• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں خاتون صحافی کے ساتھ بدسلوکی کے ملزم افسر کوترقی دیدی گئی

Updated: October 06, 2026, 9:02 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

۴۸؍ گھنٹے کے احتجاج کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، پارلیمنٹ اسٹریٹ کے باہر سے مظاہرین کو ہٹادیاگیا، ۱۷؍ زیر حراست۔

The protest outside Parliament Street Police Station was called off after two days. Photo: INN
پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہراحتجاج ۲؍دن بعد ختم کرادیاگیا۔ تصویر: آئی این این

دہلی پولیس کے اے سی پی وویک بھگت  جن پر خاتون صحافی نے جنسی بدسلوکی کا الزام عائد کیاگیاہے، کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے    ترقی دیکر ایڈیشنل ڈی سی پی کے عہدے کا چارج دیا گیا ہے۔دوسری طرف پارلیمنٹ اسٹریٹ کے باہر کم وبیش ۴۸؍ گھنٹوں کے احتجاج کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں  کی گئی اور منگل کی صبح پولیس اسٹیشن کے آس پاس حکم امتناعی کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین کو ہٹا دیاگیا۔اس دوران خاتون صحافی جس نے بدسلوکی کا الزام عائد کیا ہےکو دیگر ۱۶؍ افراد کے ساتھ تحویل میں لے لیاگیا۔ 

    حراست میں لیے جانے والوں میں صحافی، فری لانس صحافی، یوٹیوبرز اور دیگر مظاہرین شامل ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو بس کے ذریعے دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن منتقل کیامظاہرین ہفتہ کی شام سے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر موجود تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کی کوریج کے دوران خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی جائے۔ مظاہرین نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ اور پولیس کی جانب سے شکایت پر کی گئی کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔ رات بھر احتجاج جاری رہنے کے بعد پیر کی صبح پولیس نے مظاہرین کو وہاں سے ہٹایا اور حراست میں لے لیا۔پولیس کے مطابق نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ۱۶۳؍ (سابق دفعہ۱۴۴)کے تحت پابندیاں نافذ ہیں اور تھانے کے باہر بغیر اجازت اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK