Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین میں متنازع اشتہار پر ڈیٹول کی معافی، خواتین سے متعلق پیغام پر شدید ردعمل

Updated: June 25, 2026, 9:04 PM IST | Beijing

برطانوی حفظانِ صحت کے معروف برانڈ ڈیٹول نے چین میں نشر کیے گئے ایک اشتہار پر معذرت کر لی ہے، جس کا مقصد بظاہر صنفی تعصب اور جنس پرستی کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا، لیکن اسے بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصے اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اشتہار پر خواتین کو معروضی انداز میں پیش کرنے اور ’’پاکیزگی‘‘ کے تصور کو جراثیم کش مصنوعات سے جوڑنے کے الزامات لگائے گئے، جس کے بعد کمپنی نے اشتہار واپس لیتے ہوئے اپنی تخلیقی اور جائزہ لینے کی کوتاہی تسلیم کر لی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر معروف برطانوی حفظانِ صحت کے برانڈ ڈیٹول نے چین میں نشر کیے گئے اپنے ایک متنازع اشتہار پر معافی مانگ لی ہے، جس کا مقصد بظاہر جنس پرستی کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا، تاہم اس نے الٹا شدید عوامی ردعمل کو جنم دے دیا۔ پانچ منٹ دورانیے کا یہ اشتہار ڈیٹول کے ایک کثیر المقاصد جراثیم کش (Multipurpose Disinfectant) کی تشہیر کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ اشتہار کا آغاز ایک ایسے مرد سے ہوتا ہے جو اپنے لیے ایسی شریکِ حیات کی تلاش میں ہے جو ’’صاف‘‘ ہو اور ’’دوسرے مردوں سے داغدار نہ ہو۔‘‘ اشتہار میں بعد ازاں کہانی ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے، جب اس شخص کی نئی گرل فرینڈ اس کے صنفی تعصبات اور غلط جنسی تصورات پر اس کا سامنا کرتی ہے اور اس سے تعلق ختم کر دیتی ہے۔ اس کے بعد ڈیٹول کو اس مسئلے کے حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جہاں پیغام دیا جاتا ہے: ’’ٹوکسک آدمی بالکل بیکٹیریا کی طرح ہوتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ پر عالمی اعتماد میں کمی، شی جن پنگ، پوتن آگے نکل گئے: پیو سروے

اس اشتہار کے نشر ہونے کے بعد چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ متعدد صارفین نے کہا کہ اشتہار نے خواتین کو معروضی انداز میں پیش کیا، جبکہ بعض نے ڈیٹول مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا۔ بہت سے صارفین اس بات پر بھی برہم ہوئے کہ اشتہار میں ایک شخص کی ’’پاکیزگی‘‘ کے تصور کا موازنہ ڈیٹول کی جراثیم کش خصوصیات سے کرنے کی کوشش کی گئی۔ تنقید کے بعد کمپنی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ اشتہار کا مقصد دراصل صنفی دقیانوسی تصورات کی مذمت کرنا تھا، تاہم بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مختصر کلپس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس سے اشتہار کا بنیادی پیغام مسخ ہو گیا۔ کمپنی نے بتایا کہ عوامی ردعمل کے بعد اشتہار کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: آریانا گرانڈے کی فاؤنڈیشن کا غزہ کے بچوں کیلئے ’سیو دی چلڈرن‘ کو ہنگامی گرانٹ

ڈیٹول نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس اشتہار نے بہت سے لوگوں، خصوصاً خواتین کو ناراض کیا ہے۔ ہم اشتہار کے مواد کی تیاری اور اس کا جائزہ لینے کے عمل میں ہونے والی کوتاہی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔‘‘ کمپنی نے مزید کہا کہ وہ اپنے مواد کی تیاری اور منظوری کے پورے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ڈیٹول نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’’ہماری بنیاد خاندانوں کی صحت کے تحفظ کے بنیادی مقصد پر رکھی گئی تھی، لیکن ہم بخوبی جانتے ہیں کہ حقیقی تحفظ صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں بلکہ ہر فرد کے وقار اور مساوی سلوک کے حق کے تحفظ میں بھی مضمر ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک چند روز بعد کھرب پتی کلب سے باہر، اسپیس ایکس کے شیئر میں بھاری گراوٹ

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈیٹول چین میں کسی اشتہار کے باعث تنازع کا شکار ہوا ہو۔ گزشتہ سال بھی کمپنی کو ایک اشتہار پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں یہ جملہ شامل تھا کہ ’’عورت کو اس کی شادی سے عین پہلے واپس کر دیا گیا؛ یقیناً اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پاکیزہ نہیں تھی۔‘‘ اس اشتہار پر بھی خواتین کے بارے میں توہین آمیز اور صنفی تعصب پر مبنی پیغام دینے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK