Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام دل بدلی، یوگی-شنکراچاریہ تنازع اور تعلیمی نظام پر ایس سی تبصرہ سرخیوں میں

Updated: March 01, 2026, 11:34 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

رواں ہفتہ غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں ملکی سیاست، عدالتی مداخلت اور تعلیمی اصلاحات جیسے اہم موضوعات نمایاں رہے۔ایک اخبار نے آسام میں کانگریس کے سابق صدر کے مبینہ طور پر بی جے پی میں شمولیت کے عوض ۵۰؍ کروڑ روپے لینے کے اعتراف پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رواں ہفتہ غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں ملکی سیاست، عدالتی مداخلت اور تعلیمی اصلاحات جیسے اہم موضوعات نمایاں رہے۔ایک اخبار نے آسام میں کانگریس کے سابق صدر کے مبینہ طور پر بی جے پی میں شمولیت کے عوض ۵۰؍ کروڑ روپے لینے کے اعتراف پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ اور شنکر اچاریہ اویمکتیشورانند کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی متعدد مراٹھی اخبارات نےگہرے تبصرے شائع کئے۔ مفت اسکیموں کے حوالے سے سپریم کورٹ کی سرزنش نے بھی اخبارات کو متوجہ کیا جبکہ ایک اخبار نے ملک کے تعلیمی نظام میں ہمہ گیر اصلاحات اور اسے جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع، بسوا شرما کا اشتعال انگیز ویڈیو اور جنرل نرونے کی کتاب

۵۰؍ کروڑ میں ضمیر فروخت کئے جاتے ہیں

سامنا( مراٹھی،۲۵؍فروری)

’’ ہندوستانی سیاست میں اخلاقیات کا جنازہ تو مدتوں پہلے اٹھ چکا تھا لیکن آسام کے حالیہ سیاسی منظرنامے نے بے شرمی کی ایک ایسی نئی تاریخ رقم کی ہے جس کی مثال شاید قدیم داستانوں  کےخیالی قصوں میں بھی نہ ملے۔ آسام کانگریس کے سابق صدر بھوپین بورا کا بی جے پی میں شامل ہونا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ جمہوری اقدار کی نیلامی کا وہ اشتہار ہے جس نے ہندوستانی جمہوریت کے چہرے پر کالک پوت دی ہے۔ بھوپین بورا جو کل تک کانگریس کے وفادار ہونے کا دم بھرتے تھے اور جن کی ناراضگی دور کرنے کیلئے راہل گاندھی جیسے قدآور لیڈر کو بھی تگ و دو کرنی پڑی، آج اچانک زعفرانی رنگ میں رنگ گئے ہیں۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ انہوں نے وفاداری بدل لی بلکہ حیرت اس’سچائی‘ پر ہے جو انہوں نے ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر نہایت ڈھٹائی سے اگل دی ہے۔ بورا کا یہ کہنا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے مجھے ۵۰؍ کروڑ روپے دیئے ہیں اور میں نے اپنے والد کا خواب پورا کرنے کیلئے یہ رقم قبول کی ہے۔دراصل اس نظام کے منہ پر طمانچہ ہے جہاں ضمیر کی قیمت اب منڈی کے نرخوں کی طرح کھلے عام طے ہونے لگی ہے۔بدقسمتی ملاحظہ ہو کہ جو بی جے پی مخالفین کے احتجاج کو گھٹیا سیاست قرار دیتی ہے وہ اپنے واشنگ مشین میں ان داغدار کرداروں کو دھو کر پاک کرنے میں ذرا برابر عار محسوس نہیں کرتی۔ یہ وہی بھوپین بورا ہیں جن پر چند روز قبل تک وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما سخت قانونی کارروائی کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھےلیکن آج وہ ۵۰؍ کروڑ کی سرمایہ کاری کے بعد بی جے پی کیلئے معتبر ہو گئے ہیں۔یہ محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا کہ مہاراشٹر کے وہ لیڈر جو ۵۰؍ کھوکھے کے نام سے بدنام ہوئے ان کی آسام کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے فوراً بعد بھوپین بورا کا یہ سودا طے پایا۔ کیا اب ہندوستانی سیاست میں ۵۰؍ کروڑ ایک ایسا معیاری نرخ بن گیا ہے جس پر ضمیر فروخت کئے جاتے ہیں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کی موت، اے آئی سمٹ کی بد نظمی اور تلنگانہ انتخابات اخباروں کے موضوع

مودی یوگی کے خلاف اب سادھو سنت بھی آرہے ہیں

پربھات(مراٹھی،۲۴؍ فروری )

’’اتر پردیش میں اس وقت ایک ایسی غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایک طرف ہندوتوا کی سیاست کا بڑا چہرہ سمجھے جانے والے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں تو دوسری طرف مذہبی پیشوا شنکرا چاریہ اویمکتیشورا نند سرسوتی کھڑے ہیں۔ یہ ٹکراؤ اب محض بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ سنگین الزامات اور قانونی چارہ جوئی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اس پورے تنازع کی بنیاد الہ آباد کے ماگھ میلے سے پڑی جہاں شنکرا چاریہ کو اشنان کرنے سے روکنے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کےالزامات سامنے آئے۔ شنکرا چاریہ نے اس توہین کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے حکومت کو ۴۰؍ دن کی مہلت دی اور’گئو رکشا‘ کو ایک بڑا عوامی مسئلہ بنا دیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ گائے کو قومی ماں کا درجہ دیا جائے ورنہ لکھنؤ میں حکومت کے خلاف بڑا احتجاج کیا جائے گا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جیسے ہی شنکرا چاریہ نے احتجاج کی دھمکی دی، ان کے خلاف بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے انتہائی سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ یہ ایک ایسا موڑ ہے جس نے عوامی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ مقدمہ حقیقت پر مبنی ہے یا یہ ایک مذہبی پیشوا کی آواز دبانے کی سیاسی کوشش ہے؟آج کے دور میں یہ لڑائی صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہی۔ بڑی تعداد میں سادھو سنتوں نے اب سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے اور وہ براہ راست مودی اور یوگی حکومتوں کو سناتن مخالف قرار دے رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے کیونکہ جوطبقہ اب تک موجودہ سرکار کا سب سے بڑا حمایتی سمجھا جاتا تھا وہی اب اس کیخلاف سخت اور تلخ زبان استعمال کر رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع، بسوا شرما کا اشتعال انگیز ویڈیو اور جنرل نرونے کی کتاب

قرض لے کرخیرات تقسیم کرنے کا سلسلہ

نوبھارت( ہندی، ۲۳؍فروری)

’’ملک کی مختلف ریاستوں میں انتخابات جیتنےکیلئے عوامی فلاح کے لبادے میں جس طرح مفت خوری کی اسکیموں کا جال بچھایا جا رہا ہے وہ ہماری جمہوریت کیلئے ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ سیاسی جماعتیں اقتدار کی ہوس میں ایسے دلکش اعلانات کرتی ہیں جن کا بوجھ بالآخر سرکاری خزانے اور عوام کی جیب پر ہی پڑتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان اسکیموں کے باعث ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈ ناپید ہوتے جا رہے ہیں، جس سے ریاستوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کے حالیہ اعداد و شمار ہوش ربا ہیں جن کے مطابق ۴۲؍ فیصد شہریوں کو نقد رقم یا اشیاء کی صورت میں سیاسی رشوت دی گئی۔ مہاراشٹر کی’لاڑکی بہن‘ اسکیم ہو یا تمل ناڈو کے نقدی بانٹنے کےسلسلے ان میں شفافیت کا فقدان واضح ہے۔ ہزاروں فرضی مستحقین کا ان اسکیموں سے فائدہ اٹھانا نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک بار جب ایسی عوامی لبھاؤ اسکیمیں شروع کر دی جائیں تو سیاسی نقصان کے خوف سے کوئی بھی حکومت انہیں بند کرنے کی جرأت نہیں کر پاتی۔ معاشی ماہرین کے نزدیک ملک اس وقت قرضوں کے جال میں پھنس چکا ہے۔ مختلف ریاستوں پر مجموعی قرض۱۰۰؍ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ مرکزی حکومت پر ۲۰۰؍ لاکھ کروڑ روپے کا بوجھ ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس قرض کا تقریباً ۲۰؍ فیصد حصہ صرف ان خیراتی اسکیموں کی نذر ہو رہا ہے۔ تمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر اور اتر پردیش جیسی ریاستیں اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں جہاں بجلی، پانی اور نقد رقم کی صورت میں سستی سیاست چمکائی جا رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع مرکزی بجٹ اور ششی تھرور کی کانگریس قائدین سے ملاقات رہا

تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت

دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۲۱؍فروری)

’’دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران گلگوٹیا یونیورسٹی کے روبو ڈاگ پر سوشل میڈیا میں خاصی چہ میگوئیاں ہوئیں۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کا یہ مظاہرہ طنز و مزاح اور خبروں کی زینت تو بنا مگر اس ہنگامے نے اس بڑے اور سنجیدہ سوال کو پس منظر میں دھکیل دیا جو دراصل ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اصل امتحان نمائشی ہالوں میں نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں اسکولوں اور کالجوں میں ہونا ہے۔ تعلیمی سال۲۵۔۲۰۲۴ء میں تقریباً ۲؍ کروڑ بچوں کا پہلی جماعت میں داخلہ اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی تیزی سے تعلیمی نظام میں شامل ہو رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں بھی داخلوں کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور قابل اطمینان بات یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد ایسے طلبہ کی ہے جو اپنے خاندان میں پہلی بار یونیورسٹی تک پہنچے ہیں۔ یہ سماجی تبدیلی امید افزا ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کے دروازے تو سب کیلئے کھول دیئے ہیں لیکن نظامِ تعلیم اب بھی پرانے ڈھانچے پر قائم ہے۔ ہمارا تدریسی طریقہ اور امتحانی نظام بڑی حد تک اس استعماری ماڈل کی یاد دلاتا ہے جو صنعتی دور میں برطانوی حکومت کی انتظامی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے بنایا گیا تھا ،وہ آج کی تیز رفتار اور ٹیکنالوجی پر مبنی دنیا کے تقاضوں کیلئے ناکافی ہیں۔اگر ہندوستان واقعی مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ۲۰۲۰ء کی قومی تعلیمی پالیسی نے رٹا سسٹم کے خاتمے،  تصوراتی تعلیم کے فروغ اور قومی پیداوار کا کم از کم ۶؍ فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کی سفارش کی تھی۔ مگر عملی سطح پر اس کی رفتار سست ہے۔ ادارہ جاتی سستی اور لسانی سیاست جیسے مسائل نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK