اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں کانگریس کے پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو امتحانی نظام، پیپر لیک اور نوجوانوں کے روزگار کے محدود مواقع پر سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 9:09 AM IST | New Delhi
اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں کانگریس کے پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو امتحانی نظام، پیپر لیک اور نوجوانوں کے روزگار کے محدود مواقع پر سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔
اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں کانگریس کے پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو امتحانی نظام، پیپر لیک اور نوجوانوں کے روزگار کے محدود مواقع پر سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے کروڑوں نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی ۵؍ سال سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری میں صرف کرتے ہیں لیکن ان کے سامنے کامیابی کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ ایک طالب علم کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے دوران تقریباً ۹؍لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، جس کیلئے اکثر خاندان اپنی جمع پونجی خرچ کردیتے ہیں یا پھر قرض لیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کروڑوں نوجوانوں کو اسی راستے پر چلنے کے لئے کیوں مجبور ہونا پڑتا ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں نوجوانوں کیلئے روزگار اور ترقی کے دیگر راستے بند کر د ئیے گئے ہیں اور سرکاری ملازمت ہی متبادل بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں صنعتکاری، کاروباری سرگرمیوں، نجی شعبے کی ملازمتوں اور عوامی شعبے میں مواقع محدود ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان سرکاری ملازمتوں کے امتحانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں تقریباً ۹؍کروڑ امیدوار مختلف امتحانات میں شریک ہوتے ہیں لیکن ان میں سے صرف ۶؍ لاکھ ہی کامیاب ہو پاتے ہیں یعنی ہر ۱۵۰؍ نوجوانوں میں سے صرف ایک کو کامیابی ملتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوانوں کے سامنے دو راستے ہیں، ایک ایمانداری کا اور دوسرا بدعنوانی اور پیپر لیک کا۔ ۹۹؍ فیصد طلبہ ایمانداری کے راستے پر چلتے ہیں لیکن ایک فیصد لوگ نظام کا غلط استعمال کرکے بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں جس کا خمیازہ لاکھوں محنتی طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا بڑھتا ہوا خرچ، روزگار کے محدود مواقع، کامیابی کے انتہائی کم امکانات اور پیپر لیک جیسے مسائل نوجوان نسل کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔ راہل نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں بلکہ نوجوانوں کےمستقبل اور تعلیم سےمتعلق ایک اہم مکالمہ ہے۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملے میں اپنی جان دینے والی طالبہ رِیا کماری کے والد راجیش مل کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ رِیا کے والد نے جذباتی انداز میں اپنی بیٹی کے آخری دنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ امتحان دے کر واپس آنے کے بعد رِیا بے حد خوش تھی لیکن جب پیپر لیک کی خبریں سامنے آئیں تو وہ شدید مایوسی کا شکار ہو گئی۔ریا کے والد نے راہل گاندھی سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ میں پیپر لیک سے متاثرہ طلبہ کی آواز بلند کریں تاکہ مستقبل میں کسی اور طالبہ کو اس طرح کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ خراب موسم ، شدید بارش اور انتظامیہ کی جانب سے متعدد رخنہ اندازیوں کے باوجود ۵۰؍ ہزار سے زائد طلبہ اور نوجوان اس پروگرام کے لئے پہنچے تھے۔ راہل نےاپنی تقریر کے دوران متعدد چھوٹے چھوٹے ویڈیوز اور اینی میشن ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں کوسمجھایا کہ کیسے ان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا ہے اور اس میں دھرمیندر پردھان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اسی لئے انہیں استعفیٰ تو دینا ہو گا۔ سوشل میڈیا پر راہل گاندھی کی اس تقریر کو ان کی بہترین تقریروں میں سے ایک قرار دیا گیا۔ اس پروگرام میںریاضی کے مشہور ٹیچر ابھینے سر بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے راہل گاندھی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپر لیک کو انڈسٹری قرار دیا اور اسے روکنے کا مطالبہ کیا۔