Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ کا کیس لسٹنگ اور بینچوں کی تقسیم کے لئے اے آئی نظام متعارف کرانے کا منصوبہ

Updated: March 14, 2026, 3:05 PM IST | New Delhi

رپورٹس کے مطابق، اے آئی سافٹ ویئر خودکار طور پر مختلف بنچوں کو مقدمات تفویض کرے گا اور سماعتوں کا وقت طے کرے گا۔ فی الوقت، یہ کام چیف جسٹس آف انڈیا کی نگرانی میں کورٹ رجسٹری کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک بڑی انتظامی اصلاح کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے سپریم کورٹ نے کیس لسٹنگ (سماعت کے لئے مقدمات کے اندراج) اور بنچوں کی تقسیم کا کام سنبھالنے کے لئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے نفاذ کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عدلیہ کے اس حساس عمل میں انسانی مداخلت کو کم کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اے آئی پر مبنی سافٹ ویئر خودکار طور پر مختلف بنچوں کو مقدمات تفویض کرے گا اور سماعتوں کا وقت طے کرے گا۔ فی الوقت، یہ کام چیف جسٹس آف انڈیا کی نگرانی میں کورٹ رجسٹری کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی عدالت عظمیٰ میں انتظامی فیصلوں کے طریقہ کار کو نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی ملکیت پر نماز پڑھنے والے شخص کے تحفظ کا حکم دیا

رجسٹری کی کارکردگی پر خدشات

حال ہی میں ایک داخلی جائزے میں عدالت کی رجسٹری میں ڈھانچہ جاتی مسائل کی نشان دہی کی گئی تھی۔ جائزے میں مبینہ طور پر پایا گیا کہ کچھ اہلکار طویل عرصے سے ایک ہی انتظامی کرداروں میں موجود تھے، جس سے انہیں مقدمات کی لسٹنگ کے عمل پر کافی حد تک کنٹرول حاصل ہوگیا تھا۔ جائزے کی رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ فرسودہ تکنیکی نظام نے انتظامی غلطیوں کے خطرے کو بڑھا دیا ہے جس میں بنچوں کو مقدمات تفویض کرنے میں ہونے والی غلطیاں بھی شامل ہیں۔ ان خدشات کو دور کرنے کے لئے، عدالت نے پہلے ہی رجسٹری کے کئی اہلکاروں کو مختلف محکموں میں منتقل کر دیا ہے۔ شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے طور پر اس ماہ کے آخر تک مزید عملے کی تبدیلی متوقع ہے۔

یہ مسئلہ جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ کے سامنے ایک سماعت کے دوران توجہ کا مرکز بنا تھا۔ بنچ عرفان سولنکی کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں ’اتر پردیش گینگسٹرز اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ ۱۹۸۶ء‘ کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی گئی تھی کہ یہ ’بھارتیہ نیائے سنہیتا ۲۰۲۳ء‘ سے متصادم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے ریاستی پبلک سروس کمیشنز کے ۴۷۴ سربراہوں میں صرف ۲۲ مسلمان

کارروائی کے دوران، اتر پردیش حکومت نے عدالت کو مطلع کیا کہ اسی طرح کی ایک درخواست ۲۰۲۲ء میں محمد انس چوہدری بنام ریاست اتر پردیش کیس میں سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچڈ کی سربراہی میں بنچ پہلے ہی خارج کر چکی ہے۔

اس سابقہ فیصلے کے باوجود، ایک ملتی جلتی درخواست دوبارہ کسی اور بنچ کے سامنے پیش کر دی گئی جس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس سوریہ کانت نے اس بات کی تفصیلی انتظامی انکوائری کا حکم دیا کہ یہ کیس دوبارہ کیسے لسٹ ہوا۔ درخواست گزار کے وکیل نے معاملہ واپس لینے کی اجازت چاہی، لیکن عدالت نے اشارہ دیا کہ جب تک اس مسئلے کا مکمل جائزہ نہیں لیا جاتا، یہ معاملہ زیرِ التوا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK