Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقلیتی اداروں کو ’آرٹی ای‘ کے تحت لانے کی عرضداشت

Updated: May 12, 2026, 12:11 PM IST | Hamidullah Siddiqui | New Delhi

عدالت عظمیٰ نےبراہ راست حکم نہ جاری کرکے عرضی گزار کو مرکزی حکومت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

A Petition Related To RTE Was Heard On Monday, A File Photo Of The Supreme Court`s Main Building.Photo:INN
پیر کو آرٹی ای سےمتعلقہ عرضداشت پر شنوائی ہوئی ، سپریم کورٹ کی مرکزی عمارت کی فائل فوٹو-تصویر:آئی این این
 سپریم کورٹ نے پیر کے روز اہم عوامی مفاد کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اقلیتی تعلیمی اداروں اور مدرسہ تعلیم کو رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ(آرٹی ای ) کے دائرے میں لانے سے متعلق مطالبات پر براہِ راست کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے عرضی گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مطالبات کے سلسلے میں حکومت ہند سے رجوع کرے، جبکہ مرکز کو ہدایت دی گئی کہ وہ عرضی گزار کی نمائندگی پر غور کرکے مناسب فیصلہ لے۔یہ معاملہ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما کی ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت کے لئے پیش ہوا۔
عدالت نے اپنے مختصر حکم میں کہا کہ عرضی گزار کی ۴؍ فروری  ۲۰۲۶ء کی درخواست پر حکومت مناسب کارروائی کرے اور اپنے فیصلے سے عرضی گزار کو مطلع کرے۔ سماعت کے دوران جب عرضی گزار اور معروف وکیل اشونی اپادھیائے نے عدالت سے براہِ راست مداخلت اور ہدایات جاری کرنے کی درخواست پر زور دیا تو بنچ نے سخت مگر محتاط انداز میںکہا ’’آپ ایسے ججوں کے سامنے ہیں جو کافی محتاط اور روایتی سوچ رکھتے ہیں، ہم جلد بازی میں فیصلے نہیں کرتے‘‘۔ عدالت نے مزید کہا کہ انصاف یک طرفہ راستہ نہیں ہے، انتظامیہ کا بھی اس میں ایک اہم کردار ہوتا ہے‘‘۔
یہ مفاد عامہ کی عرضی سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے ایڈوکیٹ اشونی کمار دوبے کے ذریعے داخل کی تھی۔عرضی میں حکومت ہند، قومی انسانی حقوق کمیشن نئی دہلی اور ملک کی تقریباً تمام ریاستی حکومتوں سمیت متعدد فریقوں کو شامل کیا گیا تھا۔ ان میں اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو، تلنگانہ، آسام، گجرات، پنجاب، راجستھان، کیرالا، مدھیہ پردیش، جموں و کشمیر، اتراکھنڈ اور دیگر ریاستیں و مرکز کے زیر انتظام علاقے شامل تھے۔عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ  ۱۴؍ سال سے کم عمر کے بچوں کو سیکولر یا مذہبی تعلیم فراہم کرنے والے تمام اداروں کی رجسٹریشن، منظوری، نگرانی اور وقتاً فوقتاً جانچ کو لازمی بنایا جائے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل ۲۱؍اے، ۳۹؍ ایف،۴۵؍اور۵۱؍اے(کے) کی روح کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ ہر بچے کو معیاری اور محفوظ تعلیم فراہم کرے۔عرضداشت میں قومی انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ بعض اقلیتی اداروں اور مدارس میں غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعے تدریسی خدمات لی جا رہی ہیں، جبکہ انتظامی، تعلیمی اور مالی بے ضابطگیوں کی بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق ایسے حالات بچوں کے مستقبل کو متاثر کر سکتے ہیں، اسلئے ضروری ہے کہ ان اداروں کو رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے دائرے میں لاکر یکساں تعلیمی اور انتظامی معیار نافذ کیا جائے۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل  ۳۰؍اقلیتوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق ضرور دیتا ہے، لیکن یہ حق آرٹیکل ۱۹؍(۱)(جی) سے بالاتر یا اضافی نہیں ہے۔ لہٰذا اقلیتی اداروں کو مکمل استثنیٰ دینا آئینی مساوات کے اصول کے خلاف ہوگا۔ درخواست گزار نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے یوپی کے سرحدی اضلاع کا دورہ کیا، جہاں متعدد غیر رجسٹرڈ اور غیر منظور شدہ تعلیمی ادارے بغیر کسی نگرانی کے کام کرتے پائے گئے۔
 
دوسری جانب، اقلیتی اداروں اور مدارس سے وابستہ حلقوں میں اس عرضی کو مذہبی و آئینی حقوق میں مداخلت کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق آرٹیکل  ۳۰؍ کے تحت اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم اور چلانے کا بنیادی حق حاصل ہے، اور اس حق کے تحفظ سے متعلق متعدد عدالتی فیصلے پہلے ہی موجود ہیں۔سماعت کے دوران ٹیچرس اسوسی ایشن مدارس عربیہ کی جانب سے ایڈوکیٹ روہت استھالیکر بھی عدالت میں موجود تھے۔ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ یوپی نے سپریم کورٹ کے اس موقف کا خیر مقدم کیا ہے اور موجودہ رخ کو قابل ستائش قراردیاہے ۔ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری دیوان صاحب زماں خاں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے خود کوئی حکم نہ دے کر مدعی کو وزارت تعلیم حکومت ہند سے رجوع کرنے کو کہا ہے جس سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ کورٹ آئین کی دفعہ ۳۰ ؍میں اقلیتوں کو فراہم تعلیمی حقوق اور ’پرمتی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ بنام یونین آف انڈیا ۲۰۱۴ء‘ میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا احترام کرتی ہے ،جس میں پانچ معزز ججوں نے رائٹ ٹو ایجو کیشن ایکٹ کے اقلیتی اداروں پر نفاذ کو آئین کی دفعہ ۳۰ ؍کی خلاف ورزی قرار دیا تھا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK