مسافروں نے روزانہ ۵۰؍ سے ۱۰۰؍ بسیں چلانے کا مطالبہ کیا ۔بیسٹ انتظامیہ نے شکایت پر غور کرنے اور بس سروس میں بتدریج اضافہ کرنے کا یقین دلایا-
کوسٹل روڈ پر بیسٹ بسوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ مسافروں نے کیا ہے۔تصویر:آئی این این
عروس البلاد ممبئی میں بنائے گئے کوسٹل روڈ کا مقصد مسافت کو کم کرنا اور شہریوں کی لمبی دوری کو منٹوں میں طے کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ٹریفک سے بھی محفوظ رکھنا ہے ۔ کوسٹل روڈ جسے دھرم ویر سوراجیہ رکشک سمبھاجی مہاراج روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے، پر جہاں چار پہیہ گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کو خاطر خواہ آسانی ہوگئی ہے وہیں کوسٹل روڈ پر چلائی جانے والی بیسٹ بسوں کی کم سروس اور بسوں کی قلت سے مسافروں کو سہولت کے بجائے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ وہیں بیسٹ انتظامیہ نے عنقریب سروس بڑھانے اور بسوں کی تعداد میں اضافہ کا یقین دلایا ہے ۔
برہن ممبئی الیکٹریکل سٹی سپلائی یعنی بیسٹ انتظامیہ کے ذریعہ جنوبی ممبئی کے مرین لائنس، کف پریڈ، قلابہ ، منترالیہ اور ورلی جیسے سرکاری، نیم سرکاری یا پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے مسافروں کے لئے کوسٹل روڈ سے بس سروس شروع تو کی گئی ہے لیکن یہ سروس مسافروں کے لئے رحمت کے بجائے زحمت ثابت ہورہی ہے - کوسٹل روڈ سے ہوتے ہوئے مذکورہ بیسٹ بس سے سفر کرنے والے اکثر مسافر جو مندرجہ بالا علاقوں میں مختلف اداروں میں ملازمت کرتے ہیں، کہ عام شکایت یہ ہے کہ بسوں کی سروس انتہائی کم ہونے اور بسوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔
ورلی کے رہنے والے سنتوش بامنے جو مرین ڈرائیو پر واقع ایک پرائیویٹ فرم ڈچ انٹر پرائزیز میں بطور اکاؤنٹنٹ ملازمت کرتے ہیں، نے بتایا کہ ’’ کوسٹل روڈ شروع کرنے کا مقصد طویل مسافت کے گھنٹوں کے سفر کو منٹوں میں طے کرنا اور ٹریفک سے محفوظ رکھنا ہے ۔ چار پہیہ پرائیویٹ گاڑی چلانے والوں کو اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی پہنچ رہا ہے لیکن کوسٹل روڈ روٹ سے گزرنے والی ناقص بس سروس کے سبب بجائے فائدہ ہونے کے بجائےمسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کوسٹل روڈ پر چلائی جانے والی انتہائی محدود بس سروس کی وجہ سے مسافروں کو گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرنے کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہے ۔‘‘
سماجی رضاکار اُمیش کامبلے کے بقول’’ کوسٹل روڈ پر اے ۸۴؍ روٹ کے علاوہ دیگر جو بس چلائی جاتی ہے وہ ایک بس ۴۵؍ منٹ کے وقفہ سے آتی ہے - اب اگر مسافر کو۴۵؍ منٹ کا طویل انتظار ہی کرنا ہے تو مسافر عام بس میں سفر کو کیوں نہ ترجیح دے - جب گھنٹوں انتظار ہی کرنا ہے تو اس میں سفر کا کیا فائدہ ۔‘‘
اس ضمن میں سماجی رضا کار کے توسط مسافروں نے برہن ممبئی الیکٹریکل سٹی سپلائی کو مکتوب روانہ کیا ہے اور کم سے کم ۵۰؍ اور زیادہ سے زیادہ ۱۰۰؍ بسوں کی سروس فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ۔ مسافروں نے ۴۵؍منٹ پر ایک بس سروس کے بجائے ہر ۱۵؍منٹ پر بس سروس فراہم کرنے کی درخواست کی ہے ۔
کوسٹل روڈ پر بسوں کی کم سروس پر بیسٹ کے پبلک ریلیشن آفیسر کا کہنا تھا کہ ’’ کوسٹل روڈ میں بس سروس شروع کرنے سے مسافروں کو ٹریفک اور کم وقت میں سفر طے کرنے کی راحت تو ملی ہے ۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ فی الحال اس روٹ پر بس سروس کم ہے اور مسافروں کی جانب سے ملنے والی درخواستوں پر غور کیا جارہا ہے ۔ نئی بسوں کے اضافہ کے ساتھ ساتھ کوسٹل روڈ پر چلائی جانے والی بسوں میں بھی بتدریج اضافہ کیا جائے گا ۔‘‘