سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل۳۲۴؍ کے تحت ایس آئی آر کرانے کا اختیار، چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی بنچ نے عرضی گزاروں کے دلائل رَد کردئیے اور کہا کہ’’ کمیشن جس طریقے سے چاہے نظر ثانی کرسکتا ہے ‘‘
EPAPER
Updated: May 28, 2026, 8:47 AM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل۳۲۴؍ کے تحت ایس آئی آر کرانے کا اختیار، چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی بنچ نے عرضی گزاروں کے دلائل رَد کردئیے اور کہا کہ’’ کمیشن جس طریقے سے چاہے نظر ثانی کرسکتا ہے ‘‘
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ ایس آئی آر کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے اس کو برقرار رکھا۔ ایس آئی آر میں بڑے پیمانہ پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کئے جانے کے باوجود عدالت عظمیٰ نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ ایس آئی آرآزاد انہ و منصفانہ انتخابات کے آئینی تقاضے کو آگے بڑھاتا ہے اور یہ اسی لئے انتہائی ضروری مشق ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل۳۲۴؍ کے تحت ایس آئی آر کرانے کا اختیار ہے،جس کو عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء اوراس کے تحت بنائے گئے ضابطہ کے ساتھ پڑھا جانا چاہئے۔ یاد رہے کہ عرضی گزاروں نے الیکشن کمیشن کے اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے کہاتھا کہ گرچہ ماضی میں ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کی جاتی رہی ہے،لیکن الیکشن کمیشن کوخصوصی نظر ثانی اور کسی کی شہریت کا تعین کرنے کا کوئی قانونی وآئینی حق نہیں ہے مگر سپریم کورٹ نے یہ دلیل مسترد کردی ۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا ؟
سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدہ میں کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا صرف ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی اہلیت کا تعین کرنے کے محدود مقصد کے لئے شہریت کی حیثیت کی جانچ کر سکتا ہے اور واضح کیا کہ ووٹر لسٹ سےکسی کا نام حذف کرنا اس قانونی اعلان کے مترادف نہیں ہے کہ کوئی شخص ملک کا شہری ہی نہیں ہے ۔عدالت نےکمیشن کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ چار ہفتوں کے اندر ایسے معاملات جن میں شہریت کی بنیاد پر نام حذف کئے گئے ہیں ان کو فیصلہ کے لئے شہریت قانون کے تحت مجاز اتھاریٹی کے پاس بھیجے۔
چیف جسٹس کی بنچ
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے رٹ پٹیشنوں پر سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا۔ ان پٹیشنوں میںبہار میں ایس آئی آر کے انعقاد کے لئے گزشتہ سال جون میں الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیاتھا۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ جب قانون خود کسی بھی وقت ووٹرلسٹوں کی خاص نظرثانی کی اجازت دیتا ہےاوریہ کہتا ہے کہ جب چاہے الیکشن کمیشن یہ کراسکتا ہے اور اس کام کو اسے ریکارڈ پر لانا ہو گا تو ایسے میں اس مشق کو محض اس لئے کالعدم نہیں کیا جا سکتا کہ یہ معمول کی نظرثانی کے عام طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کے مطابق الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ جیسے چاہے ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کرے اور اسے اپ لوڈ کرے۔
ایس آئی آر کو درست ٹھہرایا
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میںمشاہدہ کیا کہ ایس آئی آر کرانے کامقصد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے آئینی ہدف کے ساتھ براہ راست وابستہ ہے۔اس نے مزید مشاہدہ کیا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ریکارڈ کی گئی وجوہات، جن میں گہرائی سے نظرثانی کے بعد سے چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزرنا، بڑے پیمانے پرحذف و اضافہ، تیزی سے شہری کاری اور نقل مکانی اور انتخابی فہرستوں میں غلطیاں شامل ہیں، الیکشن کمیشن کے مقصد کو واضح کرتا ہے اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ان تمام غلطیوں اور حذف و اضافہ کو بہتر بنانا ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ الیکشن کمیشن نے جو طریقہ کار اپنایا وہ عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء اور الیکٹرس رجسٹریشن رولز ۱۹۶۰ء کی خلاف ورزی ہے۔ واضح رہے کہ عرضی گزاروں نے ان دو نکات پر بہت زیادہ زور دیا تھا ۔
فیصلے پر تنقیدیں
۱۲۴؍صفحات پر مشتمل فیصلے میںسپریم کورٹ نےاس حساس سوال پر بھی وضاحت دی کہ کیا الیکشن کمیشن کسی شخص کی شہریت کی جانچ کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شہریت کا حتمی تعین نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی شخص کو شہریت کے دعوے سے محروم کرسکتا ہے ۔عدالت نے مزید کہا کہ بہار کے ایسے باشندے جن کے نام غلطی سے غیر حاضر، فوت شدہ، منتقل شدہ یا نقل اندراج کی بنیاد پر حذف کئے گئے ہیں وہ عدالتی نظرثانی کے ذریعے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ عدالت کے اس فیصلے پر تنقیدیں ہو رہی ہیں۔