• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایپسٹین فائلز: ٹرمپ کا اسرائیل سے سمجھوتہ کرنے کا انکشاف؛ ایپسٹین کو غلاف کعبہ کے ٹکڑے بھیجے گئے

Updated: February 02, 2026, 8:25 PM IST | Washington

ایپسٹین نے ۵۰ ملین ڈالر سمیت جزیرہ ’لٹل سینٹ جیمز‘، نیو میکسیکو کا ’زورو رینچ‘، نیویارک کا ٹاؤن ہاؤز، پیرس اور فلوریڈا کی رہائش گاہیں اور ۳۳ قیراط کی ہیرے کی انگوٹھی اپنی بیلاروسی گرل فرینڈ کرینہ شولیاک کے نام کرنے کی وصیت کی تھی۔

Jeffrey Epstein. Photo: INN
جیفری ایپسٹین۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ جیفری ایپسٹین سے متعلقہ دستاویزات میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنر پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ۳۰ جنوری کو جاری کردہ ۳۰ لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل فائلز میں ایف بی آئی کی ایک رپورٹ میں ایک ’خفیہ انسانی ذریعے‘ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کو ”اسرائیل نے سمجھوتے پر مجبور کیا تھا“ اور ایپسٹین مبینہ طور پر اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کررہا تھا۔ یہ رپورٹ کسی ثبوت کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ ایف بی آئی کے پاس درج کیے گئے دعوؤں کا ریکارڈ ہے۔

دستاویز کے مطابق، اس شخص نے ایف بی آئی کو بتایا کہ سینیئر امریکی حکام اسرائیل، روس اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اثر و رسوخ میں تھے اور کشنر نے ٹرمپ کی صدارت اور امریکی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ذریعے نے دعویٰ کیا کہ کشنر کے `چباڈ` (حسیدی یہودی تحریک) کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور وہ مشکوک مالیاتی لین دین، منی لانڈرنگ اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں میں بھی ملوث تھے جن میں سے کوئی بھی ابھی تک عدالت میں ثابت نہیں ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل ایران پر امریکی حملےکا خواہاں، ایرانی میزائل پروگرام کو خطرہ کہا، ٹرمپ سخت سفارت کاری کےحامی

انڈونیشیائی صنعت کار ہری تانو سودیبجو، جنہیں فائل میں ایک اہم رابطہ کار کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نے مبینہ طور پر اس ذریعے کو بتایا کہ کشنر ہی ٹرمپ کے سیاسی آپریشن کے پیچھے ”اصل دماغ“ تھے۔ تانو سودیبجو نے ۲۰۱۹ء میں ٹرمپ کی بیورلی ہلز، کیلیفورنیا کی جائیداد ۵ء۱۳ ملین ڈالر میں خریدی تھی اور وہ اب بھی ان کے کاروباری شراکت دار ہیں۔ فائل میں سابق امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کی اہلیہ، رینڈا ٹلرسن کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کے شوہر نگرانی میں تھے اور ایف بی آئی سے بات کرنے کے خواہش مند تھے۔

دستاویز میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ ہارورڈ کے قانون کے پروفیسر ایلن ڈرشوٹز، جو ایپسٹین کے سابق وکیل تھے، کے موساد کے ساتھ روابط تھے اور انہوں نے کشنر پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ذریعے نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایسی فون کالز سنیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایپسٹین امریکی اور اتحادی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ان میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور ڈرشوٹز نے بارہا کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کھوکھلی دھمکی نہیں دیتے: اسرائیل میں امریکی سفیر

امریکی صدر کا دعویٰ: نئی دستاویزات انہیں ”غلط کاموں“ سے بری کرتی ہیں

اتوار کے دن صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ حال ہی میں منظرعام پر آنے والی ایپسٹین فائلیں انہیں غلط کاموں کے الزامات سے ”بری“ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ان دستاویزات کا مطالعہ نہیں کیا لیکن ”بہت اہم لوگوں“ نے انہیں بریفنگ دی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ”یہ (نئی فائلز) نہ صرف مجھے بری کرتی ہیں، بلکہ یہ اس کے برعکس ہیں جس کی بنیاد پرست بائیں بازو نے امید کی تھی۔“ انہوں نے امریکی صحافی مائیکل وولف پر ایپسٹین کے ساتھ مل کر انہیں سیاسی نقصان پہنچانے کی سازش کا الزام لگایا اور ممکنہ قانونی کارروائی کا اشارہ دیا۔

وہائٹ ہاؤس پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ ۳۰ جنوری کو جاری کردہ بہت سی دستاویزات عوام کی جانب سے جمع کرائے گئے غیر تصدیق شدہ، جھوٹے یا سنسنی خیز دعوؤں پر مشتمل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے الزامات کو مسترد کرنا فائلوں میں موجود کچھ اہم شہادتوں کی سنگینی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گریمی ۲۰۲۶ء: بلی ایلش، ٹیڈ بنی، جسٹن بیبر سمیت کئی فنکاروں کی ٹرمپ پر تنقید

جیفری اپسٹین کی وصیت

علیحدہ عدالتی دستاویزات میں ایپسٹین کی آخری وصیت کی تفصیلات پر روشنی ڈالی گئی ہے جس پر اس نے مین ہٹن جیل، نیویارک کی کوٹھری میں اپنی موت سے دو دن پہلے، ۸ اگست ۲۰۱۹ء کو دستخط کیے گئے تھے۔ اس وقت اس کے اثاثوں کی مالیت تقریباً ۲۸۸ ملین ڈالر تھی۔ وصیت کے مطابق، ایپسٹین اپنی محبوبہ، کرینہ شولیاک کو ۵۰ ملین ڈالر دینا چاہتا تھا۔ شولیاک بیلاروس کی شہری ہیں، وہ ۲۰۰۹ء میں امریکہ منتقل ہوئی تھیں اور ایپسٹین کے حلقے میں ”انسپکٹر“ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ ایپسٹین نے کئی بدنامِ زمانہ جائیدادوں کی ملکیت بھی انہیں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جن میں ’لٹل سینٹ جیمز‘ (پیڈو آئی لینڈ)، نیو میکسیکو میں اس کا ’زورو رینچ‘، نیویارک کا ٹاؤن ہاؤز اور پیرس و فلوریڈا کی رہائش گاہیں شامل تھیں۔ انہیں ۳۳ قیراط کی ہیرے کی انگوٹھی کا وصول کنندہ بھی نامزد کیا گیا تھا، جس کے ساتھ ایک ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹ میں لکھا تھا کہ یہ ”شادی کے ارادے سے“ دی گئی ہے۔

دیگر مطلوبہ مستفیدین میں ایپسٹین کے وکیل ڈیرن انڈائک (۵۰ ملین ڈالر)، اکاؤنٹنٹ رچرڈ کاہن (۲۵ ملین ڈالر) اور سابقہ ساتھی جزلین میکسویل (۱۰ ملین ڈالر) شامل تھے، جو اب جنسی اسمگلنگ کے جرم میں ۲۰ سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ایپسٹین کے بھائی مارک اور طویل عرصے تک ان کے پائلٹ رہنے والے لیری ویزوسکی کے لیے بھی ۱۰-۱۰ ملین ڈالر درج تھے۔ تاہم، ان میں سے کسی بھی وصیت پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے ایپسٹین کے اثاثے متاثرین کو معاوضہ دینے کیلئے بنائے گئے ٹرسٹ کو منتقل کر دیے گئے، جس کے پاس اب تقریباً ۱۲۷ ملین ڈالر باقی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین کے نئے فائلز میں صومالی لینڈ اور روتھ شائلڈ معاہدے کا انکشاف

ایپسٹین کو غلافِ کعبہ کے ۳؍ ٹکڑے بھیجے گئے تھے

ایپسٹین فائلز کی تازہ قسط میں سب سے حیران کن انکشاف یہ ہے کہ بدنام زمانہ جنسی مجرم کو غلافِ کعبہ (کسوہ) کے تین ٹکڑے بھیجے گئے تھے۔ ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو اے ای کی کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی نے ایک سعودی رابطے، عبداللہ المعری کے ساتھ مل کر مارچ ۲۰۱۷ء میں یہ اشیاء اپسٹین کو بھیجنے کا انتظام کیا۔ اس پیکج پر ”سعودی عرب کے آرٹ ورک“ کا لیبل لگایا گیا تھا اور اسے میامی کے راستے امریکی ورجن آئی لینڈز میں ایپسٹین کی سینٹ تھامس رہائش گاہ پر بھیجا گیا تھا۔

خط و کتابت کے مطابق، ایک ٹکڑا کعبہ کے اندر سے تھا، دوسرا بیرونی غلاف سے اور تیسرا اسی مواد سے بنا تھا لیکن کبھی (کعبہ کے غلاف کے طور پر) استعمال نہیں ہوا تھا۔ عزیزہ الاحمدی نے لکھا کہ اس سیاہ کپڑے کو ”کم از کم ایک کروڑ مسلمانوں“ نے چھوا ہے، جو اپنے ساتھ ”ان کی دعائیں، آنسو اور امیدیں“ لیے ہوئے ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایپسٹین نے یہ مقدس تبرکات کیوں حاصل کیے۔

برطانیہ کے سابق سفیر اپسٹین کے تعلقات پر لیبر پارٹی سے مستعفیٰ 

سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن نے ایپسٹین سے منسلک ہونے کے انکشافات کے بعد لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نئی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اپسٹین نے ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۴ء میں مینڈلسن سے مبینہ طور پر منسلک اکاؤنٹس میں ۲۵ ہزار ڈالر کی تین ادائیگیاں یعنی ۷۵ ہزار روپے بھیجے۔ مینڈلسن نے کہا کہ انہیں ایسی ادائیگیوں کا ”کوئی ریکارڈ یا یادداشت“ نہیں ہے لیکن وہ اس کی تحقیقات کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: محکمہ انصاف نے ۳۰؍ لاکھ صفحات جاری کئے، ٹرمپ، مسک، گیٹس سمیت کئی طاقتور افراد شامل

انہوں نے اپنے استعفیٰ نامے میں لکھا کہ ”میں لیبر پارٹی کے لیے مزید شرمندگی کا باعث نہیں بننا چاہتا۔“ واضح رہے کہ وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے ستمبر میں ایپسٹین کے ساتھ سابقہ روابط کی بنا پر مینڈلسن کو سفیر کے عہدے سے پہلے ہی ہٹا دیا تھا۔ جاری کردہ فائلوں میں مینڈلسن کی تصاویر بھی شامل ہیں جن میں وہ ایک ایسی خاتون کے ساتھ ہیں جس کی شناخت چھپائی گئی ہے، اس تصویر کے بعد ان کے خلاف سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK