ایک اسرائیلی پروفیسر نے اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں ، مقبوضہ یروشلم اورمقبوضہ مغربی کنارے میں رہ رہے فلسطینیوںکے قتل عام کا منصوبہ بنایا تھا،فی الحال اس پر فرد جرم عائد کیا گیا ہے اور اسے یونیورسٹی سے بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 10:06 PM IST | Tel Aviv
ایک اسرائیلی پروفیسر نے اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں ، مقبوضہ یروشلم اورمقبوضہ مغربی کنارے میں رہ رہے فلسطینیوںکے قتل عام کا منصوبہ بنایا تھا،فی الحال اس پر فرد جرم عائد کیا گیا ہے اور اسے یونیورسٹی سے بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
ہاریٹز کی ایک رپورٹ کے مطابق، بار اِیلان یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے ایک اسرائیلی لیکچرار پر فلسطینی شہریوںاور مقبوضہ مشرقی یروشلم و مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔۶۰؍ سے زائد عمر کے اس پروفیسر، جس کی شناخت میڈیا اور عوامی سطح پر ظاہر کرنے پر قانونی پابندی عائد ہے، نے ایک منصوبہ بنایا جسے اس نے’ایم یاعسے ٹرانسفر‘‘ کا نام دیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو اردن، لبنان اور غزہ کی طرف بھاگنے یا نقل مکانی کرنے پر مجبور کرنا تھا۔سرکاری وکلاء نے بتایا کہ اس نے تین سال سے زائد کا عرصہ یہ منصوبہ بنانے، تفصیلی دستاویزات تیار کرنے اور لوگوں کو اس میں شامل کرنے کی کوششوں میں صرف کیا۔’’ٹائمز آف اسرائیل ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ ملزم نے اسرائیلی فضائیہ، توب خانہ اور ٹینک یونٹ میں موجود ’’ تخریب کار عناصر‘‘ سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئےؒ: اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر
بعد ازاں فردِ جرم کے مطابق، یہ ایک انتہائی منظم منصوبہ تھا جس میں ۷۲؍ یہودی کارکن شامل تھے جنہیں ۱۲؍ گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان کا مقصد مشترکہ یہودی-فلسطینی شہروں اور اسرائیل میں رہنے والی فلسطینی بستیوں پر ایک ساتھ ہم آہنگ حملے کرنا تھا۔اس منصوبے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا شامل تھا اور ہدایت دی گئی تھی کہ خواتین اور بچوں سمیت کسی پر کوئی رحم نہ دکھایا جائے۔مزید برآں اس میںاندازہ لگایا گیا تھا کہ تقریباً ۶۰۰؍ سے ۷۰۰؍ افراد ہلاک ہوں گے اور شرط رکھی گئی تھی کہ پروفیسر سمیت کم از کم نصف حملہ آوروں کے پاس بندوق کا لائسنس ہونا چاہئے۔منصوبے میں اسرائیلی فوج کے اندر موجود عناصر سے بھی مدد کی امید رکھی گئی تھی اور مقصد یہ تھا کہ ان حملوں کی سوشل میڈیا کوریج کو استعمال کر کے خوف و ہراس پھیلایا جائے تا کہ اسرائیل کے فلسطینی شہری ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو جائیں۔
مزید برآں پروفیسر نے سابق سیکورٹی اہلکاروں، صحافیوں، تعلیمی ماہرین اور دائیں بازو کے سیاسی لیڈروں کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کی کوشش کی، جن میں سابق رکنِ پارلیمنٹ موشے فیگلن بھی شامل ہیں، جن کے زیہوت گروپ نے ۲۷؍ اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل انتہا پسند وزیرِ مالیات بیزالیل ا سموتریچ کی رلیجیس صیہونزم پارٹی سے ہاتھ ملایا ہے۔تقریباً جون کے مہینے میں، اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں، جنہیں ’’ہل ٹاپ یوتھ ‘‘ کہا جاتا ہے، کے درمیان موجود اپنے واقف کاروں کو اس کام میں شامل کرے، لیکن بیٹی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ایک بچی سمیت ۴؍ فلسطینی شہید، متعدد زخمی
تاہم سینٹرل ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے لود ڈسٹرکٹ کورٹ میں فردِ جرم دائر کی ہے اور عدالت سے درخواست کی ہے کہ معاملےکی کارروائی مکمل ہونے تک ملزم کو حراست میں ہی رکھا جائے۔علاوہ ازیں بار اِیلان یونیورسٹی نے اس لیکچرار کو معطل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان الزامات سے ’’شدید صدمے‘‘میں ہے، جبکہ یہ بھی واضح کیا کہ ایسے رویے کے خلاف ان کی’ زیرو ٹالرنس‘ پالیسی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی ایک کروڑ سے زائد آبادی میں اسرائیلی فلسطینیوں کی تعداد تقریباً ۲۱؍ فیصد ہے۔