Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب آم کا درخت کرائے پر لے سکتے ہیں، سیزن میں ۹۰؍ کلو آم گھر آئے گا

Updated: March 17, 2026, 10:09 PM IST | Kochi

ہندوستان میں آم کے شوقین افراد کے لیے ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے جہاں اب لوگ پورے سیزن کے لیے آم کا درخت کرائے پر لے کر اس کی مکمل پیداوار گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کوچی کے ایک اسٹارٹ اپ Rent a Tree نے اس منفرد تصور کو حقیقت میں بدل دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی باغ میں موجود آم کے درخت کو ایک سیزن کے لیے منتخب کرتے ہیں اور اس کی مکمل فصل حاصل کرتے ہیں۔ اس عمل میں صارفین آن لائن پلیٹ فارم پر جا کر مختلف باغات میں دستیاب درختوں کو دیکھتے ہیں اور اپنی پسند کے مطابق درخت کا انتخاب کرتے ہیں، جس کے بعد پورے سیزن کے دوران اس درخت سے حاصل ہونے والے آم براہ راست ان کے گھر پہنچائے جاتے ہیں۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Rentatree.in (@rent_a_tree_official)

اس سروس کی قیمت تقریباً ۱۰؍ ہزار ۳۰۰؍ روپے فی سیزن سے شروع ہوتی ہے، جبکہ ایک درخت سے حاصل ہونے والی پیداوار تقریباً ۹۰؍  کلوگرام تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ باغات مہاراشٹر، تمل ناڈو اور کیرالا جیسے اہم آم پیدا کرنے والے علاقوں میں واقع ہیں جہاں کسان درخت کی دیکھ بھال، پھل کی نشوونما، کٹائی اور پیکنگ کا مکمل انتظام کرتے ہیں۔
یہ ماڈل نہ صرف صارفین کو تازہ اور قدرتی آم فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ ان کے آم کس باغ اور کس درخت سے آئے ہیں۔ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ ایک نیا اور دلچسپ تجربہ بن گیا ہے جہاں وہ بغیر زمین کے مالک بنے زراعت سے جڑ سکتے ہیں۔ بہت سے صارفین اس تجربے کو جذباتی انداز میں لیتے ہوئے اپنے درخت کو ’’ہمارا درخت‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں اور اس کی اپڈیٹس کو فالو کرتے ہیں۔

دوسری جانب یہ نظام کسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے کیونکہ انہیں ایک مستحکم آمدنی حاصل ہوتی ہے اور مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بچاؤ ملتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تصور ’’فارم ٹو ٹیبل‘‘ رجحان کا ایک جدید روپ ہے جس میں صارفین براہ راست پیداوار سے جڑتے ہیں اور کھانے کی اصل بنیاد کو سمجھتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ہندوستان میں قدرتی اور قابلِ سراغ خوراک کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، اور آم کا درخت لیز پر لینے کا یہ تصور اسی بدلتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کے ماڈلز نہ صرف زراعت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ شہری اور دیہی زندگی کے درمیان ایک مضبوط تعلق بھی قائم کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK