پیٹ کے امراض میں اضافہ ۔ اسہال ، قے ، چکر اور کمزوری کی شکایتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ڈاکٹروں نے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا مشورہ دیا
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 11:59 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
پیٹ کے امراض میں اضافہ ۔ اسہال ، قے ، چکر اور کمزوری کی شکایتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ڈاکٹروں نے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا مشورہ دیا
ممبئی میں شدید گرمی سےشہری متاثر ہورہے ہیں، خاص طور پر پیٹ کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ شہر کے ڈاکٹروں کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں آنتوں کے انفیکشن میں ۵۰؍فیصد اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہےکہ گرم لہروں، غیر مناسب خوراک اور پانی اور خراب طرز زندگی کی وجہ سے یہ خطرہ بڑھ رہا ہے۔گرمی کی وجہ سے لوگوںکے معدے میں انفیکشن کی تشخیص ہورہی ہے۔گرم لہر سے بیمار پڑنے والوں میں اسہال ،قے ،چکر اور کمزوری کی شکایتیں پائی جا رہی ہیں ۔
ایک حالیہ کیس میں ۲۵؍سالہ نوجوان نے پیٹ میں ابتدائی طور پر کچھ تکلیف محسوس کی۔ اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کو نظر انداز کر دیا لیکن اگلے ۲۴؍ گھنٹوں میں اس کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ صورتحال اتنی سنگین ہوگئی کہ اسے فوری طور پر اسپتال داخل کرانا پڑا ۔ معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے گرمی کی وجہ سے معدے میں انفیکشن کی تشخیص کی۔
مدنپورہ کے ڈاکٹر یونس سمرا کے مطابق ’’ موسم میں تبدیلی ،کبھی شدید گرمی اور پھر اچانک گرمی میں آنے والی کمی جیسی صورتحال سے جہاں بیماریوں میں مبتلا ہونے والے افرادکی تعداد بڑھی ہے وہیں ملیریا، چیچک اوروائرل انفیکشن ( سردی ،کھانسی )کے مریضوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ ‘‘
خیال رہے کہ گرمیوں میں زیادہ درجہ حرارت جراثیم کی تیزی سے نشوونما کا باعث بنتا ہے ۔ کھانے کے خراب ہونے کا امکان تیزی سے بڑھ جاتا ہے جس سے غذائی سمیت کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اگر آلودہ پانی یا کھلے میں ذخیرہ شدہ کھانا کھایا جائے تو انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ گرمی جسم میں پانی کی مقدار کو کم کر دیتی ہے یعنی پانی کی کمی، جس سے جسم کی قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے ۔اس وجہ سے انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔
تھانے کے ڈاکٹر پراگ دیشپانڈے نے کہا کہ ’’ جو لوگ سارا دن باہر کام کرتے ہیں، اسٹریٹ فوڈ کھاتے ہیں یا وقت پر کھانا نہیں کھاتے ہیں ان کو گرمی سے ہونے والی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے ۔ ایئرکنڈیشنڈ آفس میں کام کرنے والوںپر موسم میںمسلسل تبدیلی اور چلچلاتی دھوپ بھی ان کے جسم پر اثر ڈالتی ہے ۔ اس قسم کے انفیکشن کی علامات ابتدائی طور پر ہلکی ہوتی ہیں۔ متلی اور پیٹ میں ہلکا درد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اسہال، قے، بخار اور کمزوری جیسی شکایتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں بعض صورتوں میں مریضوں کو اسپتال میں داخل کرانے کی نو بت آسکتی ہے ۔‘‘
احتیاطی تدابیر:
گرمی کے دوران زیادہ پانی پینا بہت ضروری ہے ۔ روزانہ کم از کم ۳؍سے ۴؍لیٹر پانی پئیں اور اپنی غذا میں ناریل کا پانی، چھاچھ اور لیموں جیسی مشروب شامل کریں ۔ اگر ممکن ہو تو دن میں ۱۲؍ سے ۴؍بجے کے درمیان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ باہر جاتے وقت سرپر ٹوپی، چھتری یا اسکارف استعمال کریں ۔ اس کے علاوہ صاف اور تازہ کھانا کھانے پر توجہ دیں۔ کھلے یا غیر معیاری کھانے سے پرہیز کریں۔ اپنے ہاتھ دھونے اور پینے کیلئے صاف پانی کا استعمال کرنے کی عادت بنائیں۔
گرمیوں میں کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے
سڑک کے مشروبات پینے سے گریز کریں اور اگر ممکن ہو تو ناریل کا پانی پئیں، روزانہ تین سے چار لیٹر پانی پئیں، کھلے کھانے اور جنک فوڈ سے گریز کریں ۔تازہ اور گھر کا بنا ہوا کھانا کھائیں۔ متلی جیسی علامات کو نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔