پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ’زباں بندی ‘ کے احکام، کئی الفاظ کے استعمال پر پابندی

Updated: July 15, 2022, 11:09 AM IST | new Delhi

پارلیمانی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اب اراکین ، جملہ جیوی ، تانا شاہی ، شکونی، جے چند، لالی پاپ، چنڈال چوکڑی اور پٹھو جیسے الفاظ کا استعمال نہیں کر سکیں گے

Parliament House
پارلیمنٹ ہائوس

 پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں الفاظ کے استعمال کے حوالہ سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس سے اپوزیشن پارٹیاں سخت برہم ہیں۔ پارلیمانی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اب اراکین، جملہ جیوی، شکونی، جے چند، لالی پاپ، چنڈال چوکڑی، گل کھلائے، پٹھو اور کورونا اسپریڈر جیسے الفاظ کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ایسے الفاظ کا استعمال غیر اخلاقی قرار دیا جائے گا اور انہیں ایوان کی کارروائی سے حذف کر دیا جائے گا۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ  نے ایک کتابچہ  جاری کیا ہے جس میں وہ الفاظ شامل کئے گئے ہیں جو غیر پارلیمانی قرار دئیے گئے ۔ اس کتابچے کے  مطابق لوک سبھا سیکریٹریٹ نے نکما، نوٹنکی، ڈھنڈورہ پیٹنا اور بہری سرکار جیسے الفاظ کو بھی غیر پارلیمانی زبان میں شامل کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بدسلوکی،  فریب دہی، ڈراما اور نااہل جیسے الفاظ کو بھی غیر پارلیمانی الفاظ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
 خیال رہے کہ ملک کے مختلف قانون ساز اداروں کے ساتھ ساتھ دولت مشترکہ کی پارلیمانوں میں اسپیکرز کی طرف سے وقتاً فوقتاً کچھ الفاظ اور تاثرات کو غیر پارلیمانی قرار دیا جاتا ہے اور لوک سبھا سیکریٹریٹ  نے بھی یہی کیا ہے  اور انہیں مستقبل میں فوری حوالہ کے  لئے مرتب کیا گیا ہے لیکن اس پر کافی ہنگامہ ہے۔ اس تعلق سے لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے کہا کہ کسی لفظ پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔  راجیہ سبھا کے چیئرمین یا لوک سبھا کے اسپیکر اجلاس کے دوران ایوان میں بولے گئے الفاظ کا جائزہ لیتے ہیں اور الفاظ کے غیر پارلیمانی ہونے پر اسے کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت دیتے ہیں ۔ یہی کام اس وقت کیا گیا ہے لیکن اس پر بلاوجہ ہنگامہ کیا جارہا ہے۔
  ادھرکانگریس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے عین قبل حکومت کی جانب سے غیرپارلیمانی الفاظ کی نئی فہرست جاری کرنے کو ’بے تکا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکار کی سچائی بتانے والے  الفاظ کا استعمال غیر پارلیمانی قرار  دینا لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ کانگریس پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے حکومت کی  فہرست پر تنقید کرتے ہوئے `نئے ہندوستان کے لیے نئی لغت ٹویٹ کیا اور اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر راگھو چڈھا نے کہا کہ اگر اپوزیشن حکومت کے کام کاج کو لے کر تنقید کرتی ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔ یہ تو زباں بندی کی کوشش ہے جس کی  مخالفت کی جانی چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK