کانگریس نے واشنگٹن سے معاہدے کے اعلان کو ’ٹرمپ نربھرتا‘ قرار دیا،پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ، مودی کے کابینی ساتھی معاہدہ کے دفاع میں اُترے
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 8:38 AM IST | New Delhi
کانگریس نے واشنگٹن سے معاہدے کے اعلان کو ’ٹرمپ نربھرتا‘ قرار دیا،پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ، مودی کے کابینی ساتھی معاہدہ کے دفاع میں اُترے
امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی معاہدے پر کانگریس سمیت اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی بیشتر جماعتوں نے سخت رد عمل کااظہار کیا ہے۔ کانگریس نے واشنگٹن سے تجارتی معاہدے کے اعلان کو ’ٹرمپ نربھرتا‘ قرار دیا جبکہ اکھلیش نے اسے کسانوں کے ساتھ دھوکہ بتایا ۔
کانگریس کے شعبۂ ابلاغ کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کو الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی نے امریکہ کے دباؤ میں اس کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا ہے، جس سے ملک کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے اس تعلق سے حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی جانی چاہئیں اور اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر زراعت نے ہندوستان کی جانب سے زرعی درآمدات کے آزاد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کے دباؤ میں کیا گیا ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پیسہ خرچ کر کے جو شبیہ بنائی گئی تھی، وہ اب خراب ہو رہی ہے، اسی خوف کے باعث مودی نےہند،امریکہ تجارتی معاہدے اور دیگر معاملات میں ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اسلئے ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم نے ہندوستان کے مفادات سے سمجھوتہ کر کے ملک کو بیچ دیا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ’’میں تین باتیں کہنا چاہتا ہوں لیکن بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی گھبرائے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ چار ماہ سے رکا ہوا تھا۔ اس بارے میں جو کچھ میں جانتا ہوں، وہ وزیر اعظم بھی جانتے ہیں۔ کل شام وزیر اعظم نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔‘‘ انہوںنے کہا کہ ’’مسئلہ سابق فوجی سربراہ کا نہیں ہے، یہ تو محض ایک سائڈ شو ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ یہ کس نے اور کیسے کیا، اس پر ملک کے عوام کو غور کرنا چاہئے۔اس معاہدے میں مودی نے عوام کی محنت اور ان کا خون پسینہ بیچ دیا ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ امریکہ میں صنعت کار اڈانی سےمتعلق جو معاملہ ہے، دراصل وہ اڈانی کے خلاف نہیں بلکہ مودی کو نشانہ بنانے جیسا ہے۔یہ معاملہ حقیقتاً وزیر اعظم کے خلاف ہے، کیونکہ اڈانی بی جے پی کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایپسٹین معاملہ بھی ہنوز پوری طرح سامنے نہیں آیا ہے، اسلئے وزیراعظم خوف زدہ ہیں۔
پرینکا گاندھی نے کہاکہ ’’امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکی کسانوں کی مصنوعات اب ہندوستانی بازار میں فروخت ہوں گی جس سے دیہی امریکہ میں پیسہ آئے گا۔ اس ڈیل سے صدر ٹرمپ نے امریکی کسانوں کیلئے فائدہ یقینی بنایا ہے۔ ایسے میں ہندوستان کے کروڑوں کسان جاننا چاہتے ہیں کہ اس تجارتی معاہدے کی شرائط کیا ہیں۔ کیا مودی حکومت ہندوستانی زرعی شعبے کو مکمل طور پر امریکہ کیلئے کھولنے جا رہی ہے؟ کیا ہندوستانی کسانوں کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست مقابلےکیلئے مودی حکومت مجبور کرے گی؟ کیا ہمارے کسانوں کے مفادات سے سمجھوتہ کیا گیا ہے؟ ‘‘
دوسری طرف مودی حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے لیڈر اس کے دفاع میں اتر گئے ہیں اور اس تجارتی معاہدے کے اعلان پر وزیر اعظم مودی کا خیرمقدم کیا ہے۔ مودی کے کابینی ساتھی اس اعلان پر کافی خوش ہیں اور اسے وزیر اعظم مودی کیلئے ’دوستی اور احترام‘ کی علامت قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کی ستائش کرنے کیلئے منعقدہ میٹنگ میں بی جے پی کے صدر نتن نبین کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امیت شاہ سمیت سینئر لیڈران موجود تھے۔
راجیہ سبھا کے لیڈر اور بی جے پی کے سابق صدر جے پی نڈا نے اس معاہدے کے تئیں اپوزیشن کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد ہی پارلیمنٹ کو اس معاہدہ کی جانکاری دے گی۔ انہوں نےاس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ وزیر بھی اس پر بیان دیں گے۔