مقبوضہ فلسطین میں یہودی آباد کاری میں اضافہ کی مخالفت

Updated: January 12, 2020, 3:59 PM IST | Agency | Brussels

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل حکومت کے ذریعےیہودی آباد کاروں کیلئے ۲؍ ہزار کے قریب نئے مکانات تعمیر کرنے کے اعلان کی یورپی یونین سمیت اردن اور جاپان نے سخت مخالفت کی ہے۔

فلسطین ۔ تصویر : آئی این این
فلسطین ۔ تصویر : آئی این این

  بر سلز : مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل حکومت  کے ذریعےیہودی آباد کاروں  کیلئے ۲؍ ہزار کے قریب نئے مکانات تعمیر کرنے  کے اعلان کی  یورپی یونین سمیت اردن اور جاپان نے سخت مخالفت کی ہے۔
 یورپی یونین نے فلسطین  کے مقبوضہ علاقوںمیں اسرائیل کی یہودی آباد کاری کی  مذمت کرتے ہوئے  نئی  یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یورپی یونین کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی املاک پرقبضے اور دیگر نسل پرستانہ جرائم کو روکنا ہو گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی قائم کردہ تمام یہودی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کی رو سے ناقابل قبول ہونے کے ساتھ خطے میں دیر پا امن کےقیام میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔یورپی یونین نے کہا ہے کہ۱۹۶۷ءکی جنگ میں قبضے میں  لئے گئے علاقوں میں کسی قسم کا رد و بدل  یک طرفہ  اور غیرقانونی اقدام ہوگا ۔ یورپی یونین نے اسرائیل کو سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعمل درآمد یقینی بنا نے زور دیا ۔
 اردن کی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور اسرائیلی منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان ضیف اللہ الفائز نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور نو آباد کاروں  کیلئے نئے مکانات کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بیان میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فلسطین میں غیرقانونی یہودی آبادکاری کی روک تھام اور دیر پا امن کےقیام کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔الفائز نے فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کیخلاف سلامتی کونسل کی قرارداد۲۳۳۴؍ پر عمل کرانے کا  مطالبہ کیا۔
 جاپان  نے بھی  فلسطین میں اسرائیل کی یہودی آباد کاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آباد کاری کے نئے اعلان کو امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔جاپانی وزارت خارجہ کے ترجمان ماساتو اوٹاکا نے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کا اقدام ناقابل قبول ہے۔جاپانی وزارت خارجہ کے مطابق جاپان غرب اردن میں یہودی آبادکاری سے متعلق اسرائیلی اقدامات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جاپان کو اسرائیلی کےاقدامات پر افسوس ہے۔   اسرائیل  کا یہ یک طرفہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلا ف ورزی ہے جس پر عالمی برادری کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ جاپان نے کہا کہ  اس سے خطے میں دیر پا امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ رہا  ہے اور قضیہ  فلسطین کے ۲؍ ریاستی حل کی راہ میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK