Inquilab Logo Happiest Places to Work

مودی سرکار کی ۱۲؍سالہ مدت کارپر اپوزیشن کا سوال

Updated: June 11, 2026, 7:31 AM IST | New Delhi

کانگریس نے رپورٹ کارڈ’وعدے بمقابلہ حقیقت‘  جاری کیا، عام آدمی پارٹی ،سی پی آئی اور شیوسینا یو بی ٹی نے بھی کارکردگی پر شدید تنقید کی

Congress professors Rajiv Gowda and Amitabh Dubey can be seen at a press conference titled `Propaganda vs Accountability`.
کانگریس کے پروفیسر راجیو گوڑ ا اور امیتابھ دوبے ’پرچار بمقابلہ حساب‘ نامی پریس کانفرنس میں دیکھےجاسکتے ہیں

 وزیراعظم نریندرمودی کی تیسری مدت کار کے ۲؍سال مکمل ہونے پر ایک طرف حکومت نے اپنی حصولیابیوں کیلئے خود کی پیٹھ تھپتھپائی وہیں اپوزیشن نے اسے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس پارٹی نے منگل کو وزیر اعظم مودی کے مسلسل اقتدار کے۱۲؍ سال مکمل کرنے پر ان کی حکومت کی کارکردگی پر سوالات قائم کئے۔ اس موقع پر کانگریس کی جانب سے ’پرچار ورسیز حساب‘کے عنوان سے۷۵؍ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روزگار، اقتصادی ترقی، جمہوریت، بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے حوالے سے مودی حکومت کے دعوے عوام کیلئے عملی فوائد میں تبدیل نہیں ہو سکے۔
 اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نےیکس پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ گزشتہ۱۲؍ سال کی ’’غریب مخالف معاشی پالیسیوں اور کمزور خارجہ پالیسی‘‘ نے ملک کو ایسی صورتحال میں پہنچا دیا ہے جہاں لاکھوں غریب خاندان اور خواتین دوبارہ لکڑی کے چولہوں کے زہریلے دھوئیں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اجولا یوجنا کے تحت سبسڈی والے گیس سلنڈروں کی تعداد۹؍ سے کم کرکے۴؍کر دی گئی ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں۸۹؍ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، ’’ارب پتی دوستوں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرضے معاف کرنا اور اپنی ناکامیوں کا بوجھ غریبوں پر ڈالنا ہی مودی کا لوٹ ماڈل ہے۔‘‘
 یہ۷۵؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ کانگریس پارٹی کے تحقیقی شعبے نے تیار کی ہے اور اسے شعبے کے چیئرمین وی ایم راجیو گوڑا اور ان کے ساتھی امیتابھ دوبے نے جاری کیا۔راجیو گوڑا نے کہا کہ گزشتہ 12 برس ’’بڑے اعلانات، شاندار بیانات اور سرخیوں‘‘ سے بھرپور رہے، لیکن عوام کی زندگیوں میں کوئی بامعنی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے دور میں روپیہ دنیا کی کمزور ترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل رہا ہے۔ گوڑا نے کہا کہ ہر۱۰؍ میں سے۴؍گریجویٹ آج بھی بے روزگار ہیں۔ ان کے مطابق شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح۱۸ء۴؍ فیصد ہے۔خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کے حوالے سے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی۱۰۸؍ سے گر کر۱۳۱؍ہو گئی ہے۔
مودی حکومت میں عوام پریشان: سی پی آئی
 بہار بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے سیکریٹری رام نریش پانڈے نے مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے۱۲؍ سالہ دورِ اقتدار میں عام عوام مہنگائی، بے روزگاری اور مالی بحران سے پریشان ہیں۔پانڈے نے الزام لگایا کہ مہنگائی اور بدعنوانی  میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور معاشرے میں تفریق پسندانہ سیاست کو فروغ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں، آدیواسیوں، خواتین، اقلیتوں اور کمزور طبقات پر مظالم کے واقعات بڑھے ہیں۔ سی پی آئی لیڈر نے الزام لگایا کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا فائدہ صرف چند بڑے صنعت کاروں کو ملا ہے، جبکہ غریب مزید غریب ہوتے چلے گئے ہیں۔  مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی پالیسی دونوں ناکام رہی ہیں۔
۱۲؍سال دیش بے حال :عام آدمی پارٹی 
 عام آدمی پارٹی (آپ) کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے ایک ویڈیو جاری کیا ، جس میں انہوں نے مودی حکومت کے بارہ سال مکمل کرنے پر اس حکومت کی ناکامیاں گنوائیں۔ انہوں نے وزیراعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’۱۲؍سال ،دیش بے حال۔مودی نے پھیلایا نفرت کا جال۔دوست کو کیا مالا مال ، دیش کو کیاکنگال‘‘
کیا یہی وہ اچھے دن ہیں؟:شیوسینا یوبی ٹی 
 شیوسینا یوبی ٹی کے ایکس ہینڈل سے پوسٹر جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ’اچھے دن‘ آئیں گے، مہنگائی کم ہوگی، روزگار بڑھے گا، کسانوں کی آمدنی دگنی ہوگی، عام لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا، ایسے کئی وعدے کرکےمودی اقتدار میں آئے۔لیکن ان دس بارہ برسوں میں عام آدمی کی زندگی میں آخر کیا بدلا؟ پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی کا طوفان، بے روزگاری کی فکر، کسانوں کے مسائل، بڑھتا قرض اور متوسط طبقے پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ کیا یہی وہ “اچھے دن” ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK