Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں‘‘ پر ہنگامہ، تنقیدیں، سخت سوالات

Updated: June 26, 2026, 9:31 AM IST | New Delhi

اپوزیشن نے نشانہ بنایا، سوشل میڈیا پر بھی حکومت کی ’بے تکی‘ منطق پر تنقیدیں، مودی سرکار کو وضاحت کرنی پڑی کہ یہ بامبے ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق ہے۔

Passport
پاسپورٹ

:مرکزی وزارت خارجہ کی جانب سے گزشتہ روز ۱۴؍ویں پاسپورٹ سیوا دِوس‘ کے موقع پریہ وضاحت دیکر پورے مل میں ہنگامہ برپا کردیا گیا کہ ہندوستانی پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ ایک سفری دستاویز ہے۔ وزارت نے کہا کہ پاسپورٹ صرف بین الاقوامی سفر کی سہولت کیلئے جاری کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ صرف ہندوستانی شہریوں کو ہی دیا جاتا ہے لیکن اپنے آپ میں یہ شہریت قائم کرنے والی دستاویز نہیں مانا جائے گا کیوں کہ اس سے شہریت ثابت نہیں ہوتی۔  وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان جاری کیا تھا جس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں سے لے کر سوشل میڈیاپر اہم شخصیات تک نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اورپاسپورٹ کے تعلق سے اس کی ’بے تکی ‘ منطق پر شدید تنقید کی۔ 
 اس سلسلے میںکانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے پریس کانفرنس کی اور حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اس معاملے پر مرکزی حکومت سے واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزارت خارجہ یہ کہتی ہے کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے تو حکومت کو عوام کے سامنے یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ آخر ہندوستانی پاسپورٹ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے اور شہریت کے تعین کے لئے بنیادی قانونی دستاویز کون سی ہے۔
 گورو گوگوئی نے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے جاری کیا جانے والا پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ایسا سرکاری دستاویز ہے جسے دنیا بھر کی حکومتیں تسلیم کرتی ہیں۔ انکے مطابق عام طور پر پاسپورٹ اسی شخص کو جاری کیا جاتا ہے جو ہندوستان کا شہری ہو، اس لئے اگر اسے بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہ مانا جائے تو اس سے عوام میں الجھن پیدا ہونا فطری ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہندوستان کا پاسپورٹ چین، سری لنکا یا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو بھی جاری کیا جاتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرسرکار کو وضاحت کرنی ہو گی۔

گورو گوگوئی کے مطابق  یہ کہنا کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں، کس قانونی بنیاد پر کہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس سوال کا واضح اور دوٹوک جواب دینا چاہئے تاکہ عوام میں پائے جانے والے شبہات دور ہو سکیں۔ گورو گوگوئی نے قومی شہری رجسٹر کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے عوام نے قومی شہری رجسٹر سے متعلق پوری کارروائی اور اس کے اثرات کو قریب سے دیکھا ہے، اس لیے یہ خدشہ پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں حکومت کسی نئی انتظامی یا قانونی کارروائی کے ذریعے اسی نوعیت کا نظام دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔انہوں نے کہا کہ حکومت مرحلہ وار مختلف سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے ووٹر شناختی کارڈ، پھر مستقل کھاتہ نمبر کارڈ، آدھار کارڈ اور اب پاسپورٹ کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہیں، جس سے عام شہریوں میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔اس پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سپریمو لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نےبھی مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ روہنی آچاریہ نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی کی رکنیت کا کارڈ ہی شہریت ثابت/ تصدیق کرنے کا جائز کارڈ ہے؟ روہنی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’ پاسپورٹ، آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس جب ان میں سے شہریت کا سرٹیفکیٹ اور مجاز کارڈ کوئی نہیں ہے تو مودی حکومت کو یہ بتانا چا ہئے کہ کون سا کارڈ یا کون سی دستاویز شہریت کا ثبوت اور جائز کارڈ ہے؟‘‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’’ایسی صورتحال میں ہم ہندوستانی موجود وقت میں جتنے کارڈوں کو بنوانے، رکھنے  کے پابند ہیں، ان کاجواز کیا ہے اور ان کارڈس کے بنوانے کے فارم میں شہریت ثابت کرنے کا کالم کیوں رہتا ہے؟‘‘ روہنی نے مزید سوال کیا کہ ’’کہیں ایسا تو نہیں کہ مودی حکومت بالواسطہ طور پر یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہے کہ باقی تمام کارڈ درست نہیں ہیں، صرف بی جے پی کی رکنیت کا کارڈ ہی شہریت ثابت کرنے کا جائز کارڈ ہے؟‘‘  

واضح رہے کہ ملک میں اس وقت کوئی ایک، عالمگیر’’قومی شہریت کارڈ‘‘ موجود نہیں ہے۔ پریس انفارمیشن بیورو نے دسمبر ۲۰۱۹ء میں، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ قابلِ قبول شہریت کی دستاویزات کے بارے میں فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے بھی  سوال اٹھایا کہ آخر حکومت کس دستاویز کو شہریت کا معتبر ثبوت مانتی ہے؟ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے طنزیہ طور پر کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ آج ہندوستانی شہریت کا واحد ثبوت ہندو ہونا اور بی جے پی کا ووٹر ہونا ہے۔‘‘نغمہ نگار جاوید اختر نے وزارت کے مؤقف کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا پاسپورٹ شہریت کی تصدیق کئے بغیر جاری کئے جاتے ہیں؟ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بی جے پی کے رکنیت کارڈ کی تصویرپوسٹ کرتے ہوئے  لکھا کہ ۲۰۳۰ء تک شاید یہ شہریت کا واحد  قابل قبول ثبوت بن جائے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر آدتیہ ٹھاکرے اور کانگریس کی سپریہ شرینیت دونوں نے سوال اٹھایا کہ پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے پولیس اصل میں کس چیز کی تصدیق کرتی ہے، اور کیا اب غیر ملکی حکومتوں کو ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈرس کی شہریت پر شک کرنا چاہئے؟ صحافی راجدیپ سردیسائی نے پوچھا: ”تو مجھے شہریت کا سرٹیفکیٹ کون دے گا؟ کوئی سرکاری بابو؟“دریں اثناءسوشل میڈیا صارفین کو وزارت کے موقف نے حیران کردیا ہے۔ایکس پر بہت سے صارفین نے اس ستم ظریفی پر غور کیا کہ پاسپورٹ بدستور ’’حکومت ہند کی ملکیت ‘‘ہیں اور مانگے جانے پر انہیں واپس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک صارف نے پوچھا، ’’اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں، آدھار ثبوت نہیں، اور ووٹر آئی ڈی بھی ثبوت نہیں... تو پھر کیا ہے؟‘‘دوسرے صارف نے شہریت ثابت کرنے کیلئے ’’پیشانی پر ٹیٹو‘‘ بنوانے کی ضرورت پر مذاق اڑایا، جبکہ ایک وائرل پوسٹ میں لکھا تھا: ’’آپ آدھار کے بغیر پین، پاسپورٹ یا بینک اکاؤنٹ حاصل نہیں کرسکتے لیکن آدھار خود ’نرآدھار‘ (بے آسرا) ہے۔‘‘دریں اثنا حکومت نے وضاحت کی ہےکہ یہ حکم بامبے ہائی کورٹ کے ۲۰۱۳ء کے حکم کے مطابق ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK