• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیرس: احتجاج کے دوران لوٹا گیا سامان بے گھر افراد میں تقسیم؟ ویڈیو وائرل

Updated: October 19, 2026, 5:08 PM IST | Paris

پیرس میں احتجاج کے دوران دکانوں سے اٹھائی گئی اشیا سڑک پر سوئے ایک بے گھر شخص کے حوالے کیے جانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ بعض صارفین اسے معاشی عدم مساوات کے خلاف علامتی احتجاج قرار دے رہے ہیں، تاہم ویڈیو کے مکمل پس منظر اور سامان کی تقسیم کے حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں احتجاج کے دوران دکانوں سے لوٹے گئے سامان کو سڑک پر سوئے ایک بے گھر شخص کے حوالے کیے جانے کا ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ترک اخبار ینی شفق کے انگریزی اکاؤنٹ سمیت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیو میں دکانوں سے نکالی گئی اشیا ایک ایسے شخص کے قریب رکھی دکھائی دیتی ہیں جو کمبل اوڑھے فٹ پاتھ پر لیٹا ہوا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے دکانوں سے سامان اٹھانے کے بعد اسے بے گھر افراد کے حوالے کیا۔ اردن کے خبر رساں ادارے رؤیا نیوز نے بھی ۱۷؍ اکتوبر کے احتجاج سے متعلق ایسی ویڈیوز کی رپورٹ شائع کی ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ نوجوان مظاہرین نے دکانوں سے حاصل کی گئی غذائی اشیا بے گھر افراد میں تقسیم کیں۔ رپورٹ کے مطابق، بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس عمل کو غربت اور معاشی عدم مساوات کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش قرار دیا۔ تاہم ویڈیو میں نظر آنے والے واقعے کے تمام حالات، سامان کی نوعیت اور اس کی تقسیم کے پس منظر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by AJ+ (@ajplus)

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزمرہ اخراجات، تعلیم کے شعبے میں مشکلات اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ ۱۷؍ اکتوبر کو ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ، مزدوروں، ٹریڈ یونینوں اور دیگر گروہوں نے مظاہروں میں شرکت کی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ان مظاہروں میں ملک بھر میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد کی شرکت کا سرکاری اندازہ پیش کیا گیا، جبکہ مزدور یونین سی جی ٹی نے یہ تعداد ۸؍ لاکھ بتائی۔ بیشتر مظاہرے پُرامن رہے، لیکن بعض مقامات پر تشدد، توڑ پھوڑ اور دکانوں کی لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے۔ پیرس سمیت مختلف شہروں میں دکانوں، سپر مارکیٹوں اور لگژری برانڈز کے کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، بعض گروہوں نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، سامان اٹھایا اور پولیس سے جھڑپیں کیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ۱۸؍ اکتوبر کو ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے لوٹ مار اور تخریب کاری کو ناقابلِ جواز قرار دیا۔ انہوں نے حکام کو یہ جائزہ لینے کی ہدایت بھی دی کہ احتجاج کے دوران پولیس کی تیاری یا انٹیلی جنس کے نظام میں کوئی خامی تو نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کا احتجاج پُرتشدد، سرکاری عمارتوں کو نقصان، ۱۲۰۰؍ سے زائد گرفتار

بے گھر شخص کو سامان دیے جانے کی وائرل ویڈیو نے اس ہنگامہ آرائی کے درمیان ایک الگ سوال کو نمایاں کیا ہے: جب شہر کی دکانوں میں اشیا موجود ہوں اور اسی شہر کی سڑکوں پر لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہوں تو معاشی نظام کی کامیابی کو کس پیمانے پر جانچا جائے؟ سوشل میڈیا پر بعض افراد اس منظر کو اس تضاد کی علامت سمجھ رہے ہیں کہ اشیا کی پیداوار اور دستیابی کے باوجود معاشرے کے کمزور طبقات کو خوراک، رہائش اور تحفظ جیسی بنیادی ضروریات میسر نہیں ہوتیں۔ تاہم، اس بحث میں دو پہلوؤں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ ایک طرف غربت، بے گھری اور آمدنی میں عدم مساوات جیسے حقیقی سماجی مسائل ہیں، جن پر احتجاج کے دوران بھی آوازیں اٹھائی گئیں۔ دوسری طرف دکانوں سے سامان لوٹنا، کاروبار کو نقصان پہنچانا اور کسی کی ملکیت اس کی اجازت کے بغیر لے لینا قانونی اور اخلاقی سوالات پیدا کرتا ہے۔ کسی بے گھر شخص کو سامان دیے جانے کا دعویٰ، اگر درست بھی ہو، تو اس سے لوٹ مار کے تمام واقعات کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ

فرانس میں جاری احتجاج نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی ہے کہ اس میں معاشی مشکلات کے ساتھ تعلیمی سہولتوں، عوامی اخراجات اور دولت کی تقسیم سے متعلق شکایات شامل ہیں۔ بعض مظاہرین نے امیروں اور غریبوں کے درمیان بڑھتے فرق پر تنقید کی، جبکہ حکومت نے تشدد اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔ اس طرح احتجاج کے پُرامن مطالبات اور تشدد کے واقعات کے درمیان فرق بھی بحث کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ وائرل ویڈیو نے ایک بے گھر شخص کے سامنے رکھے سامان کو محض ایک انفرادی منظر سے بڑھا کر معاشی عدم مساوات کی علامت بنا دیا ہے۔ تاہم اس واقعے سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے ویڈیو کے مکمل پس منظر اور دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ سامان کس دکان سے لیا گیا، اس میں کون سی اشیا شامل تھیں اور آیا انہیں باقاعدہ طور پر بے گھر افراد میں تقسیم کیا گیا یا یہ ایک محدود واقعہ تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK