• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سو ایف آئی آر کی دھمکی، انسانی حقوق کے محافظوں کوخاموش کرانے کی کوشش: ہرش مندر

Updated: February 04, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے محافظ ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ کی ان پر ۱۰۰؍ معاملے درج کرنے کی دھمکی کو انسانی حقوق کے محافظوں کی آواز کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا۔

Human rights activist Harsh Mander. Photo: X
انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر۔ تصویر: ایکس

انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسواشرما کی جانب سے ان کے خلاف کم از کم۱۰۰؍ مقدمات درج کرنے کی دھمکی کو انسانی حقوق کے محافظوں کو ڈرانے اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیاہے۔ واضح رہے کہ یہ دھمکی مندر کے ذریعے ہیمنت بسواشرما کے خلاف پولیس شکایت کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے وزیر اعلیٰ پر آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا الزام لگایا ہے۔تاہم مندر نے کہا کہ کسی بھی قسم کی دھمکیاں یا دباؤ انہیں عوام کے حقوق کے لیے لڑنے کے عزم سے باز نہیں رکھ سکتیں۔مکتوب سے بات کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا رد عمل شکایت کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ انھوں نے کہا، جب کوئی موجودہ وزیر اعلیٰ قانونی شکایت کا جواب بڑے پیمانے پر مقدمات کی دھمکی دے کر دیتا ہے، تو یہ دباؤ ڈالنے اور ڈرانے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ معقول قانونی دفاع۔اس ہفتے کے شروع میں، انسانی حقوق کے کارکن نے دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا اور بھارتیہ نیایا سنہیتا کے تحت دشمنی پھیلانے، قومی یکجہتی کے خلاف بیانات دینے، عوامی بدامنی کو ہوا دینے والے بیان جاری کرنے، اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ارادے سے کیے گئے اعمال کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی ہے، جو آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسواشرما کے خلاف ہیں۔تاہم دہلی پولیس نے کہا ہے کہ وہ شکایت کا جائزہ لے رہی ہے اور ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: متھرا کے ایک مندر میں مسلمان ٹھیکیدار کو ریلنگ کا پروجیکٹ ملنے پر تنازع

شکایت میںشرما کے ایک سلسلہ وار عوامی بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے لوگوں سے `میاں کو پریشان کرنے کی اپیل کی ۔میاں لفظ آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک توہین آمیز اصطلاح ہےاور دعویٰ کیا کہ موجودہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹروں کو الیکشن فہرست سے ہٹا دیا جائے گا۔
بعد ازاں انھوں نے خبردار کیا کہ آئینی عہدیداروں کے بیانات کے زمینی حقائق پر براہ راست اثرات ہوتے ہیں۔مندر نے کہا،’’ وزیر اعلیٰ کے الفاظ صرف الفاظ نہیں رہتے وہ ہراساں کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں، تشدد کو بڑھاوا دیتے ہیں، اور پہلے ہی پسماندہ برادریوں میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے بیانات سے آسام میں مسلمانوں کی اجتماعی سزا کے معمول بن جانے کا خطرہ ہے۔انھوں نے کہا،’’آپ زمینی حقائق دیکھ سکتے ہیںلوگوں نے ان کے الفاظپر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ متعدد ویڈیوز سامنے آئی ہیں جہاں لوگ رکشہ کھینچنے والوں کو ان کے جائز وصولی رقم ادا کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔شرما کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے، ہرش مندر نے پوچھا، شرما نے کہا ہے کہ انہیں تکلیف دینا ان کا کام ہے۔ کیا یہ واقعی ایک وزیر اعلیٰ کا کام ہے؟ مندر نے اسے مہذب معاشرے کیلئےخطرناک اور سنگین آئینی خلاف ورزی قرار دیا۔ساتھ ہی سوال اٹھایا کہ نہ کوئی اتھارٹی اور نہ ہی الیکشن کمیشن ان کھلی دھمکیوں پر کوئی توجہ دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میں مسلم معاشرے کے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہوں، یہ ملک کا اٹوٹ حصہ ہے: منی شنکر ایئر

انھوں نے کہا، میں توقع کرتا ہوں کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے، ایف آئی آر درج کی جائے اور ، بغیر کسی خوف یا طرف داری کےشکایت کی غیر جانبدارانہ طور پر تحقیق کی جائے۔اگر پولیس جواب نہیں دیتی تو ان کے کارروائی کے طریقہ کار کے بارے میں پوچھے جانے پر، منڈر نے کہا، آسام کے وزیر اعلیٰ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی شدت اور عوامی نوعیت کو دیکھتے ہوئے، یہ عدالتوں کی جانب سے سو موٹو شناخت کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کو نسلی شناخت کی بنیاد پر چھین لیا جاتا ہے،ایسے حالات میں میرا ضمیر مجھے عمل کرنے پر مجبور کرتا ہےاور  میںخاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK