اپوزیشن کے احتجاج کے دوران آدھار کارڈ کو ووٹر آئی ڈی سے جوڑنے والے بل پر پارلیمنٹ کی مہر

Updated: December 22, 2021, 8:07 AM IST | new Delhi

: راجیہ سبھا میں منگل کو کانگریس اور پوری اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان انتخابی قانون (ترمیم) یعنی آدھار کارڈ کو ووٹر کے آئی کارڈ سے جوڑنے ، سروسیز کی ووٹنگ میں صنفی مساوات لانے اور سال میں چار بار نئے ووٹرز بنانے کے التزام کے بل۲۰۲۱ء‘ کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا

Strong opposition protest in Rajya Sabha
راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا سخت احتجاج

 راجیہ سبھا میں منگل کو کانگریس اور پوری اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان انتخابی قانون (ترمیم) یعنی  آدھار کارڈ کو ووٹر کے آئی کارڈ سے جوڑنے ، سروسیز کی ووٹنگ میں صنفی مساوات لانے اور سال میں چار بار نئے ووٹرز بنانے کے التزام کے بل۲۰۲۱ء‘ کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔قبل ازیں  راجیہ سبھا نے بل کو صوتی ووٹ سے منظور کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ لوک سبھا نے اسے پیر کو ہی منظور کر لیا تھا۔اس بل کے شقوں پر اپوزیشن کواعتراض تھا۔اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کو اس اہم بل کا مطالعہ کرنے کیلئے مناسب وقت نہیں دیا، اسلئے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہئے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اس کے ذریعے حکومت عوام کو حق رائے دہی سے محروم کرنا چاہتی ہے۔
 اس بل پر بحث کے دوران احتجاج کی وجہ سے معطل کئے گئے ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک او برائن نےکہا کہ انہیں راجیہ سبھا سے اسلئے معطل کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے حکمراں  بی جے پی کی طرف سے پارلیمنٹ کا مضحکہ بنائے جانے اور انتخابی قانون کو بلڈوز کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ انتخابی اصلاحات سے متعلق یہ بل بھی جلد ہی منسوخ ہوجائے گا۔
   اس سے قبل کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نےمرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست احتجاج کیا جس کی وجہ سے دونوں ایوانوںکی کارروائی کئی بار ملتوی ہوئی۔
 راجیہ سبھا میںڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے لنچ کے بعد ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئےانتخابی قانون (ترمیمی)  بل۲۰۲۱ء پیش کرنے کیلئے قانون و انصاف  کے وزیر کرن رجیجو  کا نام لیا تو  ایوان میں  حزب اختلا ف کے لیڈر ملکارجن کھرگے کھڑے ہوگئے۔ انہوں  نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا  ایک جمہوری عمل ہے،اسلئے  اسے ضابطوں کے مطابق  چلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل۱۲؍ اراکین  پارلیمان کی معطلی واپس لی جانی چاہئے اور مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کو کابینہ سے ہٹانا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بل کو بھی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ایوان میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔ملکارجن کھرگے کی حمایت کانگریس کے آنند شرما، ڈی ایم کے کے تروچی شیوا، سی پی آئی  کے جان برٹس اور وی شیواداسن، ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں  نے کی۔
  اس کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ موجودہ بل ایوان کے مقررہ ضابطوں کے مطابق پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ایوان کے سامنے اس موضوع کے علاوہ کسی  اور  معاملے پر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔بعد ازاں اپوزیشن نے احتجاج کرنا شروع کردیا۔ اس دوران  کانگریس، ڈی ایم کے، بائیں بازو اور ٹی ایم سی کے اراکین چیئرپرسن کے پوڈیم کے سامنے آگئے۔ یہ اراکین اپنے ہاتھوں میں نعرے تحریر کردہ پلے کارڈز بھی لئے ہوئے تھے۔ان کا مطالبہ تھا کہ معطل کئے گئے تمام اراکین کو فوری طورپر واپس لیا جائے۔

voter id Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK