مانسون سیشن کی حکمت عملی تیار کرنے کیلئے بلائی گئی میٹنگ میں، نانا پٹولے، وجے وڈیٹیوار، جینت پاٹل اور اسلم شیخ جیسے لیڈران نہیں پہنچے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 9:28 AM IST | Mumbai
مانسون سیشن کی حکمت عملی تیار کرنے کیلئے بلائی گئی میٹنگ میں، نانا پٹولے، وجے وڈیٹیوار، جینت پاٹل اور اسلم شیخ جیسے لیڈران نہیں پہنچے۔
مہاوکاس اگھاڑی کو بدھ کے روز اس وقت اندرونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب اسمبلی کے مانسون اجلاس کیلئے اپوزیشن کی حکمت عملی طے کرنے کے مقصد سے بلائی گئی اہم میٹنگ میں اتحاد کے ۲۳؍ اراکین اسمبلی غیر حاضر رہے۔ اتنی بڑی تعداد میںاراکین اسمبلی کی عدم موجودگی کے بعد سیاسی حلقوں میں اتحاد کے اندر تال میل اور یکجہتی کے تعلق سے مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق شیوسینا (ادھو ) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اتحاد میں ہم آہنگی کے بارے میں سوالات اٹھائے۔غیر حاضر رہنے والے ۲۳؍ اراکین اسمبلی میں سے ۱۶؍ کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان میں کانگریس کے نانا پٹولے اور وجے وڈیٹیوار، امیت دیشمکھ، اسلم شیخ ، وشواجیت کدم اور وکاس ٹھاکرے جبکہ این سی پی (شرد) کے جینت پاٹل روہت پوار، سندیپ شیرساگر اور ابھیجیت پاٹل، جبکہ شیوسینا ( ادھو) کے سنیل راؤت، گجانن لاواٹے، باباجی کالے، راہل پاٹل اور سنجے دریکر شامل ہیں۔
این سی پی (شرد) کے سینئر لیڈر جینت پاٹل نے اپنی غیر حاضری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ پہلے ۲۳؍ جون کو ہونے والی طے تھی، لیکن بعد میں اچانک ۲۴؍ جون کو کر دی گئی۔ ۲۴؍ جون کو میری پہلے سے طے شدہ نجی مصروفیات تھیں اس لئےمیں میٹنگ میں شریک نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں نے اس بارے میں اپوزیشن لیڈر امباداس دانوے کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا۔ کانگریس لیڈروجے وڈیٹیوار نے اپنی غیر حاضری کی وجہ صحت کے مسائل بتائی، جبکہ نانا پٹولے نے ذاتی مصروفیات کا حوالہ دیا۔ شیوسینا (ادھو)) کے رکن اسمبلی سنیل راؤت نے کہا کہ شدید بارش کے بعد ان کے حلقے میں تقریباً ۳۰۰؍ میٹر طویل حفاظتی دیوار گر گئی تھی، جسکے باعث وہ امدادی کاموں میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی غیر حاضری کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ پارٹی سے بے وفائی کر رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ آخری سانس تک ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔کانگریس کے رکن اسمبلی وکاس ٹھاکرے نے بھی کہا کہ انہوں نے اپنی پیشگی مصروفیات کے بارے میں پارٹی دفتر کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اراکین مہا وکاس اگھاڑی کے ساتھ ہیں اور روزانہ ودھان بھون کی سیڑھیوں پر حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں، اسلئے اتحاد میں اختلافات کی کوئی بات نہیں ہے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ مانسون اجلاس اپوزیشن کیلئےیہ ایک اہم موقع ہے اور ایسی صورت میں حکمت عملی کیلئے بلائی گئی میٹنگ میں اتنی بڑی تعداد میں غیر حاضری اتحاد کے اندر رابطے کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسکے علاوہ روہت پوار کی جانب سے اسمبلی کے احاطے میں مسلسل تنہا احتجاج کرنے سے بھی سینئر لیڈران اور کارکنان کے درمیان فاصلے کی قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مہاوکاس اگھاڑی ان تاثرات کو کس حد تک ختم کر پاتی ہے اور مہایوتی کو کتنا چیلنج پیش کر پاتی ہے۔