• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپوزیشن حیران، انصاف کے منافی قراردیا

Updated: January 05, 2026, 11:51 PM IST | New Delhi

مقدمہ کی شنوائی کے بغیر طویل قید کو ضمانت کا آئینی جواز تسلیم نہ کرنے پر سوال، منوج جھا نے تشویش کااظہار کیا

The Supreme Court`s decision has come under fire.
سپریم کورٹ کافیصلہ تنقیدوں کی زد پر آگیا ہے

دہلی فساد کے ’’وسیع تر سازش‘‘ کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت  پر رہا کرنے سے سپریم کورٹ کے انکار پر ملک بھر میں  آئینی ماہرین   نے حیرت کااظہار کیا ہے۔ اپوزیشن  بطور خاص کمیونسٹ پارٹیوں نے  مقدمہ کی شنوائی کے بغیر طویل قید کو ضمانت کا جواز تسلیم نہ کرنے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ ایک طرف عمر خالد کو ۵؍ سال قید کے باوجود ضمانت نہیں  مل رہی اور  دوسری طرف سزا یافتہ مجرم گرمیت رام رحیم کو ۱۵؍ ویں بار پرول پر رہائی مل جاتی ہے۔ 
 سی پی آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی نے عدالت کے اس تبصرہ پر سوال اٹھایا کہ   ۵؍سال سے زائد عرصے تک مقدمہ کی شنوائی  کے  بغیر قید  نے  ابھی تک ضمانت کیلئے ’’آئینی عدم جواز‘‘ کی حد کو عبور نہیں کیا۔  انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں   اسے ’’انصاف کا قتل‘‘ قراردیا اور  سوال کیا کہ’’کیا مقدمہ کی شنوائی شروع ہونے کے کسی امکان کے بغیر ۵؍سال تک جیل میں سڑنا زندگی اور آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟‘‘ انہوں  نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ’’بی جے پی حکومت کی  مخالف  آوازوں کو نشانہ بنانے والی جابرانہ حکمت عملی‘‘ کو تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ اسی دوران سزا یافتہ مجرم گرمیت رام رحیم سنگھ کو عدالت نے ۱۵؍ویںمرتبہ پیرول دی ہے۔
   راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس(سی پی ایم)  نے کہا کہ ’’ضمانت قاعدہ ہے، جیل استثنا ہے‘‘ کا اصول بعض افراد  پر لاگو نہیں ہوتا۔انہوں نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’ایک شخص بغیر مقدمہ کے غیر معینہ مدت تک جیل میں سڑتا رہتا ہے جبکہ دوسرا بار بار  جیل  سے چھٹی  لے کر باہر آجاتا ہے۔‘‘ سی پی آئی (ایم) نے پارٹی کی سطح پر بھی  بیان جاری کیا اور عمر  خالد اور  شرجیل امام کو ضمانت سے محروم رکھنے کو قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ پارٹی نے کہا ہے کہ یو اے پی اے کو اختلاف رائے کو کچلنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ 
 سی پی آئی  کے جنرل سیکریٹری ڈی راجا نے کہا کہ  یہ انصاف نہیں بلکہ فیصلے کے بغیر سزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمانت سے انکار فوجداری انصاف کے نظام  کےدوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ آر جے ڈی کےمنوج جھا نے بھی کہا ہے کہ ضمانت سے انکار’’تشویشناک سوالات‘‘ کو جنم دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK