Updated: June 25, 2026, 10:17 PM IST
| Jerusalem
فلسطینی قیدیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپ نے اسرائیلی حراست سے رہا ہونے والے صحافی مجاہد بنی مفلح کی صحت کی تشویشناک حالت کو اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ مبینہ سلوک کی عکاسی قرار دیا ہے۔ گروپ کے مطابق، بنی مفلح کو بغیر فردِ جرم چھ ماہ تک انتظامی حراست میں رکھا گیا، رہائی کے دو روز بعد انہیں دماغی شریان پھٹنے کے باعث اسپتال منتقل کرنا پڑا، جبکہ ان کی تازہ تصویر نے قیدیوں کی حالت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فلسطینی صحافی مجاہد بنی مفلح کی تشویشناک جسمانی حالت۔ تصویر: ایکس
فلسطینی قیدیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپ فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حراست سے رہا ہونے والے فلسطینی صحافی مجاہد بنی مفلح کی تشویشناک جسمانی حالت اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے مبینہ ’’افسوسناک‘‘ حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ گروپ نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’اسرائیلی جیلیں فلسطینی قیدیوں کو سست اور براہ راست قتل کرنے کا آلہ بن چکی ہیں۔‘‘ مجاہد بنی مفلح نے بدھ کو علاج کے طویل مرحلے کے بعد اپنی ایک تازہ تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی۔ تصویر میں ان کے سر کا ایک حصہ سرجری کے باعث ہٹا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ وہ انتہائی کمزور، نمایاں طور پر دبلے، زرد چہرے اور تقریباً ناقابلِ شناخت نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آریانا گرانڈے کی فاؤنڈیشن کا غزہ کے بچوں کیلئے ’سیو دی چلڈرن‘ کو ہنگامی گرانٹ
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق، بنی مفلح کا معاملہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ان ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اسرائیلی جیلوں میں مبینہ طور پر منظم خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو تشدد، بھوک، طبی سہولیات سے محرومی، جسمانی و نفسیاتی تشدد اور مسلسل ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قیدیوں کے امور پر کام کرنے والے ادارے اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے ایسے سیکڑوں فلسطینیوں کی حالت کی نگرانی کر رہے ہیں جو شدید جسمانی اور نفسیاتی مسائل کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ گروپ نے مزید کہا کہ ’’بہت سے دوسرے کیسز غیر رپورٹ ہوئے ہیں کیونکہ ان کے اہل خانہ دوبارہ گرفتاری کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنگ کے بعد ایران میں محرم کی مجالس قومی اتحاد کےمظاہرہ کا مرکز بن گئیں
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے مجاہد بنی مفلح کو جون ۲۰۲۵ء میں نابلس کے قصبے بیتہ سے اسرائیل کی انتظامی حراست (Administrative Detention) کی پالیسی کے تحت بغیر کسی فردِ جرم کے گرفتار کیا تھا۔ انہیں تقریباً چھ ماہ بعد جنوری ۲۰۲۶ء میں رہا کیا گیا۔ گروپ کے مطابق رہائی کے صرف دو دن بعد بنی مفلح کو دماغی شریان پھٹنے (Brain Hemorrhage) کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’آج تک انہیں صحت یاب ہونے کیلئے طویل اور پیچیدہ علاج کی ضرورت ہے۔‘‘ فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے فلسطینی صحافیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ۲۴۵؍ فلسطینی صحافی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
دریں اثنا فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ۱۱۷۳؍ فلسطینی جاں بحق، ۱۲۶۶۶؍ زخمی، تقریباً ۲۳؍ ہزار افراد گرفتار جبکہ ۳۳؍ ہزار فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔