Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا: ناریل کے درخت پر پڑوسیوں کا تنازع، کورٹ نے کہا چائے پر مسئلہ حل کریں

Updated: June 25, 2026, 10:01 PM IST | Thiruvananthapuram

کیرالا ہائی کورٹ نے ناریل کے درخت سے متعلق پڑوسیوں کے تنازع میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو چائے یا کافی کے کپ پر بیٹھ کر اختلافات ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخت کسی فوری خطرے کا باعث نہیں اور یہ معاملہ دراصل پڑوسیوں کے ذاتی اختلافات اور انا کی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ عدالت نے بائبل کا حوالہ دیتے ہوئے ہمسایہ داری، باہمی اعتماد اور خیرسگالی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

Kerala High Court; Photo: INN
کیرالا ہائی کورٹ؛ تصویر: آئی این این

کیرالا ہائی کورٹ نے پڑوسی کے ناریل کے درخت کو ہٹانے یا اس کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فریقین کو ہدایت دی ہے کہ وہ عدالتوں کا وقت ضائع کرنے کے بجائے چائے یا کافی کے ایک کپ پر بیٹھ کر اپنا تنازع خوش اسلوبی سے حل کریں۔ جسٹس پی وی کرشنن تروننت پورم کے ایک رہائشی کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے، جس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے پڑوسی کی جائیداد میں موجود ناریل کا درخت اس کے خاندان اور جائیداد کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ ۱۸؍ جون کو جاری اپنے فیصلے میں عدالت نے بائبل کے مقدس جملے ’’اپنے پڑوسی سے اپنے جیسا پیار کرو‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’درخواست گزار اور نویں جواب دہندہ کو بائبل کے ان مقدس الفاظ کو پڑھنا چاہیے اور تنازع کے حل کیلئے کافی یا چائے کے کپ پر اکٹھے بیٹھنا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کیتن اگروال قتل معاملہ: ’ہوڈی‘ سے پولیس کو قتل کا سراغ لگا

عدالت نے تبصرے کئے کہ یہ ایسا مقدمہ تھا جس میں عدالتی وقت ضائع کرنے پر دونوں فریقوں پر اخراجات عائد کیے جا سکتے تھے، تاہم عدالت نے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ فیصلے میں عدالت نے ایک غیر معمولی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ناریل کے درخت میں ہنسنے کی صلاحیت ہوتی تو وہ ان لڑنے والے پڑوسیوں پر ضرور ہنستا۔ اگر اس میں ہوا کے بعد گرنے کی صلاحیت ہوتی تو شاید وہ صرف اس لیے گر جاتا تاکہ پڑوسی اس کے وجود پر جھگڑنا بند کر دیں۔ اس معاملے میں انا، ناریل کے درخت سے بھی کم لچکدار دکھائی دیتی ہے۔‘‘ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پڑوسی کے درخت سے گرنے والے ناریل اس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اس نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے سے قبل پنچایت، ریونیو حکام اور مقامی خود حکومتی اداروں کے محتسب سے بھی متعدد بار شکایت کی تھی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے اخراجات برداشت کرنے پر آمادگی ظاہر کیے جانے کے بعد عدالت نے ایک ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کیا۔ کمشنر نے موقع کا معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگرچہ ناریل کا درخت مشترکہ حد بندی کے قریب واقع ہے، تاہم وہ مضبوطی سے جڑا ہوا ہے اور اس کے گرنے کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ کمشنر کے مطابق درخت کو لوہے کی تار کے ذریعے اس طرح باندھا گیا ہے کہ وہ مالک کی اپنی زمین کی جانب جھکا رہے، جبکہ درخواست گزار کی جائیداد میں ناریل گرنے سے روکنے کیلئے حفاظتی لوہے کا جال بھی نصب کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دلت-مسلم انکاؤنٹر پر الگ رویہ کیوں؟: جیتن مانجھی

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر اس حفاظتی جال کی چوڑائی مزید بڑھا دی جائے اور درخت کی معمول کے مطابق وقتاً فوقتاً صفائی جاری رکھی جائے تو یہ تنازع مؤثر انداز میں حل ہو سکتا ہے۔ تاہم درخواست گزار نے کمشنر کی رپورٹ پر اعتراضات بھی داخل کیے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ مقدمہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح محلے کے معمولی تنازعے غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ عدالتیں پہلے ہی سنگین مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کی شکایت کو پڑوسی خاندانوں کے درمیان ذاتی اختلافات اور انا کی کشمکش نے مزید بڑھا دیا ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون بنیادی ہمسائیگی، خیرسگالی اور باہمی اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایک ہی برادری میں رہنے والے پڑوسیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حدود، سڑکوں اور مشترکہ وسائل کے استعمال میں باہمی تعاون اور اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ عدالت نے پنچایت اور محتسب کی سابقہ کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں سفارش کی گئی تھی کہ درخواست گزار کی زمین کی جانب جھکنے والے درخت کو لوہے کی تار کے ذریعے مالک کی جائیداد کی سمت باندھ کر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کی آواز دبائی جارہی، دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہئے: کھرگے

کیرالا پنچایت راج ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت مزید کارروائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ یہ شق صرف اسی صورت میں لاگو ہوتی ہے جب کوئی درخت، اس کی شاخیں یا پھل گرنے کا حقیقی امکان رکھتے ہوں اور اس سے کسی شخص، عمارت یا فصل کو خطرہ لاحق ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ معاملے میں ناریل کا درخت کسی قسم کا فوری خطرہ نہیں ہے۔ البتہ اگر حفاظتی جال کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہو تو پنچایت اس سلسلے میں مناسب ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ آخر میں عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’یسوع مسیح ان پر مقدس بائبل، میتھیو 22:39 پر عمل کرنے کی برکتیں نازل کریں۔ درخواست گزار اور نویں جواب دہندہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہنگامی حالات میں سب سے پہلے مدد کیلئے پڑوسی ہی موجود ہوتے ہیں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، انہیں چاہیے کہ چائے یا کافی کے ایک کپ پر اس احمقانہ مسئلے سے پیدا ہونے والی دشمنی ختم کر دیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK