ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ بدعنوانی معاملہ میں ۷۸۸۰؍امیدواروں کو نوٹس

Updated: August 06, 2022, 9:03 AM IST | saadat khan | Mumbai

رشوت دے کر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے تاحیات ٹی ای ٹی امتحان نہیںدے سکیں گے۔ فرضی سرٹیفکیٹ سے ملازمت حاصل کرنےوالوں کو برخاست کیاجائیگا،ٹیچروںمیں خوف کا ماحول

Due to the corruption in getting the TET certificate, the government has decided to take strict action against the culprits. (File Photo)
ٹی ای ٹی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ہونے والی بدعنوانی کے سبب حکومت نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔(فائل فوٹو)

:مہاراشٹراسٹیٹ کونسل آف ایگزام ( ایم ایس سی ای ) کی طرف سے ٹی ای ٹی امتحان میں بدعنوانی کرنے والے ۷۸۸۰؍ اُمیدوارو ںکے نام کی فہرست جاری کی گئی ہے ۔ ان اُمیدواروںپر الزام ہےکہ انہوںنے رشوت دے کر ٹی ای ٹی امتحان پاس کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے۔ یہ اُمیدواراب تاحیات ٹی ای ٹی امتحان نہیںدے سکیں گے۔ جن امیدواروں نے ان ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ملازمت حاصل کی ہے ، انہیں تلاش کرکے ملازمت سے برخاست کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ایم ایس سی ای کے فیصلہ سے ٹیچروںمیں خوف کا ماحول ہے۔
  ایم ایس سی ای نے ۲۰۱۹ء میںہونےوالے ٹی ای ٹی امتحان میں بے ضابطگی کے مرتکب۷۸۸۰؍ اُمیدواروںکو نااہل قرار دیاہے اور ان کے خلاف نوٹس جاری کیاہے ۔ نوٹس میں انہیں اطلاع دی گئی ہےکہ انہوںنے ٹی ای ٹی امتحان میں بدعنوانی کا سہارا لیاہے اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی اب وہ تاحیات ٹی ای ٹی امتحان نہیں دے سکیںگے۔
 ایم ایس سی ای نے ۳؍اگست کو ۴۸۰؍ صفحات پر مشتمل ایک رپور ٹ جاری کی ہے جس میں مذکورہ اُمیدواروںکی تفصیلات مثلاً ان کے نام اورایگزام سیٹ نمبر دیئے گئے ہیں تاکہ ان تفصیلات کےذریعے اسکول یہ پتہ لگاسکیں کہ انہوں نے جن ٹیچروں کی تقرری کی ہے ، ان میں مذکورہ ٹیچرتو شامل نہیں ہیں۔ پونے سائبر پولیس نےمشتبہ امیدواروںکی ایک فہرست ایم ایس سی ای کو دی تھی۔ 
 ایم ایس سی ای کے کمشنر شیلجا دراڈے نے بتایاکہ ’’ اس فہرست کے اُمیدواروںکی تفصیلات کی جانچ کرنےکےبعد ۷۸۸۰؍ امیدواروںکی نشاندہی کی گئی ہے جنہوںنے ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ بدعنوانی سے حاصل کیا ہے۔ ان میں سے ۷۵۰۰؍ امیدوارو ںنے ٹی ای ٹی امتحان کے مارکس تبدیل کرواکر پاس ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے جبکہ ۲۹۳؍ امیدواروںنے مارکس میں تبدیلی نہیں کروائی ہے مگر پاس ہونے کا فرضی سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے جبکہ ۸۱؍امیدوارو ںنے بےضابطگی سے ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ کاانتظام کیاہے۔ ‘‘
  انہوںنے یہ بھی کہاہےکہ ’’ مذکورہ امیدوارو ںمیں سے جس کسی نے بھی فرضی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ملازمت حاصل کی ہے ، ان کی تقرری منسوخ کی جائے گی۔ انہیں اسکول میں ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ ہم اس فہرست کو ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کے حوالے کررہےہیں، جو آگے کی کارروائی کرے گی۔ ‘‘
  اطلاع کےمطابق مذکورہ فہرست میں ریاست کے تمام ۳۵؍اضلاع کےاُمیدوار شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ  ایک ہزار ۱۵۴؍ناسک ضلع کے ہیں۔ اسی طرح دھولیہ کے ایک ہزار ۲؍ ، نندوربار کے ۸۰۸؍اور جلگائوں کے ۶۱۴؍اُمیدوار شامل ہیں۔ ممبئی ، تھانے رائے گڑھ اور پال گھر کے بالترتیب ۱۶۱؍،  ۲۵۷؍ ،۴۲؍اور ۱۷۶؍ اُمیدوار ہیں۔ واضح رہےکہ ا س ضمن میںپونے سائبر پولیس نے ۱۶؍ دسمبر ۲۰۲۱ء کومختلف دفعات  کے تحت کیس  درج کیاتھا۔ 
  اس معاملہ میں ایم ایس سی ای کے سربراہ تکارام سوپے، ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے مشیر ابھیشیک ساوریکر اور آئی اے ایس سشیل کھوڈویکر کو گرفتارکیاگیاتھا۔ پولیس کے مطابق ٹی ای ٹی امتحان کے پاس سرٹیفکیٹ جاری کرنےکیلئے اُمیدواروں سے رشوت وصو لی کی گئی تھی۔
  اس تعلق سے اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نےکہاکہ ’’معلم قوم کا معمار ہوتاہے ۔ معاشرہ میں اساتذہ کو جس احترام اور ادب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اس کی اہمیت اور افادیت سے بھی خوب واقف ہیں۔اس کے باوجود کچھ ٹیچروںکی لاپرووائی اور غیر ذمہ دارانہ حرکت سے اساتذہ کی پوری برادری متاثرہوئی ہے۔ جن اُمیدواروں نے بے ضابطگی اور بدعنوانی سے ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہےوہ قصوروار ہیں  اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایم ایس سی ای کےمذکورہ انکشاف سے خاطی اساتذہ میں خوف کاماحول ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK