Updated: June 25, 2026, 8:06 PM IST
| New Delhi
واضح رہے کہ ملک میں اس وقت کوئی ایک، عالمگیر ”قومی شہریت کارڈ“ موجود نہیں ہے۔ پریس انفارمیشن بیورو نے دسمبر ۲۰۱۹ء میں، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ قابلِ قبول شہریت کی دستاویزات کے بارے میں فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے بدھ کے دن یہ بیان دے کر ملک بھر میں طوفان کھڑا کر دیا کہ ہندوستانی پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے، شہریت کا ثبوت نہیں، حالانکہ پاسپورٹ صرف ہندوستانی شہریوں کو ہی جاری کئے جاتے ہیں۔ ۱۴ ویں ’پاسپورٹ سیوا دیوس‘ کے موقع پر دیئے گئے اس بیان نے وسیع پیمانے پر الجھن کو جنم دیا ہے کہ آخر وہ کون سی دستاویز ہے جو قطعی طور پر ہندوستانی شہریت کو ثابت کرتی ہے۔
وزارت خارجہ کے حکام نے کہا کہ پاسپورٹ بین الاقوامی سفر میں سہولت تو فراہم کرتا ہے لیکن یہ بذاتِ خود شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ یہ بیان، سپریم کورٹ کے حالیہ مشاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جو ایس آئی آر سے جڑی درخواستوں کی سماعت کے دوران کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ آدھار (Aadhaar) ایک شناختی دستاویز ہے اور شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ نے پاسپورٹ خدمات میں پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی اور نوٹ کیا کہ ملک بھر میں ۵۰۰ سے زائد پاسپورٹ سیوا کیندر کام کر رہے ہیں اور ۲۰۲۵ء میں ۵ء۱ کروڑ پاسپورٹ اور متعلقہ خدمات فراہم کی گئیں۔ پاسپورٹ اب پولیس ویریفکیشن کے وقت کو چھوڑ کر ۶ ورکنگ دنوں کے اندر پروسیس کئے جاتے ہیں اور درخواست گزاروں کو پروسیسنگ سینٹرز پر ۴۵ منٹ سے بھی کم وقت گزارنا پڑتا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ ۲۷ ممالک ہندوستانیوں کو ویزا فری انٹری کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ یہ تعداد ۲۰۱۹ء میں ۱۶ تھی، جبکہ ۴۷ ممالک ویزا آن ارائیول اور ۶۶ ممالک ای-ویزا (e-visa) کی سہولت پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان میں مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر بلڈوزر کارروائی یکطرفہ تھی
پاسپورٹ شہریت کا ثبوت کیوں نہیں؟
سیکشن ۵ کے تحت، پاسپورٹ اتھارٹی اس بات کی تصدیق کے بعد ہی پاسپورٹ جاری کرتی ہے کہ درخواست گزار ہندوستانی شہری ہے۔ تاہم، حکام نے واضح کیا کہ اس دستاویز کا قانونی مقصد صرف بیرونِ ملک سفر کرنے اور دوبارہ ہندوستان میں داخل ہونے کی اجازت دینے تک محدود ہے، جو بنیادی شہریت کی حیثیت کا قطعی تعین کئے بغیر بین الاقوامی سطح پر قومیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح آدھار بھی اس معیار پر پورا نہیں اترتا کیونکہ آدھار ایکٹ ۲۰۱۶ء کے تحت قانونی طور پر اسے شناخت اور رہائش کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، قومیت کے ثبوت کے طور پر نہیں۔ بہار اسپیشل انٹینسیو ریویژن کیس پر ۲۰۲۵ء کے ایک فیصلے میں، سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی کے بینچ نے کہا تھا کہ آتھار کا استعمال ”سخت قانونی طور پر صرف شناخت کے ثبوت کے طور پر ہوگا، ہندوستانی شہریت کے ثبوت کے طور پر نہیں۔“ پین (PAN) کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے، کیونکہ دونوں بالکل الگ قانونی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ پین کارڈ، ایک ٹیکس شناختی کارڈ ہے جو غیرملکی شہریوں کو بھی جاری کیا جاتا ہے جبکہ ووٹر آئی ڈی انتخابی فہرست میں اندراج کا ثبوت ہے جسے منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ۲۰۲۵ء کے ایک کیس میں، بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس امت بورکر نے فیصلہ دیا تھا کہ ووٹر آئی ڈی، آدھار، یا پین کارڈ کا ہونا خود بخود شہریت نہیں دیتا۔
واضح رہے کہ ملک میں اس وقت کوئی ایک، عالمگیر ”قومی شہریت کارڈ“ موجود نہیں ہے۔ حکومت کے اپنے پریس انفارمیشن بیورو نے دسمبر ۲۰۱۹ء میں، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ قابلِ قبول شہریت کی دستاویزات کے بارے میں فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال: بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد محرم الحرام کے جلوس کیلئے سخت ہدایات
اپوزیشن اور عوامی ردعمل
وزارت خارجہ کے اس بیان کے بعد، عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت کس دستاویز کو شہریت کا معتبر ثبوت مانتی ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اس مؤقف سے بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) کو شہریت پر سوال اٹھانے اور لوگوں سے ووٹنگ کا حق چھیننے کا موقع مل سکتا ہے۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے طنزیہ طور پر کہا کہ ”ایسا لگتا ہے کہ آج ہندوستانی شہریت کا واحد ثبوت ہندو ہونا اور بی جے پی کا ووٹر ہونا ہے۔“
نغمہ نگار جاوید اختر نے وزارت کے مؤقف کو ”مضحکہ خیز“ قرار دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا پاسپورٹ پہلے شہریت کی تصدیق کئے بغیر جاری کئے جاتے ہیں؟ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بی جے پی کے رکنیت کارڈ کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مذاقاً لکھا کہ ۲۰۳۰ء تک شاید یہ شہریت کا واحد قبول شدہ ثبوت بن جائے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر آدتیہ ٹھاکرے اور کانگریس کی سپریہ شری نیت دونوں نے سوال اٹھایا کہ پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے پولیس اصل میں کس چیز کی تصدیق کرتی ہے، اور کیا اب غیر ملکی حکومتوں کو ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈرز کی شہریت پر شک کرنا چاہئے؟ صحافی راجدیپ سردیسائی نے پوچھا: ”تو مجھے شہریت کا سرٹیفکیٹ کون دے گا؟ کوئی سرکاری بابو؟“
یہ بھی پڑھئے: مساجد کاانہدام مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کیلئے خطرہ
سوشل میڈیا پر طوفان
سوشل میڈیا صارفین کو وزارت کے موقف نے حیران کردیا ہے۔ ایکس پر بہت سے صارفین نے اس ستم ظریفی پر غور کیا کہ پاسپورٹ بدستور ”حکومتِ ہند کی ملکیت“ ہیں اور مانگے جانے پر انہیں واپس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک صارف نے پوچھا، ”اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں، آدھار ثبوت نہیں، اور ووٹر آئی ڈی بھی ثبوت نہیں... تو پھر کیا ہے؟“ دوسرے صارف نے شہریت ثابت کرنے کیلئے ”پیشانی پر ٹیٹو“ بنوانے کی ضرورت پر مذاق اڑایا، جبکہ ایک وائرل پوسٹ میں لکھا تھا: ”آپ آدھار کے بغیر پین، پاسپورٹ یا بینک اکاؤنٹ حاصل نہیں کرسکتے، لیکن آدھار خود نِرآتھار (بے آسرا) ہے۔“