• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نوڈل افسر مقرر نہ کرنے والی ریاستوں کو نوٹس

Updated: November 30, 2023, 9:33 AM IST | New Delhi

عدالت عظمیٰ کو اطلاع دی گئی کہ بیشتر ریاستوں نے نوڈل افسر مقرر کردیا ہے لیکن گجرات ، کیرالا ، ناگالینڈ اور تمل ناڈو نے اب تک ایسا نہیں کیا ہے

The Supreme Court once again showed strictness on hate speech
سپریم کورٹ نے نفرت انگیزی پر ایک مرتبہ پھر سختی کا مظاہرہ کیا

 ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہجومی تشدد کے معاملات کو روکنے کے لئے  سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کارروائی نہ کرنے پر گجر ات، کیرالا، ناگالینڈ اور تمل ناڈو کو نوٹس جاری کیا گیاہے۔ سپریم کورٹ نے ان  ریاستوں سے کہا  ہےکہ وہ بتائیں کہ انہوں نے نوڈل افسر کا تقرر کیوں نہیں کیا ؟    س سے قبل مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرتے ہوئے بتایا کہ ۲۸؍ریاستوں نےاپنی اپنی ریاستوں میں نوڈل افسروں کا تقرر کردیا ہے۔ جسٹس کھنہ اور جسٹس بھٹی کی بنچ کے سامنے  اے ایس جی کے ایم نٹراجن پیش ہوئے ۔ انہوں نے  عدالت کو بتایا کہ گجرات، کیرالا، ناگالینڈاور مغربی بنگال نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے۔ نوڈل افسران کی تقرری کے بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کتنی ریاستوں نے اپنا جواب داخل کیا ہے؟  اس درمیان بنگال حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس نے نوڈل افسر مقرر کیا ہے۔ اس پر عدالت نے سختی سے کہا کہ پھر اس کا ذکر حلف نامہ میں کیوں نہیں ہے جس پر بنگال کے وکیل نے کہا کہ یہ حال ہی کا معاملہ ہے جبکہ حلف نامہ پہلے تیار ہو چکا تھا اس لئے اندراج نہیں ہو سکا ۔ بہر حال کورٹ نے بنگال حکومت کے وکیل کی یقین دہانی کو  قبول کرلیا ۔
   ادھر اے ایس جی نے کہا کہ ۱۱؍اکتوبر کو ہوم سیکریٹری نے تمام ریاستوں کی میٹنگ بلائی تھی اور  اس تعلق سےاقدامات اور تعمیلی رپورٹس داخل کرنے کی ضرورت کے بارے میں بتایا تھا۔ اس کے بعد جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ ہم ریاستوں کو نوٹس جاری کریں گے۔  یہ ریاستیں بتائے کہ نوڈل افسر کا تقرر کیا گیا ہے یا نہیں؟ اور اگر اب تک نہیں کیا گیا تو کیوں نہیں کیا گیا ہے؟ عرضی گزار کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہا کہ اگر کوئی شخص نفرت انگیز تقریر کرتا ہے تو اسے دوبارہ جلسوں سے خطاب کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ہمیں اس پر اعتراض ہے۔ اس دلیل پر کورٹ نے کہا کہ فی الحال ان ریاستوں کا جواب آجانے دیجئے اس کے بعد ہم گفتگو کریں گے ۔ اس کے بعد عدالت نے کیس کی اگلی سماعت اگلے سال ۵؍ فروری کو مقرر کردی ۔ 
 واضح رہے کہ نوڈل افسر مقرر کرنے والی ریاستوں میں مہاراشٹر بھی شامل ہے۔ اس نے بھی مرکز کو اطلاع دی ہے کہ یہاں نفرت انگیز تقاریر روکنے اور ہجومی تشدد کے واقعات روکنے کے لئے نوڈل افسر کا تقرر کیا گیا ہے۔ کورٹ کی ہدایت کے مطابق نوڈل افسر ضلع ایس پی کے رینک کا افسر ہونا چاہئے۔ تمام ریاستوں نے جو اطلاع دی ہے  اس کے مطابق ان کے یہاں ایس پی رینک کے افسر کو ہی نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں بڑھتی نفرت انگیزی ، نفرت انگیز تقاریر اور ہجومی تشدد کے واقعات کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے انتہائی سخت نوٹس لیا تھا اور مرکزی حکومت سمیت تمام ریاستی حکومتوں کو اس سلسلے میںسخت ہدایات جاری کی تھیں۔ انہی ہدایات اور کورٹ کی سختی کی وجہ سے گزشتہ ایک سال کے دوران ان واقعات میں کمی آئی ہے۔ اب اس معاملے میں کورٹ وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کے لئے اور آگے کی کارروائی کیلئے سماعت کرتا ہے اور ہدایات جاری کرتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK