Inquilab Logo Happiest Places to Work

وسرجن کے بعد وسئی میں ۱۴۱؍ غیرقانونی عمارتیں توڑی جائیں گی

Updated: August 29, 2025, 11:16 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

پال گھر کے نگراں وزیر گنیش نائک کا اعلان۔ علاقے میں ایک سال کے دوران ۶؍ غیرقانونی عمارتیں منہدم ہوچکی ہیں۔ متاثرین کیلئے مہاڈا کی عمارتوں میں عارضی قیام کا انتظام کیا جارہا ہے

Illegal buildings will be demolished in view of the tragic accident in vasai
وسئی میں اندوہناک حادثہ کے پیش نظرغیرقانونی عمارتوں کو منہدم کردیا جائے گا۔ (تصویر:مہیش گوہل)

 یہاں مشرقی جانب   سوامی سمرتھ نگر میں واقع غیرقانونی چار منزلہ عمارت گرنے اور اس حادثہ میں ۱۷؍ افراد کی ہلاکت سے وسئی۔ویرار میں بڑے پیمانے پر جاری غیرقانونی تعمیرات موضوع بحث بن گئی ہے۔ اس حادثہ کے بعد بھی آس پاس کے علاقوں میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات جاری ہیں۔ اس دوران پال گھر کے نگراں وزیر گنیش نائک نے اعلان کیا ہے کہ ۱۰؍ روزہ گنپتی کا تہوار ختم ہونے کے بعد اس علاقے میں ۱۴۱؍ غیرقانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں منہدم کیا جائے گا۔
غیرقانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی
 اس حادثہ میں زخمی ہونے والوں سے اسپتال میں ملاقات کے بعد پال گھر کے نگراں وزیر گنیش نائک نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ حالات سے مجبور ہوکر لوگ ایسی عمارتوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم برسوں سے اس لاپروائی کی قیمت ادا کرتے آرہے ہیں۔ چشم پوشی کی وجہ سے غیرقانونی عمارتیں تعمیر ہوجاتی ہیں۔ وسئی۔ ویرار کی حدود  میں کُل ۱۴۱؍ غیرقانونی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور گنپتی تہوار کے بعد ان سب کے خلاف انہدامی کارروائی کی جائے گی۔‘‘
 ان مکینوں کی بازآباد کاری کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے اس تعلق سے بات کریں گے۔انہوں نے مستقبل میں اس طرح کے حادثات کی روک تھام کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے ایک میٹنگ بھی لی تھی جس میں ڈسٹرکٹ کلکٹر اندو رانی جاکھڑ، وی وی ایم سی کے کمشنر منوج کمار سوریہ ونشی، ممبر پارلیمنٹ ہیمنت سوارا، رکن اسمبلی اسنیہا پنڈتدوبے اور راجن نائک موجود تھے۔
مہاڈا کی عمارت میں عارضی رہائش
 دوسری طرف وزیر برائے ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے بھی جمعہ کو اس حادثہ کے زخمیوں سے ملاقات کرنے کے بعد اعلان کیا کہ اس حادثہ کی وجہ سے بے گھر ہوجانے والوں کو مہاڈا کی عمارتوں میں عارضی رہائش فراہم کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت متاثرین کے ساتھ ہے اور مہاڈا کے نائب صدر سے حادثہ کے متاثرین کو مہاڈا کی عمارتوں میں عارضی طور پر ٹھہرانے کیلئے بات کی گئی ہے اور انہوں نے بولنج علاقے میں ۶۰؍ مکانات فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وسئی۔ویرار میں ٹرانزٹ کیمپ کا مناسب انتظام نہیں ہے اس لئے یہاں کی میونسپل کارپوریشن کو مہاڈا کے اشتراک سے ٹرانزٹ کیمپ کا انتظام کرنا چاہئے۔ 
یہاں غیرقانونی تعمیرات کا مسئلہ نیا نہیں ہے
 واضح رہے کہ وسئی۔ ویرار کی حدود  میں غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ پہلے سے اتنا سنگین ہے کہ گزشتہ محض ایک سال کے وقفہ میں ۶؍ غیرقانونی عمارتیں  منہدم ہو چکی ہیں۔ گزشتہ ماہ کی ۴؍ تاریخ کو بھی نالا سوپارہ میں   ۴؍ منزلہ عمارت منہدم ہو گئی تھی لیکن خوش قسمتی سے اس معاملے میں شہری انتظامیہ نے عمارت گرنے سے قبل ہی ۷۰؍ مکینوں کو بلڈنگ سے بحفاظت باہر نکال لیا تھا۔
غیرقانونی عمارتوں کے معاملے میں ای ڈی   کی کارروائی 
 اسی ماہ ’ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ(ای ڈی)‘ نے وسئی ویرار کے سابق میونسپل کمشنر اور آئی اے ایس افسر انل کمار کھانڈے رائو پوار اور میونسپل کارپوریشن میں ٹاؤن پلاننگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر وائی ایس ریڈی کو غیرقانونی تعمیرات کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے میونسپل کارپوریشن کے افسران اور دلالوں کے ساتھ مل کر ایک گروہ تیار کررکھا تھا جو رشوت لے کر غیرقانونی عمارتوں کی تعمیر کیلئے راہ ہموار کرتا تھا۔ اس کے علاوہ بہوجن وکاس اگھاڑی (بی وی اے) کے سابق کارپوریٹر سیتا رام گپتا کو وسئی۔ویرار میں ۴۱؍ غیرقانونی عمارتوں کی تعمیرات سے ملنے والے کالے دھن کی تفتیش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK