تریپورہ میں گرفتار کی گئی دونوں صحافیوں کو رہا کرنے کا حکم

Updated: November 16, 2021, 10:21 AM IST | tripura

چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نےگرفتاری کے چند ہی گھنٹوں بعد ضمانت منظور کرلی

Samrudhi Sakunia  reporting from Tripura while his fellow journalist Swarna Jha in Inset. Both were arrested late Sunday night.
سمردھی سوکنیا تریپورہ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے جبکہ انسیٹ میں ان کی ساتھی صحافی سو َرنا جھا۔ دونوں کو اتوار کو دیر رات گئے گرفتار کیاگیا تھا۔

:تریپورہ میں مسلم مخالف تشدد کی زمینی حقیقت کا پتہ لگانے کیلئے وہاں پہنچ کر رپورٹ تیار کرنےو الی ۲؍نوجوان صحافیوں کو اتوار کی رات تریپورہ پولیس نے ڈرامائی انداز میں آسام سے گرفتار کرلیاتھا تاہم چند ہی گھنٹوں بعد  پیر کو انہیں  چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ  نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا ہے۔
   یاد  رہے کہ سمردھی سوکنیا اور سو َرنا جھا پر پولیس نے ’’فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے‘‘ کا  الزام عائد کیا ہے۔ ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے ان پر تریپورہ میں کم از کم ۲؍ ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔ ایک ایف آئی آر میں پولیس نے انہیں ۲۱؍ نومبر کو اپنے وکیل  کے ساتھ بیان درج کرانے کیلئے آنے کی اجازت دیدی تھی مگر جب وہ دہلی واپسی کیلئے سیلچر (آسام ) جارہی تھیں تو آسام کی سرحد میں داخل ہوتے ہی انہیں روک لیاگیاتھا۔آسام کے کریم نگر ضلع میں نیلم بازار میں  انہیں دوپہر ڈھائی بجے سے  شام ۶؍ بجے تک بٹھا کر رکھاگیا۔ آسام پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف آسام میں کوئی کیس نہیں ہے البتہ تریپورہ پولیس کی درخواست پرانہیں حراست میں لیاگیا ہے۔ بعد ۶؍ بجے کے آس پاس پہلے  تریپورہ پولیس کی اسکواڈ ٹیم نیلم بازار پولیس اسٹیشن پہنچی اس کےبعد اعلیٰ حکام پہنچے اور رات ساڑھے ۱۲؍ بجے سمردھی اور سورنا کو گرفتار کرکے ٹرانزٹ ریمانڈ پر تریپورہ لے جایاگیا۔ 
 صحافت کی آزادی پر قدغن تصور کی جانے والی تریپورہ پولیس کی اس حرکت کی  چہار سو مذمت ہورہی ہے۔اتوار کو سمردھی سوکنیا اور سورنا جھا کو تحویل میں لئے جانے کے فوراً بعد ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے  ان کی فوری رہائی اور سفر کے ان کے حق کو بحال کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔ دونوں صحافی ایچ ڈبلیو نیوز چینل کیلئے کام کررہی ہیں اوراسی کی جانب سے دی گئی ذمہ داری کے تحت وہ تریپورہ گئی تھیں۔ انہیں پیر کو تریپورہ کے گومتی ضلع میں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا ہے۔ دونوں صحافیوں کی گرفتاری کا جواز پیش کرتے ہوئے تریپورہ پولیس نے اپنے ایک بیان  میں   بتایا ہے کہ جس کیس میں گرفتاری ہوئی وہ سمردھی سوکنیا کے ایک ٹویٹ سے متعلق ہے۔  اس نے  نیم جلی ہوئی ایک مسجد کا دورہ کرنے کے بعد ٹویٹ میں دعویٰ کیاتھا کہ یہاں قرآن کریم کو نذر آتش کیاگیاہے۔ 

 تریپورہ پولیس سربراہ وی ایس یادو کا دعویٰ ہےکہ سمردھی سوکنیا کا یہ ٹیوٹ حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور اس کی وجہ سے فرقہ وارانہ منافرت پیدا ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق ان کی جانچ میں اس بات کا پتہ نہیں چلا کہ کسی مذہبی کتاب کو نذرآتش کیاگیاہے۔اس بنیاد پر دونوں صحافیوں  سے اس ٹویٹ کے سلسلے میں  بیان درج کرانے کیلئے اگرتلا آنے کو کہاگیاتھا مگر جب یہ دیکھا گیا کہ وہ ریاست چھوڑ کر جارہی ہیں تو انہیں آسام میں حراست میں لینے کےبعد گرفتار کیاگیا۔ 
  تریپورہ پولیس کو شبہ ہے کہ سوکنیا سمردھی  نے جو ویڈیو ۱۱؍ نومبر کو ٹویٹ کیا ہے اس کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔ بہرحال تریپورہ پولیس کی اس کارروائی کی صحافتی حلقوں نے پرزور مذمت کی ہے۔ ایڈیٹرس گلڈ اور امریکی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ‘ کے علاوہ دہلی یونین آف جرنلسٹس، انڈین ویمن پریس کورپس، ڈی آئی جی آئی پی یو بی نیوز  انڈیا فاؤنڈیشن اور متعدد معروف صحافیوں  نے انفرادی طورپر سمردھی سوکنیا اور سورنا جھا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے صحافیوں کی آواز کو دبانے  اور صحافت کی آزادی کو مسدود کرنے کی کوشش قراردیاہے

tripura Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK