• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایپسٹین فائلز: محکمہ انصاف نے ۳۰؍ لاکھ صفحات جاری کئے، ٹرمپ، مسک، گیٹس سمیت کئی طاقتور افراد شامل

Updated: January 31, 2026, 6:00 PM IST | Washington

محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ شفافیت کا مطلب تصدیق نہیں ہے اور اس مواد کو احتیاط کے ساتھ پڑھا جانا چاہئے۔ ان فائلوں میں نامزد کسی بھی فرد پر ایپسٹین کے جرائم کے حوالے سے باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی الزام ثابت ہوا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین فائلز سے جڑے مزید ۳۰؍ لاکھ صفحات جاری کئے ہیں جس کے بعد جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور اس کے طاقتور سماجی نیٹ ورک کے متعلق کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ ۳۰ جنوری کو امریکہ کے شفافیت کے قانون کے تحت عام کی جانے والی ان دستاویزات میں ای میلز، ’ٹپ شیٹس‘ اور اندرونی نوٹس شامل ہیں جو وفاقی تحقیقات کے دوران جمع کئے گئے تھے۔ ان فائلز میں گزشتہ دہائیوں میں ایپسٹین کے ساتھ روابط رکھنے والے کئی معروف سیاست دانوں، ارب پتیوں، مشہور شخصیات اور غیر ملکی لیڈران کے نام شامل ہیں۔

ٹرمپ پر عصمت دری اور قتل کے سنگین الزامات، وہائٹ ہاؤس نے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا

سیاسی طور پر سب سے زیادہ حساس مواد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے متعلق ہے جن کے ایپسٹین کے ساتھ سماجی تعلقات پہلے ہی سے ریکارڈ پر ہیں۔ نئی فائلوں میں ایف بی آئی کی ’ٹپ شیٹ‘ کے وہ اندراجات شامل ہیں جن میں ٹرمپ پر عصمت دری، جنسی اسمگلنگ اور یہاں تک کہ قتل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں کئے گئے ایک اندراج میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ۱۹۹۰ء کی دہائی کے وسط میں نیوجرسی میں ایک ۱۳ سالہ لڑکی کا ٹرمپ نے ریپ کیا تھا، جسے مبینہ طور پر ایپسٹین نے اسمگل کیا تھا۔

ٹرمپ پر عائد کردہ یہ سنگین الزام ایف بی آئی کی اس فہرست میں شامل ہے جس میں ’الیگزینڈر برادرز‘ (فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے برادران جو جنسی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں) کے خلاف ایک علیحدہ تحقیقات سے منسلک عوامی اطلاعات درج ہیں۔ دستاویز کے مطابق، شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ حملے کے دوران ٹرمپ کو کاٹنے والی لڑکی کو بری طرح پیٹا گیا تھا۔ ایف بی آئی کے مطابق، کال کرنے والے سے رابطہ کیا گیا اور یہ اطلاع واشنگٹن فیلڈ آفس کو بھیج دی گئی، تاہم اس کا کوئی نتیجہ یا تصدیق ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ، کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کریں گے

ان فائلز میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک خاتون ۱۹۹۵ء اور ۱۹۹۶ء کے درمیان کیلی فورنیا میں ٹرمپ کے گولف کورس پر چلنے والے جنسی اسمگلنگ رنگ کی ”متاثرہ اور گواہ“ تھی، اس کا الزام ہے کہ گھسلین میکسویل جنسی پارٹیوں میں بطور ایجنٹ کام کرتی تھی۔ اس کیس میں ایف بی آئی نے نوٹ کیا کہ شکایت کنندہ کا انٹرویو لینے کے بعد اسے ”ناقابلِ اعتبار“ قرار دیا گیا تھا۔

مزید اندراجات میں ٹرمپ کی ’مار-اے-لاگو‘ کی رہائش گاہ میں مبینہ ”کیلنڈر گرلز“ پارٹیوں کا ذکر ہے، جہاں ایپسٹین مبینہ طور پر کم عمر لڑکیوں کو لاتا تھا۔ ان میں ایک لیموزین ڈرائیور کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس نے ٹرمپ اور ایپسٹین دونوں سے منسلک متاثرین کے بارے میں معلومات رکھنے کا دعویٰ کیا۔

وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان دے کر ان دعوؤں کو ”بے بنیاد اور جھوٹا“ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی صدارتی محل نے زور دیا کہ ان فائلوں میں غیر تصدیق شدہ مواد شامل ہے۔ محکمہ انصاف نے بھی ایک بیان میں خبردار کیا کہ ان فائلز میں ”جعلی یا غلط طریقے سے جمع کرائے گئے“ دعوے شامل ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ بھی کئی مرتبہ کسی بھی غلط کام میں شمولیت کی تردید کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایپسٹین کی گرفتاری سے برسوں پہلے ہی اس سے تعلقات ختم کر دیئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے کیلئے اسرائیل امریکہ کو اکسا رہا ہے، ترک وزیرخارجہ کا دعویٰ

ایلون مسک اور ایپسٹین کے درمیان ای میلز کا تبادلہ

حال ہی میں ریلیز کی گئی ایپسٹین فائلز میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک اور ایپسٹین کے درمیان ای میلز کے تبادلہ کی تفصیلات بھی موجود ہے۔ ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء میں بھیجے گئے پیغامات میں ایپسٹین مسک سے ان کے نجی جزیرے ’لٹل سینٹ جیمز‘ کے ممکنہ دورے کے حوالے سے انتظامات کے متعلق بات کر رہا ہے۔

ایک تبادلے میں اپسٹین نے پوچھا کہ جزیرے پر کتنے لوگ ہیلی کاپٹر کے ذریعے آئیں گے۔ مسک نے جواب دیا کہ غالباً وہ خود اور ان کی (اس وقت کی) اہلیہ تلالہ رائلی ہوں گے۔ مسک نے یہ بھی پوچھا کہ کونسی رات کو ”سب سے وحشیانہ پارٹی“ ہوگی۔ ایک اور ای میل میں مسک نے پوچھا کہ جب وہ برٹش ورجن آئی لینڈز میں ہوں گے تو کیا وہاں ”دورے کا کوئی اچھا وقت“ ہے، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہاں ”ہمیشہ جگہ موجود ہے“۔ فائلوں میں مسک کے خلاف کسی مجرمانہ طرزِ عمل کا کوئی الزام نہیں ہے۔ ان کا نام صر سماجی رابطوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

بل گیٹس متعلق غیر مصدقہ حوالہ جات شامل

ممکنہ طور پر سب سے زیادہ متنازع غیر سیاسی الزامات، مائیکروسافٹ کے سی ای او بل گیٹس کے بارے میں ہیں۔ محکمہ انصاف کی فائلوں میں ایپسٹین کے ذریعے ۲۰۱۳ء میں لکھے گئے ڈرافٹ ای میلز شامل ہیں، جو ”بل“ کے نام ہیں۔ ان میں ایپسٹین دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے گیٹس کی ذاتی معاملات میں مدد کی، جس میں ”روسی لڑکیوں“ کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات کے بعد اینٹی بائیوٹکس کا حصول بھی شامل تھا۔

ڈرافٹ ای میلز کے مطابق، گیٹس کو ڈر تھا کہ اپسٹین کے جزیرے کے دورے کے دوران انہیں کوئی جنسی بیماری لگ گئی ہے اور وہ اپنی اہلیہ میلنڈا گیٹس کو بتائے بغیر ادویات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایپسٹین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے گیٹس کے غیر ازدواجی تعلقات میں سہولت فراہم کی اور ’ایڈرل‘ (Adderall) جیسی ادویات مہیا کیں۔

ان ای میلز کے بھیجے جانے کی کبھی تصدیق نہیں ہوئی اور یہ غیر تصدیق شدہ ہیں۔ گیٹس کے ترجمان نے ان دعوؤں کو ”قطعی طور پر لغو اور مکمل طور پر جھوٹا“ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ گیٹس پہلے بھی ایپسٹین سے ملاقات کا اعتراف کر چکے ہیں، بعد میں انہوں نے اس وابستگی کو ”بہت بڑی غلطی“ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا پہلی بار اعتراف، غزہ میں ۷۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید

پرنس اینڈریو اور بکنگھم پیلس کی ملاقاتیں

تازہ فائلز میں برطانوی شہزادے اینڈریو (باضابطہ نام اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر) کا نام بھی شامل ہے جو ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے طویل عرصے سے عوامی تنازعات کا سامنا کررہے ہیں۔ نئی جاری کردہ ای میلز میں ایپسٹین کو بکنگھم پیلس کے ۲۰۱۰ء کے دورے پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ڈنر کے انتظامات کے دوران ”بہت زیادہ رازداری“ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

پرنس اینڈریو نے ایپسٹین کو جاننے کا اعتراف کیا ہے لیکن وہ کسی بھی مجرمانہ فعل کی تردید کرتے ہیں۔ ایپسٹین سے ان کے تعلقات کی وجہ سے ماضی میں انہوں نے ورجینیا گیوفری کے ساتھ کئی ملین پاؤنڈ کا دیوانی تصفیہ کیا تھا، جس میں جرم کا اعتراف نہیں کیا گیا تھا۔

ایپسٹین فائلز میں سماجی تناظر میں ذکر کئے گئے درجنوں ہائی پروفائل نام شامل ہیں، جن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن، امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک، امیزون کے سی ای او جیف بیزوس، ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ، امریکی ہدایت کار ووڈی ایلن، ہالی ووڈ اداکار کیون اسپیسی، ماہر لسانیات اور اسکالر نوم چومسکی اور ماہر معاشیات اور سابق امریکی مشیر لیری سمرز شامل ہیں۔ محکمہ انصاف کا اصرار ہے کہ ناموں کا تذکرہ کسی غلط کام کی دلیل نہیں ہے۔

نیویارک کے میئر ممدانی کی والدہ میرا نائر کا نام بھی شامل

تازہ فائلز میں ایک غیر متوقع نام فلم ساز میرا نائر کا ہے، جو نیویارک شہر کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی والدہ ہیں۔ پبلسسٹ پیگی سیگل کی جانب سے ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو ایپسٹین کو بھیجے گئے ایک ای میل کے مطابق، میرا نائر نے اپنی فلم ’امیلیا‘ کی اسکریننگ کے بعد میکسویل کے ٹاؤن ہاؤس میں منعقدہ ’آفٹر پارٹی‘ میں شرکت کی تھی۔

ای میل میں شرکاء کی فہرست میں بل کلنٹن، جیف بیزوس اور جین پگوزی کے نام بھی شامل ہیں۔ نائر کے خلاف کسی غلط رویے کا کوئی الزام نہیں ہے؛ ان کا نام صرف ایک سماجی تقریب میں شرکت کرنے والے کے طور پر ظاہر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایپسٹین کے نیویارک اپارٹمنٹ میں کئی مرتبہ ٹھہرے تھے

تازہ ایپسٹین فائلز کے مطابق، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود بارک اور ان کی اہلیہ نیلی پرائیل نے اپسٹین کے نیویارک اپارٹمنٹ میں متعدد بار قیام کیا تھا۔ ۲۰۱۷ء کی خط و کتابت میں ایپسٹین کی اسسٹنٹ لیسلی گراف کی جانب سے صفائی کے انتظامات اور لاجسٹک کوآرڈینیشن کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ بارک نے اپسٹین کو جاننے اور ان کی ۲۰۰۸ء کی سزا کے بعد ان سے ملنے کا اعتراف کیا ہے لیکن کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

محکمۂ انصاف کا مؤقف: ایپسٹین کے ای میلز عوامی شفافیت کیلئے جاری کئے گئے

محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ شفافیت کا مطلب تصدیق نہیں ہے، اور اس مواد کو احتیاط کے ساتھ پڑھا جانا چاہئے۔ محکمہ نے زور دیا کہ ان فائلوں میں نامزد کسی بھی فرد پر ایپسٹین کے جرائم کے حوالے سے باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی الزام ثابت ہوا ہے۔ اس مواد کا بڑا حصہ ایف بی آئی کو موصول ہونے والی غیر تصدیق شدہ اطلاعات یا خود اپسٹین کی لکھی ہوئی ڈرافٹ ای میلز پر مشتمل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK