• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ہیمنت بسوا شرما کے خلاف سپریم کورٹ سے سو موٹو کا مطالبہ

Updated: January 30, 2026, 10:13 PM IST | New Delhi

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آسام کے وزیراعلی ہیمنت بسوا شرما کی مسلمانوں کے خلاف تقریر پر کارروائی کا مطالبہ کیا، جس میں ان پر ریاست میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے، انہیں ووٹ کے حق سے محروم کرنے اور معاشی بائیکاٹ کی اپیل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے جمعہ کے روز آسام کے وزیراعلی ہیمنت بسواشرما کی ’’کھلی اور غیر آئینی نفرت انگیز تقریر‘‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں ان پر ریاست میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے، ان کے ووٹ کے حق سے محروم کرنے اور معاشی بائیکاٹ کی اپیل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بورڈ نے سپریم کورٹ سے فوری طور پر اس معاملے پر سو موٹو نوٹس لینے کی اپیل کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ ایسے بیانات آئینی حکمرانی اور سماجی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔اے آئی ایم پی ایل بی کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے ایک سخت بیان میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر اب حکمران بی جے پی کے انتہائی پسندوں تک محدود نہیں رہی بلکہ حکومتی اداروں میں’’عام اور مستحکم ‘‘ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگالی مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے تبصروں پر آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف شکایت درج

انہوں نے کہا کہ ’’جو باتیں کبھی کناروں سے سرگوشیوں میں کہی جاتی تھیں، اب وہ آئین کی حفاظت کی قسم کھانے والے وزرائے اعلیٰ عوامی اجتماعات میں کھلم کھلا کہہ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اتراکھنڈ، اترپردیش اور اب آسام کے وزرائے اعلیٰ کی بار بار اشتعال انگیز تقاریر کی طرف اشارہ کیا۔واضح رہے کہ ایک سرکاری تقریب کے دوران شرما نے مبینہ طور پر’’میاں‘‘ (بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے استعمال ہونے والا توہین آمیز لقب) کو مسلسل ہراساں کیے جانے کی اپیل کی تاکہ وہ ،آسام چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔اس کے علاوہ انہوں نے عوام کو مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کیلئے فارم بھی بھرنے کی ترغیب دی۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً۳۵؍ فیصد ہے اور اس ریاست میں سال کے وسط میں انتخابات متوقع ہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ شرما کا رویہ آئین کے آرٹیکل۱۴؍،۱۵؍ اور۲۱؍ پر براہ راست حملہ ہے، اور ہندوستان کے ایک آئینی جمہوریت کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔‘‘بیان میں کہا گیا کہ ’’جب کسی ریاستی حکومت کا سربراہ عوامی طور پر لوگوں کو الیکشن کے طریقہ کار کو ایک مذہبی اقلیت کے خلاف ہتھیار بنانے کی ہدایت کرتا ہے، تو یہ آئینی پابندیوں کے ٹوٹنے کی علامت ہے۔‘‘بورڈ نے صدر ہندسے بھی آسام کے وزیراعلیٰ کے خلاف ’’خطرناک اور تفرقہ انگیز‘‘ بیان کی وجہ سے مناسب آئینی کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آسام: بی جے پی نے ۵؍ لاکھ سے زائد مبینہ غیر ملکیوں کے خلاف شکایات درج کرائیں

بعد ازاں چیف جسٹس آف انڈیا سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی ہے، اور بورڈ نے خبردار کیا ہے کہ بے عملی نفرت انگیز تقریر کو مزید ہوا دے گی اور سماجی بے امنی اور قانون شکنی کے لیے سازگار حالات پیدا کرے گی۔ساتھ ہی اے آئی ایم پی ایل بی نے ان بیانات کو ہندوستان کے آئینی اداروں کے لیے امتحان قرار دیتے ہوئے تمام سیکولر سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور ’’انصاف پسند شہریوں‘‘سے اپیل کی کہ وہ امتیازی سلوک اور اجتماعی سزا کی اس کھلی اپیل کے خلاف آواز اٹھائیں۔اسی دوران بورڈ نے آسام کے مسلمانوں سے پرامن رہنے اور اشتعال سے بچنے کی اپیل کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK