سابق مرکزی وزیر اور این سی پی( شرد) کے سینئر لیڈر شرد پوار کا دونوں این سی پی کو ملانے کی کارروائی میںکوئی کردار ادا کرنے سے انکار، البتہ یہ ضرورکہا کہ اس سلسلے
میںمیٹنگیں ہورہی تھیں ،سونیترا پوار کی بطور نائب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری میں اتنی جلدبازی سے متعلق پوچھنے پر جواب دیاکہ ’’یہ سوال مجھ سے مت پوچھو!‘‘
این سی پی کے سینئر لیڈر شردپوار
مہاراشٹر سیاست کے سینئر ترین لیڈر سابق مرکزی وزیر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) (شرد چندر پوار) کے سینئر شرد پوار نے سنیچر کو یہ کہہ کر سبھی کو چونکا دیا کہ دونوں این سی پی کےانضمام کے تعلق سے انہیں علم نہیں ہے اور وہ اس کارروائی میں شامل نہیں تھے ۔ اس تعلق سے انہوں نے مبہم باتیں بھی کیں۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ نائب وزیر اعلیٰ آنجہانی اجیت دادا پوار کی یہ خواہش تھی کہ دونوں این سی پی ضم ہو جائے، تو اس بارے میں شرد پوار نے کہا کہ ہماری بھی یہ تمنا ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری ہو۔ ‘‘اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی کی نئی پیڑھی انضمام سے متعلق فیصلہ کرے گی۔
سنیچر کو شرد پوار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کی جس کے دوران مختلف موضوعات پر ان سے سوالات کئے گئے اور دو سوال بار بار پوچھے گئے ایک تو یہ کہ دونوں این سی پی کے انضمام پر شرد پوار کا کیا نظریہ ہے اور دوسرا سونیترا پوار کی حلف برداری میں اتنی جلد بازی کیوں کی گئی ، ان سوالوں پر انہوںنے مختلف انداز میں جوابات دیئے۔
دونوں این سی پی کے انضمام کے تعلق سے جب شرد پوار سے یہ پوچھا گیاکہ کچھ میونسپل کارپوریشن الیکشن میں دونوں این سی پی نے ایک ساتھ الیکشن لڑا ہے اور کچھ جگہ پر کامیابی بھی ملی تو اس صورت میں کیا دونوں این سی پی ضم ہوں گی؟ شرد پوار نے کہا کہ ’’انضمام کے تعلق سے خبریں میرے کانوں پر بھی پڑی ہے، اس بارے میں کی جانے والی بات چیت میں مَیں شامل نہیں تھا، لیکن اس بارے میں اجیت پوار نے این سی پی ( شرد) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے، جینت پاٹل اور دیگر چند لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی تھی۔مَیں نے سنا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے انضمام کے تعلق سے کئی میٹنگیں ہوئی ہیں اور مزید ہونے والی تھیں اور ۱۲؍ فروری کو اس بارے میں فیصلہ ہونے والا تھااور اجیت پوار نے یہ ہدف دیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد این سی پی (اجیت) کی جانب سے کوئی اور لیڈر اس کی پیروی کرتا ہے یا نہیں اس بارے میں مجھے نہیںمعلوم۔‘‘
ہماری بھی تمنا ہے کہ اجیت دادا کی خواہش پوری ہو
اجیت پوار کے بعد سے دونوں این سی پی کے انضمام کے تعلق سے آپ کاکیا رول ہوگا؟ یہ پوچھنے پر شرد پوار نے کہاکہ ’’ پارٹی کی نئی قیادت (پیڑھی)اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔‘‘ اجیت داداکی یہ خواہش تھی کہ دونوں این سی پی ضم ہو جائے اس پر شرد پوار نے کہا کہ ’’ ہماری بھی یہی تمنا ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری ہو۔‘‘شرد پوارنے کہا کہ’’نئے نائب وزیر اعلیٰ سے متعلق بات چیت یہاں نہیں ،ممبئی میں ہو رہی ہے ۔ یہ معاملہ ان کا اندرونی معاملہ ہے اور انہیں اس پر تبادلہ خیال کرنے اور مختلف سرگرمی انجام دینا کا پورا حق ہے۔اس پر مَیں کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘
سنیچر کی صبح ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے جب شرد پوار سے یہ پوچھا گیا کہ سونتیرا پوار نائب وزیر کا حلف لینے والی ہیںتو کیا آپ اس تقریب میں شرکت کرنے والے ہیں؟ اس بارے میں شرد پوار نے کہا کہ ’’اس بارے میں مَیں خبریں سن رہا ہے، مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ ان کی پارٹی میں یہ تجویز پیش کی ہوگی۔ کچھ لوگوں کا نام آرہا ہے کہ جو اس بارے میں سرگرم ہیں،پرفل پٹیل ، سنیل تٹکرے وغیرہ ۔ ان ہی لوگوں نے تجویز دی ہوگی۔میں اس تقریب میں شرکت نہیں کروں گا۔‘‘
’’ یہ سوا ل مجھ سے مت پوچھو‘‘
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ سونیترا پوار کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کیلئے اتنی جلد بازی کیوں کی جارہی ہے؟اس پر شرد پوار نے کہا کہ ’’یہ سوال مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہوں۔‘‘
انہوںنے مزید کہا کہ’’چونکہ ہماری سیاسی پارٹی الگ ہے اور ان کی پارٹی الگ ہے اس لئے وہ ان کی پارٹی کی سرگرمیوں کو انجام دینے کیلئے آزاد ہیں اور ہمیں ان کی آپسی کارروائی میں دخل نہیں دینا چاہئے۔‘‘شرد پوار کے بقول سونیترا ہمارے خاندان کی بہو ضرور ہے لیکن جب کوئی خاندانی معاملہ ہےتو ہم آپس میں اس پر غور وخوض کرتے ہیں لیکن جب سیاسی معاملہ ہے تو اس میں وہ آزاد ہیں۔شرد پوار کی بہوسونیترا پوار ریاست کی پہلی نائب وزیر اعلیٰ مقرر کی جارہی ہیں، پوار خاندان کے سینئر رکن ہونے کےناطے اس بارے تاثرات دریافت کرنے پر شرد پوار نے کہاکہ ’’اجیت پوارکی ہوائی جہاز حادثہ میں موت انتہائی افسوسناک ہے لیکن ہمیں حقیقت حال کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسی لئے کسی نہ کسی کو اجیت پوار کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہو تو اس سے عوام کو اعتماد مل سکتا ہے۔‘‘
جب شرد پوار سے یہ پوچھا گیا کہ یہ باز گشت ہے کہ سپریہ سلے کو مرکز میں اور ریاست میں روہت پوار کو اہم عہدہ دیاجاسکتا ہے؟اس تعلق سے شرد پوارنے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اس بارے میں مجھے نہیں معلوم ۔‘‘