم کا فیصلہ کیا ، جس کے طریقہ کار پر اعتراض جتاتے ہوئے مغربی بنگال حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اب اس معاملے میں عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔