سابق افسران، صحافیوں اور سرکردہ شخصیات نےعدالت کی توجہ وزیراعلیٰ کی مسلسل زہرافشانیوں کی طرف مبذول کرائی، از خود نوٹس لے کر کارروائی کی اپیل بھی کی
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 12:08 AM IST | Guwahati
سابق افسران، صحافیوں اور سرکردہ شخصیات نےعدالت کی توجہ وزیراعلیٰ کی مسلسل زہرافشانیوں کی طرف مبذول کرائی، از خود نوٹس لے کر کارروائی کی اپیل بھی کی
وزیراعلیٰ کے آئینی عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ہیمنت بسوا شرما کی زہر افشانیاں اب سماج کے مہذب افراد کیلئے برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ جمعرات کو آسام کی ۴۰؍ سے زائد ممتاز شخصیات نے گوہاٹی ہائی کورٹ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی اوراس سے اپیل کی کہ وہ وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات کا نوٹس لے اور از خود کارروائی کرے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پیش کئے گئے مکتوب میں ، جس پر دستخط کرنےوالوں میں دانشور، سابق نوکر شاہ، ماہرین تعلیم، صحافی ، مصنف ،ڈاکٹر اور سرکردہ شخصیات کے دستخط ہیں، میں عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ’’آئین کی خلاف ورزیوں پر خاموشی یا بے عملی‘‘ اپنے آپ میں آئین کی’’اخلاقی اتھاریٹی کو کمزور‘‘ کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
سرکردہ شخصیات کی چیف جسٹس سے ملاقات
گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اشوتوش کمارکو یہ کھلا خط ممتاز شخصیات کے ایک وفد نے پیش کیا۔ انہوں نے آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ’’میاں ‘‘ کہہ کر پکارنے کو ہی ’’تحقیر آمیز‘‘ قرار دیا اور عدالت کی توجہ ہیمنت بسوا شرما کے کئی حالیہ بیانات کی طرف مبذول کرائی ’’جو نفرت انگیز تقاریر، انتظامی دھمکی اور ایک خاص کمیونٹی کو ذلیل کرنے مترادف ہیں۔ ‘‘
کھلے خط پر دستخط کرنے والوں میں ممتاز اسکالر ڈاکٹر ہیرن گوہین، آسام کے سابق ڈی جی پی ہر ے کرشنا ڈیکا، گوہاٹی کے سابق آرچ بشپ تھامس مینام پارمپِل، راجیہ سبھا کے رکن اجیت کمار بھوئیاں، ریٹائرڈ آئی اے ایس افسران، سینئر صحافی، ماہرین تعلیم، فنکار اور آسام کے سماجی کارکن شامل ہیں۔ مکتوب کی تفصیلات جمعہ کو میڈیا کے سامنے آئیں۔ دستخط کنندگان نے ہائی کورٹ کو ’’آئینی حقوق کا محافظ ‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ وہ ’’گوہاٹی ہائی کورٹ کے رول پرمکمل بھرسے کے ساتھ‘‘ رجوع کر رہے ہیں۔
’’ وزیراعلیٰ کے بیانات آئین کی کھلی خلاف ورزی‘‘
وفد نے چیف جسٹس آف گوہاٹی ہائی کورٹ کو جومکتوب پیش کیا ہے اس میں ’’میاں مسلمان‘‘ کے خلاف وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے حالیہ بیانات کو آئین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہےکہ ’’یہ بیانات، جوعوامی سطح پر بار بار اور تسلسل کے ساتھ دیئے جارہے ہیںسیاسی بیان بازی سے آگے بڑھ کر آئین کے ذریعہ کھینچے گئے اس دائرہ میں داخل ہوچکے ہیں جو انسانیت سوزی، اجتماعی تحقیر ،سرکاری سرپرستی میں ہراسانی اور دھمکیوں سے روکنے کیلئے بنایاگیاہے۔‘‘
مسلمانوں کے سماجی اور معاشی بائیکاٹ پراکسانے کا حوالہ
مکتوب میں ان بیانات کا خاص طور پر ذکر کیاگیا ہے جن میں آسام کے لوگوں کو ’’میاں‘‘ (مسلمانوں) کے خلاف سماجی اور معاشی امتیاز کو بڑھاوا دینے کی بات کی گئی ہے۔ دستخط کنندگان نے متنبہ کیا ہے کہ جب ایسی باتیں ریاستی حکومت کے سربراہ میں ہوں تو یہ قانون کے سامنے برابری، باعزت زندگی اور اخوت جیسے آئینی ضمانتوں پر سوال کھڑا کرتی ہیں۔
ممتاز شخصیات نے اپنے کھلے خط میں آسام میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آر) کے میں انتظامی مداخلت پر بھی تشویش کااظہار کیا ہے اور وزیراعلیٰ کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں حکمراں جماعت کے کارکنوں کو مسلم سماج کے افراد کے خلاف اعتراضات دائر کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ کسی آئینی اور نیم عدالتی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش جمہوری اصولوں اور ادارہ جاتی غیر جانبداری کی خلاف ورزی ہے۔ باقی صفحہ ۹؍ پر