• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شب برأت میں حاجی علی درگاہ پرایک لاکھ اور بڑا قبرستا ن میں ۷۰؍ہزارزائرین پہنچے

Updated: February 05, 2026, 4:29 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شہرومضافات کی مساجد میں نمازِفجر تک عبادت اور دعاؤں کا اہتما م جاری رہا۔ ٹرسٹیان نے پولیس بندوبست کی ستائش کی مگر اپیل کے باوجود نوجوانوں کی حرکتو ں پرناخوش نظر آئے۔

Pilgrims are seen in the premises of Haji Ali Dargah on the occasion of Shab Barat. Photo: INN
شب برأت کے موقع پرحاجی علی درگاہ کے احاطے میں زائرین نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

شب برأت میں لاکھوں زائرین شہرومضافات کے قبرستان پہنچے۔ اس دوران کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ تمام قبرستانوں اور مساجد میں فجر کی نماز تک عبادت اور دعاؤں کا اہتمام جاری رہا۔ اس مو قع پر مساجد کو رنگ برنگی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے منظر بالکل الگ اورخوشنما تھا۔ دوسری جانب دور تک زائرین کی قطاریں تھیں جو قبرستان میں داخل ہورہے تھے جبکہ بڑی تعداد میں نوجوان ٹریفک کنٹرول میں ٹریفک پولیس کی مدد کرتے نظر آئے۔ 
ایک جانب جہاں سب کچھ خیریت سے گزرا، لاکھوں زائرین نے عبادت اور فاتحہ خوانی میں وقت گزارا وہیں الگ الگ قبرستانوں کے ٹرسٹیان سے بات چیت کرنے پرانہوں نے بتایا کہ سب کچھ بہتر تھا مگر شکایت یہ رہی کہ ہمارے نوجوان آخر کب سمجھیں گے۔ ایک ایک موٹر سائیکل پرتین تین نوجوان سوار ہوکر گھوم رہے تھے، کچھ تصویر کشی کررہے تھے توکچھ ’ریل‘ بنارہے تھے۔ حالانکہ ٹرسٹیان ہی نہیں علماء کی جانب سے بھی بار بار توجہ دلائی گئی تھی کہ ٹریفک قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے، یہ عبادت کی رات ہے، رب سے مانگنے کا وقت ہے، خرافات میں گزارنے کی نہیں ۔ 
ایک سینئرٹریفک افسر نے بتایاکہ کچھ نوجوان نہیں مانتےہیں لیکن اس موقع پر ’بڑی رات ‘ہونے کے ناطے زیادہ سختی نہیں برتی جاتی ہے مگر یہ خود نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کو سمجھنا چاہئے کہ اگر حادثہ ہوجائے تو نقصان کس کا ہوگا۔ 
اس تعلق سے مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نےبتایاکہ ’’شب ِ برأت کے تعلق سے نوجوانوں کوسمجھاتے ہوئے ایک سے زائد مرتبہ الگ الگ طریقے سے اپیل کی گئی تھی۔ اس مبارک رات کی اہمیت کوسمجھایا گیا تھا، خرافات سے دور رہنے کی تلقین کی گئی تھی اس کاجہاں مثبت اثر نظرآیا وہیں یہ بھی سچائی ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوان خرافات میں مبتلا رہے، تمام اپیلوں کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سےباز نہیں آئے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ ایسے مواقع ہوتے ہیں جب ہم عبادت وریاضت اورفاتحہ خوانی کے ساتھ اپنے حسنِ عمل سے اسلام کی تعلیمات غیروں تک پہنچانے اور انہیں متاثر کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں یا پھر اپنی غلط حرکتوں سے منفی پیغام عام کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: میرابھائندر میں مراٹھی میئر کیلئے مراٹھی ایکیکرن سمیتی کا گزشتہ روز احتجاج

’’مل جل کرانتظامات سے کافی فائدہ ہوا ‘‘
مرین لائنس بڑا قبرستان، ناریل واڑی قبرستان، ماہم درگاہ انتظامیہ، حاجی علی درگا ہ انتظامیہ، کرلا اور گوونڈی قبرستانوں کےٹرسٹیان سے گفتگو کرنے پر انہوں نے پولیس بندوبست کی ستائش کی ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ مل جل کرانتظامات کئےجانے سے کافی فائدہ ہوا اوربہتر حفاظتی انتظام کیا جاسکا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ قبرستانوں کے باہر پولیس کے جوان نگرانی کررہےتھے اوران کے ساتھ رضاکار بھی تھے تو قبرستان کے اندر رضاکار ڈیوٹی دے رہے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ دونوں جانب سے سخت نگرانی رکھی گئی اور ٹرسٹیان کی جانب سے رہنمائی اوراعلان بھی کیا جاتا رہا۔ اس سے زائرین کوبھی سہولت ہوئی۔ 
اس کے علاوہ ٹرسٹیان نے یہ کہتے ہوئے مزید اطمینان ظاہر کیا کہ پولیس کی جانب سے بہت اچھا بندوبست کیا گیا تھا اور ہر اہم پوائنٹ پرپولیس کے جوان چوکس نظرآئے۔ 
۴ ؍ گھنٹہ گیٹ بند رہنے کے باوجود حاجی علی میں زائرین پہنچے
شب برأت میں سمندر میں طغیانی اور۴؍ گھنٹہ گیٹ بند رہنے کے باوجود حاجی علی درگاہ میں ایک لاکھ سے زائد زائرین پہنچے۔ یہ تفصیل حاجی علی درگاہ انتظامیہ کمیٹی کے منیجر محمداحمد طاہرنے نمائندۂ انقلاب کے استفسار کرنے پر بتائی۔ اسی طرح بڑا قبرستان (مرین لائنس ) میں پہلی مرتبہ ۳۰؍ سی سی ٹی وی کیمروں کے علاوہ پولیس کی ہدایت پر فیس ڈٹیکشن والے۱۰؍ کیمرے نصب کئے گئےتھے۔ یہ تفصیل نجیب اختر تنگیکرنے بتائی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK