Inquilab Logo Happiest Places to Work

امبرناتھ اور الہاس نگر میں جینس واشنگ کے ۱۹؍ کارخانوں کو نوٹس

Updated: August 13, 2026, 11:43 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Ulhasnagar

مہاراشٹر پالیوشن کنٹرول بورڈ نے انہیں آلودگی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا، کام بند کرنے کا حکم دیا۔

Factory workers lay out trousers to dry on the highway like this. Picture: INN
کارخانے والے اس طرح ہائی وے پر پتلونیں سکھانے ڈالتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

الہاس نگر، امبرناتھ اور اطراف کے دیہی علاقوں میں غیر قانونی طور پر چلنے والی جینس واشنگ فیکٹریوں کے خلاف مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ (ایم پی سی بی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ۱۹ یونٹوں کو فوری طور پر کام بند کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ الہاس نگر سے کارروائی کے بعد امبرناتھ اور کلیان تعلقہ کے دیہی علاقوں میں منتقل ہوکر مبینہ طور پر خفیہ طریقے سے کاروبار جاری رکھنے والے ان یونٹوں کے خلاف کارروائی سے جینس واشنگ صنعت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ان کارخانوں سے نکلنے والا کیمیائی اور زہریلا فاضل پانی بغیر کسی صنعتی علاج کے براہ راست والدھونی ندی میں بہایا جا رہا تھا۔جس کی وجہ سے والدھونی ندی کی حالت ایک بدبو دار نالے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بعض مقامات پر یہ زہریلا کیمیائی مواد زمین میں گڑھے کھود کر جذب کیا جا رہا تھا جو بعد میں الہاس اور کالو ندیوں کے بہاؤ میں شامل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سشمتا دیو کیخلاف شدید احتجاج اور مراعات شکنی کا نوٹس

 واضح رہے کہ الہاس ندی سے پورے ضلع تھانے کے متعدد شہروں کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ عمل لاکھوں شہریوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ گزشتہ دنوں میں پانی کی شدید آلودگی کے باعث ہی ان جینس کی پتلونیں بنانے والی صنعت  پر الہاس نگر میں پابندی عائد کی گئی تھی اور انہیں یا تو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے یا پھر کارخانے بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔  تاہم ان تاجروں نے ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کرنے کے بجائے کلیان اور امبرناتھ کے دیہی علاقوں بالخصوص رائتے سے حاجی ملنگ پہاڑ تک پوشیدہ اور کرائے کی جگہوں پر غیر قانونی یونٹس قائم کر لیے۔ حتیٰ کہ بدلاپور کے قریب زیر تعمیر ممبئی۔بروڈہ ہائی وے کے ایک حصے پر کھلے عام سیکڑوں جینس سکھانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ ماحولیاتی کارکنان طویل عرصے سے اس تباہ کن آلودگی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ اگرچہ ماضی میں بھی ایم پی سی بی کی جانب سے رسمی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں لیکن سخت اور دیرپا اقدامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے معاملہ ٹھنڈا ہوتے ہی یہ کارخانے دوبارہ فعال ہو جاتے تھے۔ اس بار ۱۹ کارخانوں کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد شہریوں اور ماحولیاتی تنظیموں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ اقدام صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ ان غیر قانونی اور آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کو مستقل طور پر بند کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK