• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’این سی ای آر ٹی نصاب  پر وزیر اعظم کی ناراضگی محض دکھاوا‘‘

Updated: February 27, 2026, 10:59 PM IST | New Delhi

’عدلیہ میں بدعنوانی‘ کے باب پروزیر اعظم مودی کے ردعمل کومنافقت قرار دیا، جے رام رمیش نے کہا:وزیر اعظم نے اسرائیل میں بھی اخلاقی بزدلی کا مظاہرہ کیا

Congress leader Jairam Ramesh has surrounded the Modi government on several issues.
کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے کئی موضوعات پر مودی حکومت کو گھیرا ہے

 کانگریس نے این سی ای آر ٹی کی آٹھویں  جماعت کی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی پر باب شامل کئے جانے پر وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ناراضگی کے اظہار کوبناوٹی قرار دیتے ہوئے اسکی سخت تنقید کی۔ پارٹی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ماہرین تعلیم کے ایک ایسے نیٹ ورک کی قیادت کی ہے جنہوں نے نصابی کتابوں کو اپنے نظریاتی وائرس سے متاثر کر کے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ کوئی حادثاتی چوک نہیں ہے بلکہ ایک منظم نظریاتی دراندازی کی مہم کا حصہ ہے۔
 کانگریس پارٹی نے اسرائیل کے دورے پروزیر اعظم مودی کے ذریعہ غزہ کی نسل کشی کا ذکر نہ کرنے کو بھی اخلاقی بزدلی سے تعبیر کیا۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری وکمیونی کیشن انچارج جے رام رمیش نے کہا’’اسرائیل میں حقیقی اخلاقی بزدلی کا مظاہرہ کرنے کے بعد، وزیر اعظم اب این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ واضح طور پر، نقصان پر قابو پانے کی کوشش میں، یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں میں عدلیہ کے تنقیدی حوالوں سے سخت ناخوش ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ماہرین تعلیم کے ایک ایسے نیٹ ورک کی قیادت کی ہے جنہوں نے نصابی کتابوں کو اپنے نظریاتی وائرس سے متاثر کر کے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ کوئی حادثاتی چوک نہیں ہے بلکہ ایک منظم نظریاتی دراندازی کی مہم کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم مودی خود نصابی کتابوں کو دوبارہ لکھنے کے لیے ناگپور کے فرقہ وارانہ ماحولیاتی نظام کی رہنمائی اور تشکیل کر رہے ہیں۔‘‘
 جے رام رمیش نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کو ناراض کرنے والی نصابی کتابوں سے خود کو دور کرنے کی ان کی کوشش سراسر منافقت ہے۔ سپریم کورٹ کیلئے اگلا منطقی قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس بات کی مکمل چھان بین کا حکم دے کہ نصابی کتب کیسے دوبارہ لکھی گئیں اور کس طرح اس کو پولرائزیشن اور سیاسی حساب کتاب چکانے کے آلے میں تبدیل کیا گیا۔
 خیال رہے کہ کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیر اعظم مودی اسرائیل کی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران غزہ میں ہزاروں بے گناہ مرد، عورتوں  اور بچوں کی نسل کشی کا ذکر کریں اور ان کیلئے انصاف کا مطالبہ کریں۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نےو زیر اعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاتھا کہ وزیر اعظم اسرائیل کے اپنے دورے پر کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں ہزاروں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کی نسل کشی کا ذکر کریں اور ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے مزید کہاتھا کہ ہندوستان ایک آزاد ملک کے طور پر ہماری پوری تاریخ میں حق کیلئے کھڑا رہا ہے، ہمیں دنیا کو سچائی، امن اور انصاف کی روشنی دکھاتے رہنا چاہیے۔تاہم ،وزیر اعظم مودی کے خطاب میں  غزہ میں نسل کشی کا ذکر نہیں کیا گیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK