سماجوادی پارٹی کے ساتھ ساتھ اب کانگریس اورعام آدمی پارٹی کے لیڈران نے بھی جانچ کےتئیں تحفظات کا اظہار کیا ،اسے مذہبی عقیدت سے کھلواڑ بتایا
EPAPER
Updated: June 24, 2026, 10:58 PM IST | Lucknow
سماجوادی پارٹی کے ساتھ ساتھ اب کانگریس اورعام آدمی پارٹی کے لیڈران نے بھی جانچ کےتئیں تحفظات کا اظہار کیا ،اسے مذہبی عقیدت سے کھلواڑ بتایا
رام مندرچندہ چوری اور غبن معاملے پر یوگی حکومت کے طرز عمل پراپوزیشن پارٹیاں سوال قائم کررہی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے بعد اب کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے بھی اس مبینہ بدعنوانی معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کئی سوالات قائم کئے ہیں۔
ایودھیا میں جو ہوا وہ مہاپاپ ہے:اکھلیش یادو
اکھلیش یادو نےسوال قائم کیا کہ بغیر ایف آئی آر درج کئے کیا ایس آئی ٹی جانچ کرلے گی۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ ’’ایس آئی ٹی کا فل فارم ہے Share in Theft (چوری میں حصہ)؟ یہ عوام کے اعتماد میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک مہاپاپ ہے اور عقیدت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔‘‘سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ عوام کی مذہبی عقیدت کے ساتھ کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ پورے صوبے، ملک اور دنیا بھر سے جو نذرانے اور چندے آتے ہیں، وہ سناتنی روایت کا حصہ ہیں۔ اگر اس روایت پر سوال اٹھتے ہیں تو یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور مناسب نہیں۔
جنہوں نے رام کو لوٹا، وہ دیش کا کیا کریں گے؟ :سرجیوالا
کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن رندیپ سنگھ سرجیوالا نے مبینہ رام مندر زمین جائیداد گھوٹالے کے معاملے پر مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جم کر نشانہ بنایا اور کہا کہ رام مندر سے جڑی مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں کے تعلق سے برسوں پہلے انتباہ اور ثبوت سامنے آنے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ سرجیوالا نے کہا،’’جنہوں نے رام کو لوٹ لیا، وہ دیش کا کیا کیا کریں گے، ذرا سوچئیے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نومبر۲۰۲۰ء میں ایک آڈٹ فرم نے رام مندر میں مبینہ مالیاتی گڑبڑ کے تعلق سے انتباہ دیا تھا، لیکن اس کے باوجود نہ کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جون۲۰۲۱ء میں کانگریس نے مبینہ گھوٹالے سے جڑی دستاویزات، رجسٹری اور دیگر کاغذات عام کیے تھے اور جن لوگوں کے نام اس وقت سامنے آئے تھے، وہی نام آج بھی چرچا میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت اور یوگی آدتیہ ناتھ نے جانچ تو بٹھائی، لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
سرجیوالا نے الزام لگایا کہ ’’مودی حکومت۲۰۲۰ء میں بھی خاموش تھی اور آج بھی خاموش ہے، کیونکہ رام مندر ٹرسٹ انہوں نے ہی بنایا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے کرداروں کے نام سامنے آ رہے ہیں، لیکن اصل ذمہ داروں پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
آپ لیڈرسنجے سنگھ ایس آئی ٹی سے ملیں گے
رام مندر کے نذرانے اور چندے میں مبینہ خردبرد کے معاملے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ایس آئی ٹی نے جمعرات کی صبح۱۱؍ بجے کا وقت دیا ہے۔ وہ وجے وشواس پنت سے ملاقات کرکے اس معاملے سے متعلق شواہد پیش کریں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سنجے سنگھ۲۰؍جون سے ایس آئی ٹی سے ملاقات کیلئے وقت مانگ رہے تھے۔ حال ہی میں لگائے گئے الزامات کے بعد ایس آئی ٹی نے انہیں طلب کیا ہے۔ اس ملاقات کو تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سنجے سنگھ نے ایک ویڈیو جاری کیا جس میں کہا کہ’’بھگوان شری رام کے مندر میں نذرانے اور چندے کی مبینہ چوری کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی نے مجھے۲۵؍ جون کو صبح۱۱؍ بجے لکھنؤ منڈل آیوکت (کمشنر) کے دفتر طلب کیا ہے۔ میں زمین گھوٹالے سے متعلق تمام دستاویزات ایس آئی ٹی کے چیئرمین کے حوالے کروں گا۔‘‘
’’چندہ چور اب تک ٹرسٹ میں کیسے موجود ہیں؟‘‘
اس سے قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سنجے سنگھ نے لکھا تھا’’۲؍کروڑ روپے کی زمین۱۸ء۵؍ کروڑ میں،۳؍کروڑ کی زمین۲۴؍ کروڑ میں، اور۹؍کروڑ کی زمین۵۵ء۴۷؍کروڑ روپے میں چمپت رائے نے خریدی۔ میرے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔ مجھے آج تک ایس آئی ٹی نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ آخر چندہ چور اب تک ٹرسٹ میں کیسے موجود ہیں؟‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا:’’ٹرسٹ مودی نے بنایا، لوٹ کا مال بی جے پی تک پہنچا۔ بی جے پی اسی پیسے سے پورے ملک میں اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان خرید رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی جی اب تک چندے کی چوری کے معاملے پر خاموش ہیں۔‘‘ ۲۱؍جون کو ایک اور پوسٹ میں سنجے سنگھ نے لکھا’’بھگوان شری رام کے دان پاتر میں مبینہ چندہ گھوٹالے کے خلاف آپ کے کارکنوں نے بھکشا مانگ کر اپنا احتجاج درج کرایا۔