Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’پاکستان کا بطورثالث اُبھرناہمارے لئے بڑا دھچکا ہے‘‘

Updated: March 25, 2026, 12:06 AM IST | New Delhi

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع کے حوالے سے کانگریس لیڈر جے رام رمیش کی مودی سرکار پر تنقید، کھرگے نے بھی نشانہ بنایا

Congress leader Mallikarjun Kharge slams government in Rajya Sabha
کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے راجیہ سبھا میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا

 سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے منگل کو بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر اُبھرا ہے، جو ہندوستان کیلئے ایک سنگین دھچکا ہے۔ اسی طرح کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے بھی مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کا راجیہ سبھا میں دیا گیا بیان الجھن پیداکرنےوالا ہے۔
 جے رام رمیش نے’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں کی کئی رپورٹس نے پاکستان کو امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان استعمال ہونے والے ثالثوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا ہے۔ اگر یہ رپورٹس سچ ہیں، تو یہ ہندوستان کیلئے ایک سنگین دھچکا اور توہین کی علامت ہیں...اور یہ سب خود ساختہ’وشو گرو‘ کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’آپریشن سیندور‘ میں ہندوستان کی ’ بلاشبہ فوجی کامیابیوں‘ کے باوجود، پاکستان نے گزشتہ ایک سال میں سفارتی محاذ پر نئی دہلی کو کئی بار پیچھے چھوڑ ا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد پاکستان کی سفارتی وابستگی اور بیانیہ کا انتظام مودی حکومت کے مقابلے میں کافی بہتر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد، جو کبھی سنگین سیاسی، معاشی اور عالمی چیلنجوں کا سامنا کر رہا تھا، اب دوبارہ اہم ہو گیا ہے۔
 کانگریس لیڈر نے پاکستانی قیادت اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان پروان چڑھتے ہوئے تعلقات کی طرف بھی اشارہ کیا اور الزام لگایا کہ اس نے اسلام آباد کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے پاکستان کی فوجی قیادت کو ’گرمجوشی سے اور بار بار گلے لگایا‘ تھا اور کئی مواقع پر عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، جس میں انہوں نے ایک ’غیر معمولی ظہرانے‘ کا بھی ذکر کیا۔ رمیش نے کہا کہ’’پاکستان نے صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔‘‘
 وزیراعظم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے جے رام رمیش نے ان کی حالیہ سفارتی کوششوں پر تنقید کی، خاص طور پر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ فضائی حملوں سے ٹھیک پہلے کیے گئے اسرائیل کے دورے پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ مودی کا اسرائیل کا غیر ضروری دورہ، جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے بلا اشتعال فضائی حملے شروع ہونے سے محض دو دن پہلے ختم ہوا، ہماری سیاسی تاریخ میں ایک انتہائی تباہ کن فیصلے کے طور پر درج کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے دلیل دی کہ اس دورے نے خطے میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر کام کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعظم کی’گلے ملنے والی سفارت کاری‘کی قلعی کھل گئی ہے۔ ملک کو اس کی قیمت چکانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘‘
 اسی طرح کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی مودی حکومت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں وزیراعظم مودی کے دیئے گئے بیان کو ’الجھن پیدا کرنے والا‘ قرار دیتے ہوئے حکومت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوںنے ایک پوسٹ میں کہا کہ وزیراعظم کی غیر مستقل سفارتی پالیسی سے ہندوستان کی اسٹریٹجک خودمختاری  متاثر ہوئی ہے، جو دہائیوں سے خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ حالیہ اسرائیل دورے کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی اثرات پر پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
 دوسرا اہم مسئلہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اب بھی تقریباً۳۷؍ سے۴۰؍ ہندوستانی جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن پر تقریباً۱۱۰۰؍افراد سوار ہیں۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وزیراعظم مودی کی جانب سے ایران سے بات چیت کے باوجود محفوظ راستہ کیوں نہیں مل سکا جبکہ چین، روس اور جاپان جیسے ممالک کو اجازت مل رہی ہے۔ انہوں نے حکومتی دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر۴۱؍ ممالک سے درآمدات ہو رہی ہیں، تو پھر ملک میں گیس اور ایندھن کی کمی، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کیوں بڑھ رہی ہے؟

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK