Updated: February 10, 2026, 9:09 PM IST
| Lucknow
اتر پردیش پولیس نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے متعلق مبینہ طور پر قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں ایک صحافی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ پوسٹ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور مختلف طبقات کے درمیان نفرت پھیلانے کے ارادے سے کی گئی تھی۔
یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر: آئی این این۔
اتر پردیش پولیس نے مدھیہ پردیش کے ضلع اُجّین سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی مبینہ طور پر’قابلِ اعتراض‘ اور ’اشتعال انگیز‘تصویر فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ یہ مقدمہ پیر کو شہر کے تھانے میں درج کیا گیا جو بی جے پی کی ہنومان گنج منڈل یونٹ کے جنرل سیکریٹری امریش کمار پانڈے کی شکایت پر درج ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق، ملزم کی شناخت پون تیواری کے طور پر ہوئی ہے جس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ ۱۹۶(1)(بی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ دفعہ مذہب، نسل یا جائے پیدائش کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سی پی آئی (ایم) اور سی پی آئی نے آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی
پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کو اپ لوڈ کی گئی پوسٹ میں وزیر اعلیٰ کی ایک ’قابلِ اعتراض‘ تصویر کے ساتھ ایک ’متنازع کیپشن‘ شامل تھا۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ یہ مواد سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے، ایک مخصوص طبقے کو بھڑکانے اور بدامنی پھیلانے کے ارادے سے پوسٹ کیا گیا تھا۔ پون تیواری نے مبینہ طور پر فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں ایک تصویر تھی جس میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک برہمن کی چوٹی (چُٹیا) کھینچتے ہوئے دکھایا گیا تھا، اور اس کے ساتھ یہ کیپشن درج تھا:’’سنتوں کے دیس میں ایک راون نے قوم کی عزت تار تار کر دی۔ جو خود کو یوگی کہتے ہیں اور برہمن نوجوانوں کی چوٹی کھینچ کر انہیں جوتوں سے پٹواتے ہیں، سناتنی یہ کبھی نہیں بھولیں گے۔ ‘‘اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کشتج ترپاٹھی نے تصدیق کی کہ۳۵؍ سالہ پون تیواری کو پیرکو گرفتار کیا گیا اور بعد میں جیل بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: آئینی عہدوں پر فائز افرادکی زہر افشانی کیخلاف پٹیشن
اگرچہ وہ اصل میں ضلع بلیا کے سخپورہ تھانہ علاقے کے رہائشی ہیں، لیکن اس وقت اُجّین، مدھیہ پردیش میں مقیم ہیں، جہاں وہ بطور صحافی کام کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، پوسٹ اپ لوڈ کئے جانے کے وقت وہ ایک خاندانی شادی میں شرکت کیلئے اپنے آبائی گاؤں گئے ہوئے تھے، جس کے بعد یہ پوسٹ وائرل ہو گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔