بنگال میں جادو چلاصرف ممتاؔ کا،بی جے پی کا خواب چکناچور

Updated: May 03, 2021, 11:05 AM IST | Agency | Bengal

وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ اور مرکزی وزیروں کی پوری فوج کا تن تنہا مقابلہ کرکے ممتا بنرجی نے واضح اکثریت حاصل کرلی،  اپوزیشن کو پھر متحد ہونے کا پیغام دیا ، بنگال کے نتائج سے قومی سطح پر اپوزیشن کے حوصلے بلند

Mamata Banerjee. Picture:INN
ممتا بنرجی ۔تصویر :آئی این این

مغربی بنگال  میں  وزیراعظم نریندر مودی  اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں بی جےپی کی انتہائی جارحانہ انتخابی مہم کا  مقابلہ کرتے ہوئے  ممتا بنرجی نے بنگال کے قلعہ پر نہ صرف اپنا قبضہ برقرار رکھا  ہےبلکہ  انہوں نے  اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرکے قومی اپوزیشن کو یہ پیغام بھی دیا کہ بی جےپی ناقابل تسخیر نہیں ہے۔ بنگال کے نتائج کا ملک بھر میں اپوزیشن  نے خیر مقدم کیا ہے ۔ 
ممتا کی قیادت میں ٹی ایم سی کی غیر معمولی فتح
 مغربی بنگال  میں ۸؍ مراحل میں  ہونے والے انتخابات میں ایک طرف جہاں  وزیراعظم کی قیادت میں کم وبیش تمام مرکزی وزیروں اور کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنی طاقت جھونک دی تووہیں دوسری جانب  ممتا بنرجی نے تن تنہا  ان کا مقابلہ کیا اور اپنی پارٹی کو ۲۱۴؍ سیٹوں پر کامیابی دلانے  میں کامیاب رہیں۔ خبر لکھے جانے تک الیکشن کمیشن نے ۱۹۶؍ سیٹوں پر ٹی ایم سی کے امیدواروں کی فتح کا اعلان کردیا ہے جبکہ ۱۸؍ سیٹوں پر وہ آگے چل رہے ہیں۔ دوسری طرف  ۶۵؍ سیٹوں پر بی جےپی کی فتح کا اعلان کیاگیا ہے جبکہ ۱۱؍ پر وہ آگے چل رہی ہے۔
بی جےپی کی بڑی فتح مگر امیت شاہ کا دعویٰ غلط ثابت ہوا
  بی جےپی  جس  نے  ۲۰۱۶ء کےاسمبلی الیکشن میں  بنگال میں  صرف ۳؍ سیٹیں جیتی تھیں،  نے موجودہ اسمبلی الیکشن میں  ۷۷؍ سیٹوں پر فتح حاصل کرکے حالانکہ بڑی کامیابی حاصل کی ہے مگر امیت شاہ کے ان دعوؤں کے آگے یہ کامیابی پھیکی ہے  جن میں ۲۰۰؍ سے زیادہ سیٹوں پر قبضہ کرکے بنگال میں  اگلی حکومت بی جےپی کی  بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جس شدت کے ساتھ بی جے پی نے یہ الیکشن لڑا اور اپنے مرکزی وزیراور اراکین پارلیمان تک کو امیدوار بنادیا،اس شدت کو دیکھتے ہوئے بی جےپی کو حاصل ہونے والی کامیابی پھیکی نظر آرہی ہے۔ بی جےپی کو ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی الیکشن  میں  اپنی کامیابی کی وجہ سے کافی امیدیں تھیں۔ ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی الیکشن میں اس نے ۱۲۱؍ اسمبلی سیٹوں پر بھی سبقت حاصل کی تھی اس لحاظ سے اسے امید تھی کہ وہ ۱۲۰؍ سے زائد سیٹیں آسانی سے جیت جائے گی مگر  بنگال کے عوام نے اسے ۷۶؍ سیٹوں تک  ہی محدود کردیا۔ 
سارے انتخابی سروے غلط ثابت ہوئے
 مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی تاریخی فتح نے تمام  انتخابی سرویز کو غلط ثابت کردیا ہے۔ اکثر انتخابی سرویز میں  بی جے پی اور ٹی ایم سی میں کانٹے کی ٹکر بتائی گئی تھی اور کہاگیاتھا کہ اس میں ٹی ایم سی کو سبقت حاصل رہے گی مگر نتائج میں بی جےپی ٹی ایم سی کے سامنے کہیں نہیں ٹھہر سکی۔ کسی بھی ایکزٹ پول نے یہ اندازہ نہیں لگایاتھا کہ ممتا بنرجی اتنے بڑے فرق کے ساتھ   اقتدار میں واپسی کریں گی۔ 
 پیرزادہ نے ایک سیٹ جیتی  لیفٹ اور کانگریس کا کھاتا  نہیں کھلا
 کئی دہائیوں  تک  ریاست پر حکمرانی کرنے والے بائیں  محاذ کو عوام  نے اس بری طرح مسترد کیا کہ اسے ایک سیٹ میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ کانگریس بھی یہاں اپنا کھاتا کھولنے میں ناکام رہی ۔ مبصرین کے مطابق  مجموعی طورپر مغربی بنگال کے سیکولر ووٹروں  نے ٹی ایم سی کی فتح کو یقینی بنانے کیلئے   کانگریس اور بائیں محاذ کے اتحاد کو  ووٹ دینے کا جوکھم لینے سے گریز کیا۔ البتہ  کانگریس اور بائیں محاذ  کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے والے درگاہ  فرفراشریف کے پیرزادہ عباس صدیقی کا ایک امیدوار کامیاب ہواہے۔ ان کے اتحاد نے راشٹریہ سیکولر مجلس پارٹی  کے نام سے الیکشن لڑاتھا اور ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK