• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین پر لب کشائی اور احتجاج کی سزا، ۸؍ اراکین ِپارلیمان معطل

Updated: February 04, 2026, 8:20 AM IST | New Delhi

پورے بجٹ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے، ’’زباں بندی ‘‘پر ایوان کے باہر مظاہرہ،’مصدقہ بیان‘ پیش کرنے کے باوجود بولنے نہ دینے کو ’’جمہوریت پر دھبہ‘‘ قرار دیا

Rahul Gandhi, Priyanka Gandhi and other Congress MPs protesting outside `Makar Dwar`.
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس کے دیگر اراکین پارلیمان ’مَکر دوار‘ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے۔

 منگل کو پھر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو لوک سبھا میں چینی دراندازی اور حکومت ہند کے طرز عمل پر  لب کشائی سے روک دیا گیا۔اس   پر شدید احتجاج کی پاداش میں   اپوزیشن   کے ۸؍ اراکین کو بجٹ اجلاس کی بقیہ مدت کیلئے معطل کردیاگیاہے۔  اس کے خلاف اپوزیشن  کے اراکین  نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں مکر دوار کے باہر راہل گاندھی کی قیادت میں  شدید احتجاج کیا جبکہ راہل گاندھی نے اسپیکر کی ہدایت پر ’’مصدقہ کاپی‘‘ فراہم کرنے کے باوجود لوک سبھا میں بولنے نہ دیئے جانے کو ’’جمہوریت پر دھبہ‘‘ قرا ر  دیتے ہوئے  اسپیکر کو تحریری شکایت سونپی ہے۔ 
اپوزیشن کے ۸؍ اراکین پارلیمان معطل
  اپوزیشن کے شدید احتجاج اور صدر نشیں کی طرف کاغذ پھاڑ کر پھینکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے  پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے منگل کو لوک سبھا میں ایک قرارداد پیش کی۔اس  کے ذریعہ  کانگریس  کے ۷؍ اور سی پی ایم  کے ایک رکن پارلیمان کو  بجٹ اجلاس کی بقیہ مدت کیلئے معطل کر دیاگیا۔  جن اراکین پارلیمان کو معطل کیاگیا ہے وہ گرجیت سنگھ اَوجلا، ہیبی ایڈن، سی کرن کمار ریڈی، امریندر سنگھ راجا وارِنگ، منیکم ٹیگور، پرشانت پڈولے اور ڈین کوریاکوسے (تمام کانگریس کے) اورکے ایس وینکٹیسن(سی پی  ایم)  شامل ہیں۔رجیجو کی پیش کردہ قرارداد میں ان  اراکین کا نام لے کر کہاگیاہے کہ  انہیں کاغذپھاڑ کرصدر نشیں کی طرف پھینکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ جس  وقت بطور احتجاج کاغذ کے ٹکڑے پھینکے گئے اس وقت  بی جےپی کے رکن پارلیمان  دلیپ سائیکیا صدر نشیں تھے۔  اراکین کی معطلی کی قرارداد منظور ہونے کے بعد لوک سبھا کی کارروائی  دن  بھرکیلئے  ملتوی کر دی گئی۔ 
کارروائی بار باری ملتوی کی گئی
  لوک سبھا میں اس سے قبل کئی بار کارروائی ملوتی کی گئی کیونکہ اپوزیشن قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو ہند-چین تنازع پر فوج کے سابق  سربراہ ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ یادداشت کا  اقتباس پڑھنے سے روکا جا رہا تھا۔ جس وقت کاغذ  کے ٹکڑے پھینکنے کا معاملہ پیش آیا اس وقت اپوزیش  کے اراکین اس لئے صدائے احتجاج بلند کررہے تھے کہ صدر نشیں نے   اپوزیشن لیڈر کی تقریر مکمل ہونے سے پہلے ہی دوسرے رکن کو  تقریر کرنے اور اپنی بات رکھنے کیلئے آواز دے دی تھی۔  اس سے قبل  صدر نشیں  نے  راہل گاندھی کو ٹوکتے ہوئے موضوع سے نہ ہٹنے اور  صدر کے خطاب پر بولنے کی ہدایت دی تھی ۔ اس پر راہل گاندھی نے واضح دلیل دی کہ ’’چین اور امریکہ کے درمیان تنازع آج کا سب سے اہم عالمی موضوع  ہے اور اس کی جھلک بجٹ اور صدر کے خطاب دونوں میں نظر آتی ہے۔‘‘ انہوں  نے  چین  کی دراندازی پر لب کشائی کا دفاع کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ  ہندوستان  اور چین کے درمیان بھی تنازع موجود ہےتاہم صدر نشیں  کے پی ٹینیٹی   نے  اس   سے عدم  اتفاق کرتےہوئے اگلے مقرر کا نام پکارنا شروع کردیا۔ حزب اختلاف کے کئی مقررین کا نام یکے بعد دیگرے پکارا گیا مگر ان میں سے کوئی بھی بولنے کیلئے کھڑا نہیں ہوا تو  صدر نشیں  نے این ڈی اے کی اتحادی تیلگو دیشم پارٹی کے ہریش بال یوگی کو آواز دی۔ اس پر کانگریس  کے اراکین کا احتجاج بڑھ گیا اور ہنگامہ برپا ہوگیا۔ 
 ’’تصدیق‘‘ کے باوجود بولنے نہیں دیاگیا
 یاد رہے کہ راہل گاندھی نے پیر کو سابق فوجی سربراہ نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا کچھ حصہ ایوان میں پڑھنے کی کوشش کی تھی تو  حکمراں محاذ سراپا  احتجاج ہوگیاتھا۔  وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے لے کر وزیر داخلہ امیت شاہ تک ایوان میں کسی عام رکن کی طرح کھڑے ہوکر چیخ رہے تھے اور راہل گاندھی کو  بولنے سے روک رہے تھے۔ اُس وقت ہنگاموں کے  بیچ  اسپیکر نے یہ فیصلہ سنایاتھا کہ راہل گاندھی پہلے ’’تصدیق شدہ کاپی‘‘ ایوان میں پیش کریں پھر بولیں۔  منگل کو اپنی باری آنے پر راہل گاندھی نے مذکورہ حکم کا حوالہ دیا اور لوک سبھا میں مذکورہ مضمون کی تصدیق شدہ کاپی  پیش کی۔اس میں سابق فوجی سربراہ نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ’’میں نےتصدیق کر دی ہے۔‘‘ کسی دستاویز کی تصدیق کیلئے رکن کو اس کی  دستخط شدہ کاپی اس حلف نامہ کے ساتھ  جمع کرنی ہوتی ہے کہ وہ  اس کی معلومات کے مطابق درست  ہے۔ اسپیکر کی کرسی پر اس وقت بی جےپی کے  رکن  کے پی ٹینیٹی موجود تھے۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK