Updated: June 09, 2026, 8:39 AM IST
| New Delhi
آئینی قدروں کے تحفظ کا عزم، ’ووٹ چوری‘ کیخلاف چیف جسٹس کو مکتوب بھیجنے کا فیصلہ ، وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر زور
دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں میٹنگ کے بعد انڈیا بلاک کے لیڈر میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے۔ ( پی ٹی آئی)
۲؍ سال بعد ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوتے ہوئے پیر کو اپوزیشن لیڈروں نے آپس میں بہتر اتحاد ، موثر حکمت عملی ، جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں میٹنگ کے بعد تمام پارٹیوں کے لیڈروں نے پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بنیادی طور پر نکات پر اتفاق ہوا(جنہیں بائیں جانب خبر سے متصل باکس میں دیکھا جاسکتاہے۔)
انڈیا اتحاد میں باہمی رابطہ کو مضبوط کرنے کیلئے ہر ۲؍ ماہ میں میٹنگ پر اتفاق کرتےہوئے آئندہ اجلاس اگست میں حیدرآباد میں منعقد کرنے کافیصلہ کیاگیا۔ ’ایس آئی آر‘ ،مبینہ’’ووٹ چوری‘‘ اور انتخابی بے ضابطگیاں اجلاس میں شامل تمام پارٹیوں کی تشویش کا رہا۔ اس ضمن میں طے کیاگیا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھیں گے اور عدالتی مداخلت کی اپیل کریں گے۔ اس کے علاوہ پریس کانفرنس میں نیٹ اور سی بی ایس ای تنازع پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا گیا اور اس پر قائم رہنے کا اشارہ دیاگیا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ’’ اپوزیشن لیڈر مرکزی حکومت سے ملک کی نازک معاشی صورتحال، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر بحث کیلئے کل جماعتی میٹنگ کامطالبہ کیا ہے۔ کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ ہونےوالے اس اجلاس میں کھرگے کے مطابق اپوزیشن کی ۲۵؍ پارٹیوں کے لیڈشریک ہوئے۔