Updated: July 27, 2026, 7:30 PM IST
| New Delhi
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک پولیس افسر نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ مواد کو ہٹانے کیلئے تین پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ دہلی پولیس کی سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیم قابلِ اعتراض مواد کی نشان دہی اور اسے فلیگ کرنے کیلئے تمام پلیٹ فارمز پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور مواد کی نشاندہی پر متعلقہ پلیٹ فارمز کو نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں حال ہی میں ہونے والے نوجوانوں کے مظاہروں کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق شیئر کی گئی مبینہ طور پر قابلِ اعتراض پوسٹس کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ ایک نامعلوم پولیس افسر نے انگریزی روزنامے کو بتایا کہ قابلِ اعتراض مواد کو ہٹانے کیلئے تین پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ دہلی پولیس کی سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیم قابلِ اعتراض مواد کی نشان دہی اور اسے فلیگ کرنے کیلئے تمام پلیٹ فارمز پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور مواد کی نشاندہی پر متعلقہ پلیٹ فارمز کو نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بہار احتجاج: پولیس کریک ڈاؤن، ۴۰۰؍ سے زائد مظاہرین گرفتار
’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، دہلی پولیس نے ۴۵۰ ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشان دہی کی تھی جنہوں نے مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر ڈیپ فیک ویڈیوز اور اے آئی سے تیار کردہ مواد شیئر کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے ایک نامعلوم افسر کے حوالے سے بتایا کہ پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس مواد میں امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرنے کی صلاحیت تھی یا نہیں۔
واضح رہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں ہونے والے طلبہ کے مظاہروں کے دوران یہ ہوسٹس اپلوڈ کئے گئے تھے۔ طلبہ مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نیٹ یو جی ۲۰۲۶ء پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ۲۰ جولائی کو دہلی پولیس کی جانب سے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، جو تین ہفتوں سے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر تھے، کو زبردستی اسپتال منتقل کرنے کے دو دن بعد، ہزاروں افراد دہلی میں ہونے والے اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ مظاہرین کے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے والے مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پیلٹ گنز کے استعمال کے ذریعے کریک ڈاؤن کیا گیا، جس سے درجنوں افراد زخمی ہوئے اور ملک گیر سطح پر اس تحریک میں مزید شدت آ گئی۔ پردھان نے سنیچر کو استعفیٰ دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی حکومتیں فوری طور پر گرفتار مظاہرین کو رہا کریں: سی جے پی کا مطالبہ
یہ احتجاج مرکزی حکومت کی جانب سے کئی اہم مطالبات تسلیم کئے جانے کے بعد ختم ہوا، جن میں دہلی پولیس کو مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز واپس لینے کی ہدایت دینا، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) میں اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کی تشکیل اور پیپر لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرانا شامل ہے۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور قابلِ اعتراض مواد کی نشاندہی ہونے پر مزید نوٹسز جاری کئے جائیں گے۔