• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ نسل کشی کے ۳؍ سال: ۲۰؍ ہزار طلبہ، ۲۶۳؍ صحافی شہید: فلسطینی وزارت

Updated: October 07, 2026, 6:49 PM IST | Gaza

فلسطینی وزارت کے مطابق غزہ نسل کشی میں ۳؍ سال کے دوران اسرائیلی حملوں میں ۲۰؍ ہزارسے زائد طلبہ اور ۲۶۳؍ صحافی شہید ہوچکے ہیں، اس کے علاوہ تعلیمی عملے کے ۱۰۵۸؍ افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطینی وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی نسل کشی کے تین سال کے دوران کل۲۰۷۴۸؍ طلبہ اور ۱۰۵۸؍ تعلیمی و انتظامی عملہ جاں بحق ہو چکا ہے۔تعلیمی شعبے کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں پر ایک شماریاتی رپورٹ میں، وزارت نے کہا کہ اعداد و شمار میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ اور عملے کے ساتھ ہزاروں زخمی اور گرفتاریاں اور درجنوں تعلیمی اداروں کی تباہی یا نشانہ بنایا جانا شامل ہے۔وزارت کے مطابق، غزہ کی پٹی میں۱۹۱۸۹؍ اسکول کے طلبہ اور۱۳۸۶؍ یونیورسٹی کے طلبہ جاں بحق ہوئے ہیں۔ جبکہ مزید۲۸۵۸۶؍ اسکول کے طلبہ اور ۳۰۸۲؍یونیورسٹی کے طلبہ زخمی ہوئے۔وزارت نے کہا کہ اسکولوں میں۸۰۵؍ تعلیمی و انتظامی عملہ اور۲۴۶؍ یونیورسٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔جبکہ مزید۳۲۹۸؍ اسکول عملہ اور۱۴۹۳؍ یونیورسٹی عملہ زخمی ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: پروفیسر پر فلسطینیوں کے قتل عام کا منصوبہ بنانے کا الزام، فردِ جرم عائد

مغربی کنارہ
رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں۱۳۴؍ اسکول کے طلبہ اور۳۹؍ یونیورسٹی کے طلبہ جاں بحق ہوئے، جبکہ۸۷۱؍ اسکول کے طلبہ اور۲۸۳؍ یونیورسٹی کے طلبہ زخمی ہوئے۔علاوہ ازیں اسرائیلی افواج نے۴۱۶؍ اسکول کے طلبہ اور۴۸۱؍ یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی حراست میں لیا۔اسکولوں میں سات تعلیمی و انتظامی عملہ جاں بحق اور۲۶؍ دیگر زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی افواج نے۱۷۶؍ سے زائد اساتذہ اور اسکول ملازمین اور۲۱؍ یونیورسٹی عملہ کو حراست میں لیا۔
مشرق وسطیٰ
غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس کے ڈائریکٹر نے انادولو کو بتایااسرائیل کی۳؍ سالہ جنگ کی غزہ کے صحافی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، اب تک اسرائیلی حملوں میں۲۶۳؍ صحافی جاں بحق ہوچکے ہیں۔جبکہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے،۵۰؍ صحافیوں کو اسرائیلی جیلوں میں حراست میں لیا گیا، جن میں سے۲۳؍ اب بھی حراست میں ہیں، فلسطینی حکام اور صحافتی تنظیموں کے مطابق، غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے تین سالوں نے فلسطینی صحافیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں، جس میں۲۶۳؍ میڈیا کارکن جاں بحق اور سینکڑوں زخمی، حراست میں لیے گئے یا بے گھر ہوئے۔صحافیوں نے اپنے گھر، کام کی جگہیں اور خاندان کے افراد کھو دیے ہیں، بہت سے لوگ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے بمباری کے مقامات، بے گھر کیمپوں اور اسپتالوں کے درمیان منتقل ہو رہے ہیں۔وہ زمینی کوریج کا بنیادی ذریعہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل غیر ملکی صحافیوں کو علاقے میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ

۲۶۳؍ میڈیا کارکن جاں بحق
غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے انادولو کو بتایا کہ ۲۳؍ صحافی اسرائیلی جیلوں میں ہیں، جبکہ تین صحافی اب بھی لاپتہ ہیں: نضال سہیل الوحیدی، ہیثم جمال عبد الواحد اور احمد عصام الاغا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملوں نے۱۶؍ سیٹلائٹ ٹیلی ویژن دفاتر،۱۱؍ ریڈیو اداروں، ۱۲؍ اخبارات اور رسالوں کے دفاتر،۲۳؍ ڈیجیٹل میڈیا تنظیموں،۲۷؍ پرنٹنگ ہاؤسیز اور میڈیا کے کام میں شامل پانچ یونین اور حقوق کی تنظیموں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔
الثوابتہ نے میڈیا سیکٹر کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباًایک بلین ڈالر لگایا، جس میں احاطے، سامان، نشریاتی گاڑیاں اور تکنیکی آلات شامل ہیں۔۷؍ ستمبر کو، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے کہا کہ غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد جدید صحافتی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے،فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے پہلے بیانات میں کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں۲۷؍ خواتین صحافی بھی شامل ہیں، جبکہ تقریباً۵۰۰؍ صحافی زخمی ہوئے تھے۔سنڈیکیٹ کا اندازہ ہے کہ غزہ میں تقریباً ۱۲۰۰؍صحافی تھے، یعنی نسل کشی کے دوران پانچویں حصے سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی ایم ای پی نے یورپی پارلیمنٹ کی ایک تقریب میں اسرائیلی جھنڈا ہٹا دیا

علاوہ ازیں زندہ بچ جانے والے۶۰؍ سے۷۵؍ فیصد صحافیوں نے اپنے گھر کھو دیے ہیں یا زبردستی بے گھر کر دیے گئے ہیں، جس کا تخمینہ۷۰۰؍ سے۹۰۰؍ کے درمیان ہے۔سنڈیکیٹ کے مطابق، ۸۰؍ فیصد سے زائد میڈیا دفاتر اور ادارے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تباہی نے صحافیوں کو بجلی، انٹرنیٹ تک رسائی، حفاظتی سامان اور کیمروں کی کمی کے درمیان خیموں، بے گھر مقامات اور اسپتالوں کے آس پاس کے علاقوں سے رپورٹ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔اور اس کے بعد صحافیوں کی شہادتوں کی طویل تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن میں بلال جاد اللہ، منتصر السواف، سامر ابو دقہ، حمزہ الدحدوح، اور۲۰۲۵ء میں خیموں اور اسپتالوں میں شہید ہونے والے انس الشریف سمیت درجنوں نام شامل ہیں۔  
واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے، غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے نتیجے میں ۷۴۰۰۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق اور۱۷۵۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ علاقے کے تقریباً۹۰؍ فیصد انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا ہے۔اسی عرصے کے دوران، اسرائیلی افواج اور قابضین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں حملے تیز کر دیے ہیں، جس میں۱۲۱۰؍ فلسطینی جاں بحق، تقریباً ۱۳۳۵۰؍ دیگر زخمی اور۲۴۶۰۰؍ سے زائد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK