Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان: انسٹاگرام پر آر ایس ایس مخالف ویڈیو پوسٹ کرنے والا شخص گرفتار، ‘پولیس کی زیادتی‘ پر تنازع

Updated: June 23, 2026, 6:06 PM IST | Jaipur

ریاست کے سابق وزیرِ اعلیٰ اشوک گہلوت نے چودھری کی حراست کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ”کیا اب اس ملک میں آر ایس ایس پر تنقید کرنا جرم بن گیا ہے؟“ انہوں نے فون ضبط کرنے کو ”سراسر آمریت“ قرار دیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

راجستھان میں انسٹاگرام پر آر ایس ایس مخالف ویڈیو پوسٹ کرنے والے ۲۵ سالہ کنٹینٹ کریئٹر نوین چودھری کی گرفتاری پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ چودھری نے اپنے انسٹاگرام پیج ”جھنجھنو ایکسپریس“ (Jhunjhunu Express)، جس کے ۱۱ ہزار سے زائد فالوورز ہیں، پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیم پر نوجوانوں میں ”نفرت کے بیج“ بونے کا الزام لگایا تھا۔ ویڈیو میں ایک کھیل کے میدان میں بچوں کے دو گروہ دکھائے گئے تھے، ایک باسکٹ بال کورٹ پر اسکیٹنگ کر رہا تھا اور دوسرا معمر افراد کے ساتھ تھا جو آر ایس ایس کارکنوں کے طرز کے لباس میں ملبوس تھے۔

چودھری نے بتایا کہ سائبر پولیس نے اتوار کی صبح انہیں فون کرنا شروع کیا اور ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہیں انسٹاگرام اور وہاٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے۔ صبح ۹ سے ۱۰ بجے کے قریب پانچ سے دس پولیس گاڑیاں ان کی رہائش گاہ پر پہنچی اور اہلکاروں نے ان کا فون چھین لیا اور انہیں اس طرح گھسیٹتے ہوئے لے گئے جیسے وہ کسی دہشت گرد کو گرفتار کرنے آئے ہو۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر آرٹی آئی قوانین کی ترامیم واپس نہ لینے پربھوک ہڑتال: انا ہزارے

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پولیس وین کے اندر ان کے ساتھ تقریباً ۳۰ منٹ تک مار پیٹ کی گئی جبکہ اہلکار ان سے بار بار آر ایس ایس کے بارے میں ان کی معلومات کے متعلق سوالات کرتے رہے۔ انہیں صبح ۱۰:۳۰ بجے سے رات ۸ بجے تک کھانے، پانی، بیت الخلا کی سہولت کے بغیر ایک الگ تھلگ سیل میں رکھا گیا۔ انہیں پیر کی صبح تقریباً ۱۱:۳۰ بجے رہا کیا گیا اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کچھ سوشل میڈیا پوسٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔

کوتوالی کے ایس ایچ او شرون کمار میل نے کہا کہ پولیس نے یہ کارروائی چودھری کی جانب سے انتشار پھیلانے اور امنِ عامہ کو خراب کرنے کی شکایتیں موصول ہونے کے بعد کی۔ انہوں نے تشدد کے الزامات کو ”جھوٹا“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی میں نئے اندراج والے رائے دہندگان میں مسلمانوں کی حصہ داری ۳۵؍ فیصد ہونے کا شوشہ

اپوزیشن نے چودھری کے خلاف پولیس کارروائی کو ’آمریت‘ قرار دیا

ریاست کے سابق وزیرِ اعلیٰ اشوک گہلوت نے چودھری کی حراست کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ”کیا اب اس ملک میں آر ایس ایس پر تنقید کرنا جرم بن گیا ہے؟“ انہوں نے فون ضبط کرنے کو ”سراسر آمریت“ قرار دیا اور حکومت سے اس کی قانونی بنیاد واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ راجستھان میں دیگر مقامات پر بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔

راجستھان کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے کہا کہ اگر ایسی ویڈیو پوسٹ کرنا جرم ہے تو ”کانگریس کا ہر کارکن یہ جرم بار بار کرے گا۔“ قائدِ حزبِ اختلاف (لیڈر آف اپوزیشن) ٹیکا رام جولی نے حکام پر اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے کا الزام لگایا اور اسے ”آئین کی بنیادی روح کی توہین“ کہا۔ سی پی آئی (ایم ایل) کے کارکنوں نے جھنجھنو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ ایس ایف آئی راجستھان کے صدر وجیندر نے بھی سوال کیا کہ کیا اب آر ایس ایس پر تنقید کرنا ایک جرم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK